ہندستان کی آزادی اور مسلمانوں کی قربانیاں۔۔۔ ازقلم : مولانا احمد بیگ ناندیڑ۔
ہندستان کی آزادی اور مسلمانوں کی قربانیاں۔۔
ازقلم : مولانا احمد بیگ ناندیڑ۔
ہر سال 15 اگست کو ہندوستان میں آزادی کا جشن منایا جاتا ہے، 15 اگست 1947 کو ہندوستان انگریزوں کی 200 سالہ غلامی کے بعد انگریزوں سے آزاد ہوا۔مسلمانوں نے آزادی کی بہت بڑی قیمت ادا کی۔آزادی کے لئے سب سے زیاد خون مسلمانوں نے بہایا ہے لیکن آزادی کے بعد مسلمانوں کو ہی نظر انداز کر دیا ہیں۔آئیے آزادی کی تاریخ پرایک نظر ڈالتے ہیں۔انگریز تجارت کے بہانے سے ہندوستان آئے اور آہستہ آہستہ یہاں اپنے پیر جمانے لگے۔انہوں نے دیکھا کہ ہندوستان کئی ریاستوں میں بٹا ہوا ہے،تمام بادشاہ ایک دوسرے کے خلاف ہیں اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انگریزوں نے کئی ریاستوں پر قبضہ کر لیا۔1757 میں بنگال کے نواب سراج الدولہ کے ساتھ لڑائی ہوئی۔پلاسی کی اس لڑائی میں انگریزوں کو زبردست کامیابی ملی،نواب سراج الدولہ اِس جنگ میں شہید ہو گئے اِس سے انگریزوں کے حوصلے اور بلند ہو گئے۔1799 میں انگریزوں نے میسور کے بادشاہ حضرت ٹیپو سلطان کو بھی شہید کر دیا۔ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد انگریزوں نے کہا اب ہندوستان ہمارا ہوا۔ہندوستان پر 1757 سے1947 تک 200 سال انگریزوں کی حکومت رہی ہے۔ برطانوی حکومت نے کئی ریاستوں میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے قوانین کو نافذ کیا 1857 کی جنگ میں انگریزوں نے دہلی کے لال قلعے پر برطانوی پرچم لہرایا۔یہ دیکھ کر آزادی کی چنگاری شعلے بنکر اٹھی اور ہندو مسلمان مل کر آزادی کی جدو جہد میں شامل ہوگئے، انگریزوں نے دیکھا کہ ہندو مسلمان مل کر آزادی کی لڑائی لڑ رہے ہیں تو وہ سمجھ گئے کہ اب ان کی حکومت زیادہ دنوں تک چلنے والی نہیں ہے،ہندو مسلم اتحاد کو توڑ کر آزادی کی تحریک کو روکنا ہوگا،یا پھر مُلک چھوڑنا ہوگا۔برطانوی حکومت نے آزادی کی تحریک کو دبانے کی بہت کوشش کی لیکن نا کام ہوے،بالآخر انگریز ہندوستان چھوڑ نے کے لیے تیار ہو گئے۔انڈیپنڈنٹ انڈیا ایکٹ1947 پاس کرکے بھارت کی آزادی کا اعلان کیا،جانے سے پہلے انگریزوں نے مُلک کو مذہب کے نام پر دو حصوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ہندوستان سے ایک اور مُلک پاکستان بنایا،کل تک جو لوگ انگریزوں کو ملک سے بھگانا چاہتے تھے اب وہی لوگ ہندو مسلم کے نام پر ملک میں لڑنے لگے، مسلمان ملک بٹوارے کے خِلاف تھے مُلک کی تقسیم کے خلاف تھے لیکن انگریز اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے،جو مسلمان بھارت سے پاکستان جا رہے تھے اُنکو روکنا تھا، گاندھی جی نے مولانا ابوالکلام آزاد سے کہا کہ وہ اُنکو پاکستان جانے سے روکیں مولانا کلام نے گاندھی جی کی بات مانتے ہوئے دہلی کی تاریخی جامع مسجد سے ایک بیان دیا ’’اے مسلمانو کہاں جا رہے ہو،یہ ملک تمہارا ہے،یہاں پر تمہارے بزرگوں کی قبریں ہیں،تمہارے کھیت ہیں،تمہارے مساجد اور مدارس ہیں،ان کو چھوڑ کر کہاں جا رہے ہو،ہمارے بزرگوں نے ملک کی آزادی کے لیے اپنا خون پسینہ بہایا ہے،اپنی جانوں کی قربانی دی ہیں،لاکھوں مسلمان شہید ہوئے ہیں،یہاں پر دہلی کی جامع مسجد ہے،لال قلعے کی مضبوط دیواریں ہیں، تاج محل کی خوبصورتی ہے،قطب مینار کی بلندی ہے،یہ سب تم کو پکار کر کہہ رہے ہیں کہ مسلمانوں ہمیں چھوڑ کر مت جاؤ،ہم کو ایسے ویران مت کرو،مولانا آزاد نے کہا کہ ملک میں ایک قانون بنایا جائےگا۔