محسنِ انسانیت ﷺ - از قلم : رہبر تماپوری۔
محسنِ انسانیت ﷺ -
از قلم: رہبر تماپوری۔
مہمان معلم، جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم
جامعہ نگر، تماپور، تعلقہ شوراپور، ضلع یادگیر، ریاستِ کرناٹک
رابطہ: 8431012141
انسانی تاریخ میں بہت سی شخصیات نے اپنے علم، کردار اور کارناموں سے دنیا کو متاثر کیا، مگر پوری انسانیت کے حقیقی محسن کا مقام صرف حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو حاصل ہے۔ آپ ﷺ کی بعثت کسی خاص قوم، خطے یا زمانے کے لیے نہیں ہوئی، بلکہ آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾، یعنی ’’ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے۔‘‘ یہی رحمت آپ ﷺ کی پوری زندگی کا بنیادی وصف اور انسانیت پر آپ ﷺ کا سب سے بڑا احسان ہے۔
انسانی مساوات کا علمبردار :
آپ ﷺ وپ وپپ. کی بعثت سے پہلے عرب معاشرہ قبائلی تعصب، طبقاتی امتیاز اور ظلم کی گرفت میں تھا۔ انسان کی عزت اس کے قبیلے، دولت اور طاقت سے وابستہ سمجھی جاتی تھی۔ آپ ﷺ نے اس تصور کو بدل کر انسان کو انسان کی حیثیت سے عزت دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر فضیلت نہیں، فضیلت کا معیار تقویٰ ہے۔
حضرت بلالؓ، جو کبھی غلام تھے، آپ ﷺ کی تربیت سے ایسے بلند مقام پر پہنچے کہ اسلام کی تاریخ میں ان کا نام عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔ اس طرح آپ ﷺ نے عملی طور پر ثابت کیا کہ انسان کی قدر اس کے رنگ، نسل اور خاندان سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور تقویٰ سے ہوتی ہے۔
خواتین اور کمزوروں کے محافظ :
آپ ﷺ نے عورت کو وہ عزت اور حقوق عطا کیے جن سے وہ محروم تھی۔ بیٹی کو باعثِ عار سمجھنے والے معاشرے کو آپ ﷺ نے بیٹیوں کی پرورش کو باعثِ اجر قرار دیا۔ ماں کے مقام کو بلند کیا، بیویوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی اور عورت کے مالی و معاشرتی حقوق کو تسلیم کیا۔
اسی طرح یتیموں، مسکینوں، غلاموں، محتاجوں اور کمزوروں کے حقوق کی حفاظت پر بار بار زور دیا۔ آپ ﷺ نے معاشرے کے کمزور فرد کو بھی عزتِ نفس اور بنیادی حقوق کا مستحق قرار دیا۔ یوں آپ ﷺ نے ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جس میں طاقتور کے ساتھ کمزور کی آواز بھی سنی جاتی تھی۔
رحمت، عفو اور اخلاقِ کریمانہ :
آپ ﷺ کی رحمت کا سب سے روشن مظہر فتحِ مکہ کا واقعہ ہے۔ وہی لوگ جنہوں نے آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہؓ کو برسوں تک تکلیفیں دیں، ظلم کیا اور وطن چھوڑنے پر مجبور کیا، جب مغلوب ہوکر آپ ﷺ کے سامنے کھڑے تھے تو انتقام لینے کی طاقت ہونے کے باوجود آپ ﷺ نے عام معافی کا راستہ اختیار فرمایا۔ یہ انسانی تاریخ میں عفو و درگزر کی بے مثال مثال ہے۔
واقعۂ طائف بھی آپ ﷺ کی رحمت کی عظیم تصویر پیش کرتا ہے۔ اہلِ طائف نے آپ ﷺ کو سخت اذیت دی، مگر آپ ﷺ نے ان کے لیے بددعا کے بجائے ہدایت کی امید رکھی۔ آپ ﷺ کا یہ کردار بتاتا ہے کہ حقیقی محسن وہی ہے جو بدسلوکی کے جواب میں بھی خیر خواہی کا دامن نہ چھوڑے۔
آج کے انسان کے لیے پیغام :
آج انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں بے مثال ترقی کرلی ہے، مگر نفرت، جنگ، تعصب، ظلم، خود غرضی اور عدمِ برداشت اب بھی انسانیت کو زخمی کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے دور میں زبان کی سختی، کردار کشی اور جھوٹی خبروں نے معاشرتی تعلقات کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایسے ماحول میں سیرتِ طیبہ ﷺ ہمیں سچائی، امانت، برداشت، احترامِ انسانیت اور ذمہ دارانہ گفتگو کا درس دیتی ہے۔
اگر ہم آپ ﷺ کی تعلیمات کو صرف میلاد کی محفلوں اور تقریروں تک محدود رکھنے کے بجائے اپنے کردار، معاملات اور معاشرت میں جگہ دیں تو گھروں میں محبت، معاشرے میں انصاف اور دنیا میں امن کی فضا قائم ہوسکتی ہے۔
حاصلِ کلام :
محسنِ انسانیت ﷺ نے انسان کو اس کا بھولا ہوا مقام یاد دلایا، اسے رب سے جوڑا، حقوق و فرائض کا شعور دیا اور اخلاق و کردار کی بلندی کا راستہ دکھایا۔ آپ ﷺ نے صرف ایک قوم کی اصلاح نہیں کی بلکہ انسانیت کو ایک ایسا ضابطۂ حیات عطا فرمایا جس میں عدل بھی ہے، رحمت بھی؛ مساوات بھی ہے، محبت بھی؛ اور دنیا کی بھلائی بھی، آخرت کی کامیابی بھی۔
حقیقت یہی ہے کہ آپ ﷺ کی رحمت کا دائرہ کسی ایک زمانے تک محدود نہیں؛ جب تک انسانیت باقی ہے، آپ ﷺ بحیثیتِ محسنِ انسانیت اس کے لیے ہدایت کا روشن چراغ رہیں گے۔
Comments
Post a Comment