پنکجا مُنڈے کا "ایگزٹ" بیان: کیا مہاراشٹر کی سیاست ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے؟ ازقلم : سید فاروق احمد قادری۔
پنکجا مُنڈے کا "ایگزٹ" بیان: کیا مہاراشٹر کی سیاست ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے؟
ازقلم : سید فاروق احمد قادری۔
مہاراشٹر کی سیاست میں بعض اوقات ایک بیان بھی ایسا سیاسی زلزلہ پیدا کر دیتا ہے جو کئی دنوں تک بحث و مباحثے کا موضوع بن جاتا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سینئر رہنما اور ریاستی وزیر پنکجا مُنڈے کی جانب سے سیاست سے "ایگزٹ" یا کنارہ کشی کی خواہش کے اظہار نے بھی کچھ ایسا ہی ماحول پیدا کیا ہے۔ ان کے اس بیان نے نہ صرف بی جے پی بلکہ پوری ریاست کی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔
پنکجا مُنڈے کا تعلق مہاراشٹر کے اس سیاسی خاندان سے ہے جس نے گزشتہ تین دہائیوں میں خصوصاً مراٹھواڑہ اور بیڑ ضلع کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ان کے والد، گوپی ناتھ مُنڈے، بھارتیہ جنتا پارٹی کے قدآور رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ 1995 سے 1999 تک، جب شیو سینا–بی جے پی اتحاد کی حکومت برسرِ اقتدار تھی، وہ مہاراشٹر کے نائب وزیرِ اعلیٰ رہے۔ اس دور میں ابتدا میں منوہر جوشی اور بعد ازاں نارائن رانے وزیرِ اعلیٰ تھے۔ بعد میں گوپی ناتھ مُنڈے قومی سیاست میں آئے، لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے اور مرکزی حکومت میں اہم وزارتوں کی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں۔
مہاراشٹر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی تنظیم کو مضبوط بنانے میں مرحوم پرمود مہاجن اور گوپی ناتھ مُنڈے کی جوڑی کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ پرمود مہاجن ایک غیر معمولی تنظیم کار اور دور اندیش سیاسی حکمتِ عملی کے ماہر تھے، جبکہ گوپی ناتھ مُنڈے عوامی سیاست کے مضبوط رہنما تھے۔ دونوں نے مل کر مہاراشٹر میں بی جے پی کو گاؤں گاؤں تک پہنچایا، کارکنوں کی ایک مضبوط صف تیار کی اور پارٹی کو ایک طاقتور سیاسی قوت بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی مضبوط سیاسی بنیاد بعد میں مُنڈے خاندان کی نئی نسل کے لیے بھی سرمایہ ثابت ہوئی۔
والد کی وفات کے بعد پنکجا مُنڈے نے سیاسی وراثت کو سنبھالا اور اپنی صلاحیتوں کی بدولت بی جے پی کی نمایاں خاتون رہنماؤں میں شامل ہو گئیں۔ وہ ریاستی حکومت میں وزیر بھی رہیں اور مراٹھواڑہ میں پارٹی کا مضبوط چہرہ بن کر ابھریں۔ تاہم 2019 کے اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد ان کا سیاسی سفر ایک مشکل مرحلے سے گزرا۔ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر عام رہا کہ وہ کچھ برسوں تک پارٹی کی مرکزی سیاست میں پہلے جیسی اہم حیثیت حاصل نہ کر سکیں، اگرچہ بعد میں بی جے پی قیادت نے دوبارہ انہیں اہم ذمہ داریاں دیں اور وہ ایک مرتبہ پھر سرگرم کردار ادا کرنے لگیں۔
ایسے ماحول میں جب پنکجا مُنڈے نے ایک عوامی پروگرام میں سیاست سے ایگزٹ یا کنارہ کشی کی خواہش ظاہر کی تو اس بیان نے مہاراشٹر کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور مبصرین نے اس بیان کو اپنے اپنے انداز میں دیکھا۔
Comments
Post a Comment