کیا تھی میری خطا - مسرورتمنا۔
کیا تھی میری خطا -
مسرورتمنا۔
آج وہ کام بہت تیزی سے کر رہی تھی مریم آج کپڑے مت بھگونا
کل دھو ڈالونگی سارہ تمہارے پرسو پورے گھر کی دھلای کے بعد رضیہ برتن جلدی خالی کرو
زیبون تیزی سے ہاتھ چلا رہی تھی .ٹی وی پر فلم دیکھنے میں
وہ مزا کہاں جو باہر جانے میں ہے کیا بھابھی وہ چایے لے کر بولی.. بھابھی مسکرا دی
سارے کام ختم کرکے وہ تیزی سے باہر نکلنے لگی تم سب جلدی آجانا تیار ہو کر ورنہ فلم شروع ہوجاےگی
اچھا خالہ سب نے کہا
تو لبنی اور ماہی بولیں ہم بھی ہم بھی اور زیبون انہیں بھی ساتھ لے جاتی وہ عورتوں سے کاونٹر پر لڑ جھگڑ کر ٹکٹ نکالتی اور گھر کی مالکین بڑے آرام سے سنیما دیکھتیں
.... ... ... زیبون ایک غریب
عورت تھی دو جوان لڑکیاں تمو اور نمو تھیں . دوبیٹے بھی تھے جو باپ کے ساتھ رہتے شبو اور نوید
ایک چھوٹا بیٹا جسے وہ پیٹ میں لے کر آی تھی پیدا ہوتے ہی اپنی بھابھی کی بہن جو کبھی ماں نہیں بن سکتی تھی اسے دے دیا. ...
رزاق نے دوسری شادی کی تھی
سوتن اسے غلام بنا کر رکھنا چاہتی تھی مگر اس نے کہا
میں دوسروں کے گھر کام کرکے اپنا اور بچوں کا پیٹ پال لونگی
مگر اسکی نوکر نہیں بنونگی جسے میرا شوہر رات بھر لے کر سوتا رہے اورپھر وہ بہت سے گھروں میں کام کرنے لگی مگر جب احسان صاحب کا بھرا پرا گھر ملا تو سارا دن بلکہ رات تک ونہی گذارنے لگی وہ لوگ بھی اور انکے بچے بھی زیبون خالہ زیبون خالہ کہتے نا تھکتے ہر طرح سے اسکی مدد کرتے
زیبون کی تنخواہ ایک موٹی رقم
کی صورت میں ملتی اور ساتھ
ہی اسکے اور بچوں کے ہر خرچے پورے ہوتے .. ....
چونکے احسان صاحب نے گھر والوں پر پابندی لگا رکھی تھی کسی کے گھر آنا جانا نہیں ہے دل گھبراے مہینہ میں ہفتہ میں خالہ کے ساتھ سنیما چلی جاو اور پھر یہ معمول بن گیا گھر داری تو ہوتی رہتی چلو سنیما
زیبون کو انکے گھر کام کرتے کافی سال گذرگیے لڑکیوں نے.خود اپنی پسند سے شادی کی
ماٹی ملی باپ کی طرح عشق باذ نکلیں بس ایک حامد بچہ
کیسا ترقی کیا دلی میں ٹی وی پر کام ملا اللہ اسے سلامت رکھے
.....زیبون اپنے چھوٹے بیٹے کو دعایں دے رہی ٹھی جو اس سے
دور رہ کر بھی دل کے پاس تھا
................
زیبون نے چاۓ پیا ہی تھا
کے اچانک رزاق اپنی دوسری بیوی کے ساتھ اسکے پاس ایا
ارے تم لوگ کی اتنی ہمت
احسان صاحب کے گھر بھی آپہونجے
چل رے زیبون لینے ایا.تیرے کو
اوہ سوتن کی طرف دیکھ کر وہ
بولی کتنی بار بولی تیرے گھر نہیں جانا تیرے بیوی بچوں کی غلامی نہیں کرنی..
اچھا ان سب کی غلام بنکر بہت مزا آرہا تمھے
اے ذبان سنبھال کر احسان صاحب کی بیوی نے کہا زیبون ہمارے گھر کی فرد ہے اتنے سال کہاں تھےتم جب اس نے پیٹ کاٹ کر بچوں کو پالا شادیاں کی
اب ضرورت پڑی ہے
وہ بےشرمی سے بولا
ہاں دونوں بیٹا اپنی بیوی لے کر الگ ہوگیے ہم دونوں بوڑھے ہوگیے ھمارے دوسرے بچے بھی حال نہیں پوچھتے اسلیے ہار کر
آیا تھا کیا یہ تمھارا اخری فیصلہ ہے. .....
ماٹی ملا تیرے پانچ بچے پیدا کی بیٹا بھی دیا پھر بھی سوتن لایا ذندگی میں ایک گلاب
کا پھول بھی نہیں دیا میرے کو
اور اسکے واسطے گلاب کا بستر بنایا اور مجھے اڈر دیا گرم دودھ لا اچھا تو کبھی نہیں کیا میرے ساتھ نوکر بنا کر رکھا
پھر آج کیوں جاوں تیرے
ساتھ نوکر بنے واسطے
پہلا بھی یہی تھا آخری بھی یہی نا تو نا اور کبھی میرے سامنے مت انا اسکی آواز بھرای
وہ زیبون جو اپنے ذخموں کوچھپا کر سب کے لیے مسکراتی تھی
ہر ہفتہ سنیما کے ٹکٹ نکالتے وقت سب سے لڑ جاتی
کسی کی مالیش کرتی کسی کو
گھی بنا کر دیتی اور سب کے لیے اچھا کھانا ناشتہ گھر کا سارا کام ھنسں ہنس کر کردیا کرتی کبھی نا تھکتی کبھی نا رکتی اور
مگر آج رزاق کے جانے کے بعد وہ بلک بلک کر پھوٹ پھوٹ کر بین کر کر کے روی ماٹی ملا میرا
نصیب پھوڑ کر عیش کیا اور اب نوکر بنانے کا خواب لے کے ایا اسکو مجھ سے پیار نا تھا یہ بات سمجھنے میں کتنی دیر لگی وہ پھوت پھوٹ کر بلک بلک کر رورہی تھی
Comments
Post a Comment