غزواتِ نبوی ﷺ سے حاصل ہونے والے اسباق کو عملی زندگی میں اپنایا جائے: مولانا سید شاہ من اللہ علوی شطاری۔
بیدر، 23 اگست (نامہ نگار) غزواتِ نبوی ﷺ محض تاریخی واقعات نہیں بلکہ ان میں امتِ مسلمہ کے لیے دینی، تعلیمی، معاشی، معاشرتی اور اخلاقی زندگی کے بے شمار اسباق پوشیدہ ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مولانا سید شاہ من اللہ علوی شطاری، معتمدِ عمومی آل انڈیا مشائخ بورڈ حیدرآباد نے نبی خانہ مبارک بیدر میں،ڈاکٹر قاضی سید سراج الدین عمران قادری کی سر پرستی میں، ڈاکٹر الحاج سید حسام الدین قادری عزیر، صدر قاضی بیدر کی نگرانی میں منعقدہ آٹھویں محفلِ میلاد النبی ﷺ میں ’’غزوات سے حاصل ہونے والے اسباق‘‘ کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا سید شاہ من اللہ علوی شطاری نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ کا ایک چھوٹا سا پہلو بھی اگر غور و فکر سے سمجھ لیا جائے تو وہ ہماری پوری زندگی کی ہدایت کے لیے کافی ہے۔ غزوات کا ذکر جنگ و جدال کی ترغیب کے لیے نہیں بلکہ ان سے حاصل ہونے والے عملی اسباق کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام تلوار کے زور سے دلوں میں داخل نہیں ہوا، کیونکہ تلوار سے سر جھکایا جاسکتا ہے، دل نہیں؛ اسلام کی اصل قوت رحمت، اخلاق، عدل، انسانیت نوازی اور اللہ تعالیٰ کی نصرت ہے۔ غزوۂ بدر سے حاصل ہونے والے سبق کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے پاس وسائل محدود تھے، لیکن مشاورت، بہترین حکمتِ عملی اور اللہ تعالیٰ کی نصرت نے فتح عطا فرمائی۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ وسائل کی کمی کی وجہ سے ہمت نہیں ہارنی چاہیے بلکہ تدبیر، منصوبہ بندی اور دستیاب وسائل کے درست استعمال سے کامیابی کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ یہی اصول تعلیم، تجارت، کاروبار اور زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان نوجوان تعلیم اور کاروبار کے میدان میں دوسروں سے مرعوب ہونے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔ محدود وسائل کے باوجود محنت، حکمتِ عملی اور مستقل مزاجی کے ذریعے بڑے اہداف حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ غزوۂ اُحد سے حاصل ہونے والے سبق کو بیان کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ قلیل مدتی فائدے کے لیے طویل مدتی مفاد کو قربان نہیں کرنا چاہیے۔ وقتی فائدہ بظاہر خوشی دے سکتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں بڑا نقصان بھی ہوسکتا ہے۔ طالب علم صرف امتحان پاس کرنے کے لیے رٹنے کے بجائے مضمون کو گہرائی اور بنیادی تصورات کے ساتھ سمجھیں تاکہ حاصل کیا ہوا علم عملی زندگی میں بھی کام آئے۔ اسی طرح کاروبار میں بھی وقتی منافع کے لیے جھوٹ یا غلط بیانی سے کام لینا طویل مدت میں نقصان کا باعث بنتا ہے۔ غزوۂ خندق کے حوالے سے انہوں نے مشاورت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورے کو رسول اللہ ﷺ نے قبول فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اچھا مشورہ دینے والا عمر یا مقام کے اعتبار سے بڑا نہ بھی ہو، لیکن اس کا مفید مشورہ قبول کرنا عظیم قیادت کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خندق کا مشورہ صرف جنگی حکمتِ عملی نہیں بلکہ نئی ٹیکنالوجی اور مفید جدت کو قبول کرنے کا بھی سبق دیتا ہے۔ آج کمپیوٹر، انٹرنیٹ، روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کا دور ہے، لہٰذا مسلمان نوجوان ان جدید علوم اور ٹیکنالوجیز سے استفادہ کریں، بشرطیکہ وہ شریعت و اخلاقی اصولوں سے متصادم نہ ہوں۔ غزوۂ حنین سے حاصل ہونے والے سبق کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلسل کامیابیوں کے نتیجے میں انسان کبھی کبھی حد سے بڑھی ہوئی خود اعتمادی کا شکار ہوجاتا ہے۔ کامیابی کو صرف اپنی صلاحیت کا نتیجہ سمجھنا درست نہیں، بلکہ حقیقی کامیابی اللہ تعالیٰ کی نصرت سے حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ اسکول کی کامیابیوں کو اپنی آخری صلاحیت نہ سمجھیں بلکہ بڑے امتحانات اور عملی زندگی کے تقاضوں کے لیے خود کو تیار کریں، اپنی کمزوریوں کا جائزہ لیں اور اساتذہ و مربیان کی رہنمائی حاصل کریں۔ غزوۂ تبوک کے حوالے سے مولانا نے صبر، استقامت، صداقت اور قربانی کا درس بیان کرتے ہوئے کہا کہ سخت حالات اور مشکلات کے باوجود صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ ﷺ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ امت کو درپیش تعلیمی خلا، معاشی انحصار اور اندرونی اختلافات جیسے طویل مدتی چیلنجز کا مقابلہ صبر، منصوبہ بندی، اتحاد اور مسلسل محنت سے کرنا ہوگا۔ انہوں نے فتحِ مکہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے طاقت حاصل ہونے کے باوجود انتقام کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ عفو و درگزر کا عظیم نمونہ پیش فرمایا۔ جن لوگوں نے آپ ﷺ کو تکلیفیں دیں اور مخالفت کی، ان کے ساتھ بھی رحم و کرم کا معاملہ فرمایا۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ طاقت کا اصل حسن انتقام نہیں بلکہ معافی اور دلوں کو جیتنا ہے۔ مولانا سید شاہ من اللہ علوی شطاری نے کہا کہ غزواتِ نبوی ﷺ کے واقعات کو صرف تاریخ کے طور پر نہیں بلکہ اپنی عملی زندگی کے لیے رہنمائی کے طور پر پڑھنا چاہیے۔ تدبیر کے ساتھ توکل، مشاورت، مفید ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال، قلیل مدتی فائدے کے بجائے طویل مدتی مفاد، حد سے بڑھی خود اعتمادی سے اجتناب، صبر و استقامت، صداقت اور عفو و درگزر وہ نمایاں اسباق ہیں جنہیں اپنا کر مسلمان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ طیبہ اور غزواتِ نبوی ﷺ سے حاصل ہونے والے اسباق کو سمجھنے اور عملی زندگی میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
Comments
Post a Comment