افسانہ - گھر واپس آ جاؤ - ازقلم : رہبر تماپوری۔
افسانہ -
گھر واپس آ جاؤ -
ازقلم : رہبر تماپوری۔
مہمان معلم، جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم، جامعہ نگر، تماپور، ضلع یادگیر، ریاستِ کرناٹک، انڈیا
رابطہ: 8431012141
شہر کے تنگ کمرے میں کھڑکی کا ایک پٹ کھلا تھا۔ ریاض نے عینک اتار کر میز پر رکھی۔ سامنے گریجویشن کی کتاب اور دفتر کی فائلیں پڑی تھیں۔
گیارہ بجے موبائل بج اٹھا۔ اسکرین پر نام روشن ہوا: امی۔
ریاض نے کال اٹھا لی۔
"السلام علیکم، امی!"
"وعلیکم السلام، ریاض۔ خیریت ہے بیٹا؟ آواز اتنی بوجھل کیوں ہے؟"
"کچھ نہیں امی، بس کام زیادہ تھا۔ دوا لے لی؟"
"ہاں، لے لی۔ تو نے کھانا کھایا؟"
وہ مسکرایا، "جی امی، کھا لیا۔"
"کیا؟"
"روٹی اور سبزی۔"
ماں کی آواز نرم پڑ گئی۔
"بیٹا، مجھ سے جھوٹ مت بول۔ ندیم بتا رہا تھا کہ تو اکثر رات کو صرف چائے پی کر سو جاتا ہے۔"
ریاض نے نظریں جھکا لیں۔
"امی، وہ پرانے دن تھے۔ اب نوکری پکی ہوگئی ہے، تنخواہ بھی بڑھ گئی ہے۔"
"تنخواہ بڑھ گئی، مگر تو کم ہوتا جا رہا ہے۔"
"آپ اپنی طبیعت بتائیں۔"
ماں نے کہا، "بلڈ پریشر کبھی اوپر، کبھی نیچے۔ رات کو ذرا سی آہٹ ہو تو آنکھ کھل جاتی ہے۔"
ماں نے کہا، "ہاں، مگر وہ بچیاں ہیں۔ تیرے ابا کے بعد گلی کے لوگوں کی نظریں بھی بدل گئی ہیں۔ مجھے کچھ ہوجائے تو انہیں کس کے بھروسے چھوڑوں؟"
"امی، فکر نہ کریں۔ میں ہوں نا۔"
ماں نے دھیرے سے پوچھا، "تو کہاں ہے، بیٹا؟ گھر کب واپس آؤ گے؟"
ریاض خاموش رہا۔
"امی… ابھی بہت سی ذمہ داریاں باقی ہیں۔ چھوٹی کی شادی کے لیے کچھ رقم جمع کرنی ہے۔ پھر آ جاؤں گا۔"
"تم ہر بار کوئی نہ کوئی بات کہہ دیتے ہو۔"
"مجبوری ہے، امی۔"
"مجبوری ہے یا عادت؟"
والد کے انتقال کو آٹھ سال گزر چکے تھے، مگر آخری دن اس کی آنکھوں کے سامنے تھا۔
والد نے کمزور ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہا تھا، "ریاض، گھر کو بکھرنے نہ دینا۔ بہنوں کو پڑھانا، ان کے ہاتھ پیلے کرنا… مگر اپنی زندگی بھی مت بھولنا۔"
"ابا، آپ ٹھیک ہوجائیں گے۔"
ان کے جانے کے بعد رشتے داروں کے وعدے بھی ختم ہوگئے۔ ریاض نے کالج کی کتابیں ایک طرف رکھ دیں۔
ماں نے پوچھا، "پڑھائی چھوڑ دے گا؟"
"کچھ دن کے لیے۔ پہلے گھر سنبھالنا ہے۔"
"یہ کچھ دن کہیں برس نہ بن جائیں۔"
"آپ فکر نہ کریں، میں سب سنبھال لوں گا।"
اس نے سب سنبھال لیا، مگر خود کو نہیں۔
