اردو میڈیم اساتذہ کی بھرتی کے سلسلے میں وزیرِ اعلیٰ کرناٹک کو درخواست - کلیان کرناٹک علاقہ میں اردواساتذہ کے تقررپر - خصوصی توجہ کے لئے خواجہ فریدالدین انعامدار کامکتوب۔



 کلبرگی ۔ 14/اگست (راست ) سوشیل ایکٹویسٹ جناب خواجہ فریدالدین انعامدار ساکن گلبرگہ شریف نے وزیراعلیٰ کرناٹک ڈی کے شیوکمارکو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے مطالبہ کیاہے کہ 15/ہزار اساتذہ کی بھرتی میں اردو میڈیم اسکولوں کے لئے مناسب تعداد میں اساتذہ کی نشستیں مختص کرتے ہوئے آئین کی دفعہ 371(J)کے تحت کلیان کرناٹک علاقہ میں اردواساتذہ کی بھرتی پرخصوصی توجہ دیں ۔ جناب خواجہ فریدالدین انعامدار کا مکتوب کچھ اس طرح ہے ۔ 
 محترم وزیرِ اعلیٰ ، میں نہایت ادب و احترام کے ساتھ آپ کی خدمت میں یہ درخواست پیش کرنا چاہتا ہوں کہ حکومتِ کرناٹک کی جانب سے سرکاری اسکولوں میں پندرہ ہزار اساتذہ کی بھرتی کا جو اہم فیصلہ کیا گیا ہے، وہ یقیناً قابلِ ستائش قدم ہے۔اس فیصلے سے ریاست کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کو دور کرنے اور ہزاروں طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔تاہم، میں آپ کی توجہ ایک نہایت اہم اور سنجیدہ مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔اردو میڈیم سرکاری اسکولوں کے لیے اس بھرتی میں مناسب تعداد میں اساتذہ کی نشستیں مختص کیے جانے کی واضح ضرورت ہے۔یہ تشویش کا باعث ہے کہ پندرہ ہزار اساتذہ کی موجودہ بھرتی میں اردو میڈیم اسکولوں کی حقیقی ضرورت کے مطابق مناسب تعداد میں اردو میڈیم اساتذہ کی نشستیں واضح طور پر مختص نہیں کی گئی ہیں۔اگر اردو میڈیم سرکاری اسکولوں کو ان کی طلبہ کی تعداد، اسکولوں کی تعداد اور موجودہ تدریسی ضرورت کے مطابق مناسب اساتذہ فراہم نہیںکیے گئے، تو اس کا براہِ راست اثر اردو میڈیم طلبہ کی تعلیم پر پڑے گا۔اردو میڈیم میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ بھی کرناٹک کے تعلیمی نظام کا ایک اہم حصہ ہیں۔ انہیں بھی دیگر میڈیم کے طلبہ کی طرح معیاری تعلیم، مناسب تعداد میں اساتذہ اور مساوی تعلیمی مواقع حاصل ہونے چاہئیں۔
کلیان کرناٹک اور آرٹیکل 371J کے حوالے سے خصوصی توجہ کی ضرورت :۔ محترم ومعظم وزیرِ اعلیٰ ، میں آپ کی خصوصی توجہ کلیان کرناٹک خطے کی طرف بھی مبذول کرانا چاہتا ہوں۔کلیان کرناٹک کے تقریباً تمام اضلاع میں اردو میڈیم سرکاری اسکولوں اور اردو میڈیم طلبہ کی ایک قابلِ ذکر تعداد موجود ہے۔آئین کے آرٹیکل 371J کے تحت کلیان کرناٹک خطے کی ترقی اور یہاں کے عوام کو خصوصی مواقع فراہم کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔لہٰذا میری مودبانہ گزارش ہے کہ موجودہ پندرہ ہزار اساتذہ کی بھرتی کے دوران کلیان کرناٹک کے اردو میڈیم اسکولوں کی ضرورت کو بھی خصوصی طور پر مدنظر رکھا جائے۔
میری مدبانہ درخواست:۔ میں آپ کے معزز دفتر سے نہایت ادب کے ساتھ درج ذیل درخواستیں پیش کرتا ہوں:اول: کرناٹک کے تمام اردو میڈیم سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی موجودہ کمی اور حقیقی ضرورت کا جامع سروے کروایا جائے۔دوم: طلبہ کی تعداد، اسکولوں کی تعداد اور منظور شدہ خالی آسامیوں کی بنیاد پر اردو میڈیم اسکولوں کے لیے مناسب تعداد میں اساتذہ کی نشستیں مختص کی جائیں۔سوم: کلیان کرناٹک خطے کے اردو میڈیم سرکاری اسکولوں کی ضروریات کو خصوصی طور پر مدنظر رکھا جائے اور آرٹیکل 371J کے مقاصد کے مطابق مناسب مواقع فراہم کیے جائیں۔چہارم: اردو میڈیم میں تدریس کے لیے مطلوبہ تعلیمی قابلیت رکھنے والے امیدواروں کو موجودہ بھرتی کے عمل میں مناسب اور منصفانہ مواقع فراہم کیے جائیں۔پنجم: پندرہ ہزار اساتذہ کی بھرتی کا حتمی نوٹیفکیشن جاری کرنے سے پہلے محکمہ ئ تعلیم کو ہدایت دی جائے کہ وہ میڈیم اور مضمون کے اعتبار سے اساتذہ کی ضرورت کا دوبارہ جائزہ لے۔ششم: اردو میڈیم سرکاری اسکولوں میں موجود خالی آسامیوں کو مناسب طور پر شناخت کرکے انہیں موجودہ بھرتی کے نوٹیفکیشن میں شامل کیا جائے۔ہفتم: محکمہ ئ اسکولی تعلیم و خواندگی کو ہدایت دی جائے کہ ضلع وار اور میڈیم وار اساتذہ کی خالی آسامیوں کی تفصیلات تیار کرکے عوام کے سامنے پیش کی جائیں، جس میں اردو میڈیم کی ضرورت بھی واضح طور پر شامل ہو۔
میری م¶دبانہ گزارش:۔ محترم وہردلعزیز وزیرِ اعلیٰ،میں آپ سے نہایت ادب کے ساتھ درخواست کرتا ہوں کہ آپ اس معاملے میں ذاتی طور پر مداخلت فرماتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ پندرہ ہزار اساتذہ کی بھرتی میں اردو میڈیم اسکولوں کو نظرانداز نہ کیا جائے۔یہ صرف روزگار کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہزاروں اردو میڈیم طلبہ کے مستقبل اور ان کی معیاری تعلیم کا مسئلہ ہے۔لہٰذا میری آپ سے پُرزور اور م¶دبانہ درخواست ہے کہ پندرہ ہزار اساتذہ کی موجودہ بھرتی میں اردو میڈیم اسکولوں کی حقیقی ضرورت کے مطابق مناسب تعداد میں اردو میڈیم اساتذہ کی نشستیں مختص کرنے کے لیے ضروری احکامات جاری فرمائیں۔خصوصاً کلیان کرناٹک خطے میں آرٹیکل 371J کے تحت حاصل خصوصی انتظامات اور وہاں کے اردو میڈیم اسکولوں کی تعلیمی ضروریات کو خصوصی طور پر مدنظر رکھا جائے۔مجھے پوری امید ہے کہ آپ کی قیادت میں کرناٹک حکومت اردو میڈیم طلبہ، اساتذہ اور سرکاری اسکولوں کے مفاد میں ایک مثبت اور منصفانہ فیصلہ کرے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