آزادی ہند کی تاریخ اور مسلمانوں کی قربانیاں۔ از قلم : کلیم اللہ امداد تیمی۔(مسجد یعقوبیہ اہلحدیث، چینئی)


آزادی ہند کی تاریخ اور مسلمانوں کی قربانیاں۔ 
از قلم : کلیم اللہ امداد تیمی۔
(مسجد یعقوبیہ اہلحدیث، چینئی)

انسان فطری طور پر بڑا آزاد پسندانہ ثابت ہوا ہے۔ کوئی آدمی محکومی و غلامی کی زندگی پسند نہیں کرتا اور نہ ہی کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کے پیدائشی حق آزادی کو چھین لے۔ اس کی وجہ قرآن میں اللہ نے یوں بیان فرمائی ہے: ﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ﴾

کہ ہم نے بنی آدم کو عزت و کرامت عطا فرمائی ہے۔

اسی لیے کسی انسان کا دوسرے انسان کو غلام بنانا، یا کسی قوم کا دوسری قوم پر اس طرح قبضہ کرلینا کہ اس سے اس کی آزادی، اختیار اور اپنے معاملات خود طے کرنے کا حق چھین لیا جائے، ایک بڑی محرومی اور ظلم ہے۔

غلامی کسی آدمی کے ہاتھوں میں زنجیریں ڈالنے کا نام نہیں؛ بلکہ کبھی کسی قوم یا ملک کی زمین، حکومت، تجارت، معیشت اور سیاسی اختیار چھین کر بھی اسے غلام بنا لیا جاتا ہے۔

ہمارے اس پیارے وطن بھارت کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ تقریبا دو سو سالوں کے طویل عرصے تک انگریز اس کے وسیع و عریض خطے پر قابض رہے ۔ تجارت کو ڈھال بنا کر یہاں کی جڑیں کھوکھلی کرکے یہ لوگ حاکم بن بیٹھے، اور اہل ہند کو انہیں کے ملک میں اپنا غلام بنا لیا۔ 

انگریزوں کی غلامی سے مکمل آزادی تک یہاں کے لوگوں کو بڑی مشقت اٹھانی پڑی ، جان و مال کو قربان کرنا پڑا، تب جاکر 15اگست 1947کو یہ دیش آزاد ہوا۔
 
ویسے آزادیٔ ہند کی روداد بڑی طویل ہے لیکن ہم یہاں اس کی مختصر تاریخ اور مسلمانوں کی قربانیوں کو بیان کر رہے ہیں تاکہ آزادی اور غلامی کے فرق کا صحیح اندازہ ہوجائے اور یہ بھی معلوم ہوجائے کہ آزادی بہت بڑی خدا کی نعمت ہے اور غلامی ذلت و پستی کی عظیم نشانی۔

آزادیٔ ہند کی تاریخ اور مسلمانوں کی قربانیاں پیش کرنے سے قبل سب سے پہلے ہم انگریزوں کی آمد ہند کے پس منظر کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ لوگ بھارت کی عظیم سر زمین پر کیوں اور کب آئے ؟ اور ساتھ ہی یہ پیارا وطن انگریزوں کا غلام کیوں اور کیسے بنا؟

بات ہے سترہویں صدی عیسوی کی۔ اس وقت ہندوستان ایک مضبوط معیشت تھا، مغلیہ سلطنت کا زور تھا، ہر طرف خوشحالی تھی۔ اس زمانے میں دنیا کا بہترین اور سستا کپڑا ہندوستان میں بنتا تھا۔ ہندوستان کو سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا۔ مغلیہ سلطنت کے فرمانروا جہانگیر تھے۔ انہی کے دور اقتدار میں سب سے پہلے 1605میں ڈچ ایسٹ انڈیا کے نام سے یورپی کمپنی بھارت بغرض تجارت تشریف لائی حالانکہ اس سے بہت پہلے یہاں پرتگال آچکے تھے ۔ ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کی آمد کے صرف تین سال بعد ہی برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی 1608ء میں بھارت بحیثیت تاجر آپہنچی۔

بھارت آکر برٹش اپنے تجارتی فروغ کے لیے کوشاں ہو گئے۔ سب سے پہلے 
1612ء میں برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی نے سورت کے قریب پرتگالیوں سے جنگ کی اور انہیں شکست دی۔ اس جنگ کے نتیجے میں مغلیہ سلطنت میں انگریزوں کی تجارتی حیثیت مضبوط ہوئی اور انہیں حکومت ہند سے کئی تجارتی مراعات حاصل ہوگئیں ۔