پہلا سال بھوک، اوور ٹائم اور تنہائی میں گزرا۔ تنخواہ آتی تو زیادہ تر گھر چلی جاتی۔ ایک رات اس نے خالی پلیٹ سامنے رکھی، پانی پیا اور لیٹ گیا۔
پھر وہی آواز آئی، "بیٹا… گھر واپس آ جاؤ۔"
ریاض نے آنکھیں بند کرلیں۔
"ابھی نہیں امی۔"
"کیوں؟"
"ابھی گھر کی ذمہ داریاں پوری کرنی ہیں۔"
ماں خاموش ہوگئی۔
"اور پھر؟"
ریاض کے ہونٹ بند ہوگئے۔
"پھر تیرے پاس میرے لیے کیا بچے گا، بیٹا؟"
یہ سوال اس کے سینے میں اتر گیا۔
وقت گزرتا رہا۔ بڑی بہن اپنے گھر کی ہوگئی۔ ریاض نے دن رات محنت کرکے چھوٹی کی شادی کے اخراجات بھی پورے کر دیے۔ اسی دوران ترقی مل گئی۔
رات کو اس نے ماں کو فون کیا۔
"امی! میری ترقی ہوگئی۔"
"مبارک ہو، بیٹا۔"
"آپ خوش نہیں ہوئیں؟"
"بہت خوش ہوں۔ مگر بیٹا بڑا ہوگیا ہے، ماں کی دہلیز اب بھی خالی ہے۔"
ریاض کی آنکھیں بھر آئیں۔
"امی، اب واقعی کوئی بڑی ذمہ داری باقی نہیں۔ بس کچھ کام سمیٹ لوں، پھر واپس آ جاؤں گا۔"
"یہ آخری بہانہ ہے؟"
"بہانہ نہیں، وعدہ ہے۔"
ماں نے دھیرے سے کہا، "اللہ کرے یہ وعدہ میرے نصیب میں ہو۔"
ایک رات ریاض نے خود فون کیا۔
"امی، کیا کر رہی ہیں؟"
"صحن میں بیٹھی ہوں۔"
"اکیلی؟"
"ہاں۔"
کچھ دیر خاموشی رہی۔
ماں نے پوچھا، "اب تو گھر واپس آ جاؤ۔"
اس بار ریاض کے پاس کوئی بہانہ نہیں تھا۔
"میں آ جاؤں گا۔"
"کب؟"
اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔
"جلد۔"
ماں ہلکے سے ہنسی۔
"یہ لفظ تم نے مجھے آٹھ سال میں کتنی بار کہا ہے؟"
وہ جواب نہ دے سکا۔
اگلی صبح اس نے چھٹی کی درخواست لکھ دی۔
مگر روانگی سے پہلے موبائل پھر بج اٹھا۔ اسکرین پر وہی نام تھا: امی۔
"السلام علیکم، امی!"
دوسری طرف چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر دھیمی آواز آئی، "ریاض… آج دروازے پر بیٹھ کر تیرا انتظار کر رہی تھی۔"
"امی، میں آ رہا ہوں۔"
"سچ؟"
"اس بار سچ۔"
"کتنی دیر میں؟"
ریاض نے آنکھیں بند کرلیں۔
"بس… جتنا وقت گھر تک پہنچنے میں لگتا ہے، امی۔"
فون بند ہوگیا۔
ریاض نے فائلیں ایک طرف کیں، گریجویشن کی کتاب بند کی اور بیگ اٹھا لیا۔
شہر کا شور پیچھے رہ گیا۔ اس کے ذہن میں آواز تھی:
"بیٹا… گھر واپس آ جاؤ۔"
اس کے دل میں دبی خواہش پھر سے جاگ اٹھی۔
اسے محسوس ہوا کہ برسوں سے کھویا ہوا گھر اسے پکار رہا ہے۔
اور اس بار وہ آواز اسے روک نہیں رہی تھی۔
وہ اسے گھر بلا رہی تھی۔
Comments
Post a Comment