وہ سیکولر قانون ہوگا، مُلک میں رہنے والے ہر شہری کو برابری کا حق حاصل ہوگا۔ہماری مساجد نمازوں سے آباد ہونگی۔ہمارے مدارس،اسکول،کالج، تعلیم سے آباد رہینگے، ہماری جان و مال یہاں پر محفوظ رہےگی،اس ملک کو چھوڑکر مت جاؤ یہ ملک تمھارا ہے، تُم اس ملک کے اصل حقدار ہو،یہ وہ تقریر تھی جو مولانا آزاد نے دہلی کی جامع مسجد سے پاکستان جانےوالے مسلمانوں کے سامنے کی تھی،یہ تقریر سن کر لاکھوں مسلمان پاکستان جانے سے روک گئے اور یہیں ہندوستان میں رہ گئے۔26 جنوری 1950 کو ہندوستان میں سیکولر قانون نافذ ہُوا اور سیکولر بھارت کی ایک نئی شروعات ہوئی۔یہاں رہنے والے تمام لوگوں کو اپنے اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا حق دیا،تعلیم حاصل کرنے اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی دی گئی،26 جنوری 1950 کو سیکولر آئین کے ساتھ ایک نئے بھارت کا آغاز ہوا،آج مُلک کو آزاد ہوئے 80 سال ہو رہے ہیں،آج مسلمانوں کے دِل میں سوالات پیدا ہو رہے ہیں کہ ہم نے آزادی کی لڑائی کیوں لڑی تھی؟ مُلک کی آزادی سے مسلمانوں کو کیا ملا؟ پاکستان کی مخالفت کرکے ہم نے صحیح کیا تھا یا غلط؟ آج مُلک کا ہر مسلمان ان سوالوں کے جواب تلاش کر رہا ہیں،مُلک کی آزادی کے لئے اتنی قربانیاں دینے کے بعد ہم سے وفاداری کا ثبوت مانگا جاتا ہیں،ہم کو شک کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے،مہاتما گاندھی، مولانا ابوالکلام آزاد، پنڈت جواہر لعل نہرو نے بھارت کےمسلمانوں سے کیا وعدہ کیا تھا؟ کہ ملک سیکولر ہوگا، مُلک کا آئین سیکولر ہوگا،سب کو برابری کا حق ہوگا،کسی کے ساتھ کوئی نا انصافی نہیں ہوگی،ملک میں سب محفوظ ہونگے، کہاں پر ہے وہ وعدہ؟آج نواب سراج الدولہ، حضرت ٹیپو سلطان، حیدرعلی،بہادر شاہ ظفر،بیگم حضرت محل،مولانا احمد اللہ شاہ،خان عبدالغفار خان،اشفاق اللہ خان، ڈاکٹر مختار احمد انصاری،رفیع احمد قدوائی،محمد علی جوہر،شوکت علی جوہر،ڈاکٹر ذاکر حسین،مولانا حُسین احمد مدنی،مولانا عبیداللہ سندھی،مولانا محمود الحسن دیوبندی،مولانا ابوالکلام آزاد،ان تمام مسلم مجاہدین اور لاکھوں مسلمانوں کی قربانیاں یاد آتی ہے،ہم نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ آزادی کے بعد ملک اِتنا جلدی ہماری قربانیوں کو بھول جائےگا۔آج مُلک میں مسلمانوں کی جان، مال،ایمان،عزت،اسکولکالج،مسجد، مدرسے، درگاہیں،یونیورسٹیاں، وقف املاک کُچھ بھی محفوظ نہیں ہیں، آزادی کے بعد سے آج تک مرکز اور ریاستوں میں جتنی بھی حکومتیں اقتدار میں آئیں ہیں اُنہوں نے مسلمانوں کے لیے کچھ بھی نہیں کیا ہے، صرف ہمارے ووٹوں کا استعمال کیا اور ہم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے،کیااسی کو آزادی کہتے ہیں؟ کیا ایسی آزادی کے لئے ہم نے اپنا خون بہایا ہے؟ آج ہمارے کھانے پینے،پڑھنے،لکھنے، عبادت کرنے،خواتین اور لڑکیوں کے حجاب پہننے اور دین اسلام پر آزادی سے عمل کرنے کے ہمارے قانونی آزادی کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں۔کیا واقعی میں ہم آزاد ہیں؟ کیا ہماراملک آزاد ہے؟ اس بارے میں ہم سب کو سوچنا ہوگا،جئے ہند.
Comments
Post a Comment