اس وقت بھارت میں دو ہی بیرونی کمپنیاں تھیں ، ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی اور برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی ۔ اب ان دونوں کے درمیان ٹکراو شروع ہوا، خونریز معرکے بھی ہوئے، آخر کار 1623ء کا امبوئنا کا قتلِ عام کے بعد دونوں کمپنیوں میں ایک غیر رسمی معاہدہ ہوا کہ ڈچ انڈونیشیا پر توجہ دیں گے اور انگریز ہندوستان پر۔

یہیں سے ہندوستان کی تاریخ کا ایک نیا باب شروع ہوا۔ برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستانی بازار میں اپنی گرفت مضبوط کرتی گئی۔ وہ یہاں سے نیل، سوت، کپڑا اور بارود بنانے والا شورہ (Saltpetre) سستے داموں خریدتے اور یورپ و دوسرے علاقوں میں بھیج کر اچھا منافع کماتے تھے۔

تبھی اورنگزیب عالمگیر کے دور میں 1664ء میں ایک تیسری یورپی فرانسیسی ایسٹ انڈیا کمپنی بھارت تشریف لائی، اور 1668ء میں فرانسیسیوں نے سورت میں اپنی پہلی تجارتی فیکٹری قائم کی۔

 بھارتی بازاروں میں اپنی پکڑ مضبوط کرنے کے لیے فرانسیسیوں اور انگریزوں کے درمیان سخت مقابلہ ہوا۔ 

حالانکہ کے فرانس اور برطانیہ پہلے ہی سے جنگ میں گرفتار تھے، اس وجہ سے انڈیا میں ان دونوں کا اختلاف مزید بڑھ گیا۔

 ان کے مابین کئی خوفناک جنگیں ہوئیں۔ لیکن پلڑا برٹشوں کا بھاری رہا۔ انگریزوں نے پلاسی کی جنگ سے تقریباً تین ماہ پہلے مارچ 1757ء میں بنگال میں فرانسیسیوں کے مرکز چندرن نگر پر قبضہ کر لیا اور اسے شکست دے دی۔ جس کے نتیجے میں فرانسیسیوں کا زور ختم ہوگیا۔

ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی اور فرینچ ایسٹ انڈیا کمپنی کی سرکوبی کے بعد اب بھارت میں انگریزوں کے سامنے کوئی ایسی بڑی یورپی تجارتی طاقت باقی نہ تھی جو ان کے راستے میں بڑی رکاوٹ بنتی۔ چنانچہ راستہ صاف دیکھ کر اب انگریزوں نے تجارت سے حکومت کی طرف پیش قدمی شروع کی اور اپنا پورا دھیان مقامی حکمرانوں کو کمزور کرنے اور ہندوستان پر اپنا سیاسی تسلط قائم کرنے پر لگا دیا۔

اپنے ناپاک عزائم کو کامیاب بنانے اور اس پیارے دیش کو غلام بنانے کے لیے انگریزوں نے بنگال کے نواب سراج الدولہ کے خلاف کارروائی کی۔ 

اس کی بنیادی وجہ یہ رہی کہ بنگال کے نواب نے انگریزوں سے جنگ میں فرانسیسیوں کا ساتھ دیا تھا۔ 

اپنے مقصد کے حصول میں انگریزوں نے سراج الدولہ سے انتقام لینے کے لیے ان کی گھیرا بندی شروع کردی ، کیونکہ وہ ان کی آنکھوں میں تنکے کی طرح چبھنے لگے تھے۔ لہذا سراج الدولہ اور انگریزوں کے درمیان 23 جون 1757ء کو پہلی فیصلہ کن جنگ پلاسی کے نام سے لڑی گئی۔ اور سراج الدولہ کو میر جعفر کی غداری کی وجہ سے ناقابلِ تلافی شکست ہوئی۔

اس طرح انگریزوں نے اپنی آمد کے تقریباً ڈیڑھ سو سال بعد ہندوستان میں اپنی سیاسی طاقت قائم کرنے کی طرف بڑا قدم اٹھایا، کیونکہ ہندوستان میں وہ مضبوط پکڑ بنا چکے تھے اور مرکز کی مغلیہ سلطنت کمزور ہوکر زوال کی طرف گامزن تھی۔

یہ شکست صرف ایک نواب کی شکست نہیں تھی؛ اس نے ہندوستان کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ پلاسی کے بعد انگریزوں کو بنگال میں اپنی سیاسی طاقت بڑھانے کا راستہ مل گیا۔

اب ایسٹ انڈیا کمپنی محض تجارت کرنے والی کمپنی نہیں رہی تھی، بلکہ ہندوستانی سیاست میں فیصلہ کن قوت بننے لگی تھی۔

پلاسی کے بعد بھی ہندوستانی طاقتیں انگریزوں کے سامنے مکمل طور پر خاموش نہیں ہوئیں۔ 1764ء میں دوسری بڑی جنگ "جنگِ بکسر" کے نام سے ہوئی۔

اس مرتبہ انگریزوں کے مقابلے میں تین اہم ہندوستانی طاقتیں جمع تھیں:
میر قاسم بنگال کے سابق نواب، نوابِ اودھ شجاع الدولہ اور شاہ عالم ثانی مغل بادشاہ۔ ان تینوں نے مل کر بکسر کے مقام پر محاذ آرائی کی انگریزوں کے خلاف۔

 کہا یہ جاتا ہے کہ جنگِ بکسر بڑی خونریز جنگ ثابت ہوئی، مگر اس بار بھی انگریز کامیاب ہوئے۔

یہ کامیابی پلاسی سے بھی زیادہ اہم ثابت ہوئی، کیونکہ اب انگریزوں کا اثر صرف بنگال تک محدود نہیں رہا بلکہ ہندوستان کی وسیع سیاسی زندگی پر ان کی گرفت مضبوط ہونے لگی۔ یوں ہندوستان غلامی کی زنجیروں میں جکڑا جانے لگا۔

پلاسی نے انگریزوں کو راستہ دیا تو بکسر نے ان کی طاقت کو مزید مضبوط کردیا۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ جب انگریز شمالی اور مشرقی ہندوستان میں اپنی طاقت بڑھا رہے تھے، اسی زمانے میں جنوبی ہندوستان میں بھی ان کے خلاف سخت مزاحمت شروع ہو چکی تھی۔

جنوبی ہندوستان کی اس مزاحمت میں سب سے نمایاں نام سلطان ٹیپو شہیدؒ کا ہے۔ ٹیپو سلطان نے انگریزوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو پہچان لیا تھا۔ انہوں نے اپنی ریاست کی آزادی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے انگریزوں کے خلاف مسلسل جنگیں لڑیں۔

آخرکار 1799ء میں سری رنگاپٹنم میں ٹیپو سلطان شہید ہوگئے۔

ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد انگریزوں کی طاقت مزید مضبوط ہوئی۔ روایات کے مطابق ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد لارڈ ہیرس نے کہا: "Now India is ours" یعنی "اب ہندوستان ہمارا ہے۔"

ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد انگریزوں کا معرکہ مراٹھوں کے ساتھ بھی ہوا۔ مراٹھا طاقت نے انگریزوں کی سخت مزاحمت کی، مگر کئی جنگوں کے بعد بالآخر 1818ء میں مراٹھا سیاسی طاقت بھی انگریزوں کے زیرِ نگیں آگئی۔ 1849ء میں پنجاب بھی انگریزی اقتدار میں شامل ہوگیا اور اس طرح رفتہ رفتہ ہندوستان کے بڑے حصے پر انگریزوں کا اقتدار قائم ہوگیا۔

اب اہل ہندوستاں حاکم سے محکوم ہو چکے تھے، غلامی کا طوق ان کے گلوں میں ڈلا جا چکا تھا۔ وہ اپنی مرضی کے مالک نہیں تھے ، بلکہ انگریزوں کے رحم و کرم کے محتاج تھے۔ہر طرف ظلم و زیادتیاں ہونے لگیں، عوام کو پریشان کیا جانے لگا، یہاں کے خزانے لوٹ کر انگلینڈ منتقل کیے جانے لگے، ٹیکس اور محصول کی وجہ سے عام زندگیاں بدتر ہونے لگیں۔ تو آزادی کی تحریک شروع ہوئی، انگریزوں کو یہاں سے نکال بھگانے کے لیے آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں۔ علماء نے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے ہندوستانی مسلمانوں میں دینی بیداری اور اصلاح کی ایک عظیم بنیاد قائم کی۔ جسے "تحریک شہدین" کہا جاتا ہے ۔ بعد کے دور میں سید احمد شہیدؒ، شاہ اسماعیل شہیدؒ اور ان کے رفقاء نے بھی بیرونی اقتدار کے خلاف جدوجہد کی۔

 یہاں تک کہ 1857ء کا زمانہ آیا ۔ یہاں سے غلام بھارت کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے ۔ کیوں کہ اسی سال ایک بہت بڑی بغاوت ہوئی جو میرٹھ سے شروع ہوئی تھی۔ عام طور پر اسے "غدر" کا نام دیا جاتا ہے۔

اس بغاوت کی قیادت آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر انجام دے رہے تھے۔ جنگ آزادی کی اس جدوجہد نے انگریزوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کردیا، لیکن آخرکار انگریز اپنی فوجی طاقت کے ذریعے اسے کچلنے میں کامیاب ہوگئے۔

اس ناکامی کے بعد ہندوستان، خصوصاً مسلمانوں کو شدید مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔ ملک میں بڑے پیمانے پر بھارتیوں کو نشانہ بنایا گیا، دہلی کئی دنوں تک سلگتی رہی، اسے بڑی حد تک اجاڑ دیا گیا، بے شمار لوگ قتل ہوئے، پھانسی دیے گئے، جیلوں میں ڈالے گئے، جائیدادیں ضبط ہوئیں اور خاندان تباہ ہوئے۔

خود بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کرکے رنگون بھیج دیا گیا، جہاں ان کے بیٹوں مرزا مغل، مرزا خضر سلطان اور مرزا ابو بکر کو قتل کردیا گیا۔

1857ء کے بعد حالات بدل گئے۔ 1858ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا حکومتی کردار ختم کردیا گیا اور ہندوستان براہِ راست حکومتِ برطانیہ کے ماتحت آگیا۔

غدر کے بعد انگریزوں نے اپنی حکومت مزید مضبوط کی، سخت پابندیاں عائد کیں، ان کا ظلم اور زور پکڑتا چلا گیا، لیکن ہندوستانی باشندوں نے آزادی کا خواب ترک نہیں کیا۔

اب جدوجہد کے طریقے بھی بدلنے لگے۔علماء نے قوم کو بیدار کیا، صحافیوں نے قلم اٹھایا، اہلِ فکر نے غلامی کے نقصانات بیان کیے اور سیاسی رہنماؤں نے عوام کو منظم کرنا شروع کیا۔

1885ء میں انڈین نیشنل کانگریس کا قیام عمل میں آیا اور ہندوستان کی سیاسی جدوجہد ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی۔ مسلمان بھی اس سیاسی بیداری سے الگ نہیں رہے۔

پھر بیسویں صدی عیسوی کا دور شروع ہوا۔ آزادیٔ ہند کی تاریخ میں یہ بڑا فیصلہ کن دور مانا گیا ہے، کیونکہ اس وقت تک آزادی کی لڑائی زور پکڑ چکی تھی۔ 

1905ء کی بنگال تقسیم اور 1919ء کے جلیانوالہ باغ کے سانحے کی وجہ سے انگریزوں کے خلاف لوگوں میں سخت غم و غصہ پیدا ہوا ۔ گاندھی جی ملک کے دورے پر نکل پڑے، لوگوں کو عدم تشدد کی تعلیم دیتے ہوئے ایک کرنا شروع کردیا۔ ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی سب کو متحد کیا، سبھوں کو ساتھ لے کر آزادی کی زبردست تحریک شروع کی۔ اسی زمانے میں مسلمانوں کے درمیان "تحریک خلافت " کا بھی اچھا خاصا اثر دکھنے لگا تھا 

یہاں یہ بات خاص طور پر یاد رکھنے کی ہے کہ آزادی کی تاریخ صرف دہلی، بنگال، بمبئی یا شمالی ہند تک محدود نہیں ہے، بلکہ جنوبی ہند، خاص طور پر مدراس (Chennai) اور تمل ناڈو کے مسلمانوں نے بھی آزادی کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔

1806ء میں جنوبی ہند میں پہلے ہی ویلور کی فوجی بغاوت ہو چکی تھی، جسے انگریزوں نے کچل دیا تھا۔ تاہم بعد کے دور میں مدراس (Chennai) سیاسی، علمی اور قومی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز بن گیا۔

یہی وجہ ہے کہ محمد علی جوہر، شوکت علی، گاندھی جی اور علامہ اقبال جیسی شخصیات کی مدراس آمد نے یہاں کی سیاسی و فکری فضا کو مزید متحرک کیا۔

گاندھی جی 12 اگست 1920ء کو مدراس پہنچے، مدراس کے ساحل پر عوامی اجتماع سے خطاب کیا اور اگلے دن ٹرپلی کین کی جامع مسجد میں بھی خطاب کیا۔ اس کے بعد انہوں نے جنوبی ہندوستان کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔

1921ء میں گاندھی جی دوبارہ مدراس آئے اور اسی سال دو مرتبہ مدراس تشریف لائے۔

اپریل میں ان کی آمد ہوئی، پھر 15 ستمبر 1921ء کو وہ دوبارہ مدراس پہنچے اور جنوبی ہند میں کئی ہفتوں تک قومی تحریک کے سلسلے میں دورہ کیا۔ مدراس میں انہوں نے عوام، خواتین، تاجروں اور مزدوروں سے خطاب کیا۔

مدراس کی سیاسی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ 1927ء میں گاندھی جی نے تمل ناڈو کا تفصیلی دورہ کیا۔ طلبہ، مزدوروں اور عوام سے خطاب کیا اور کئی دن تک مدراس اور جنوبی ہندوستان کے مختلف علاقوں میں قومی سرگرمیوں میں شریک رہے۔

اسی سال دسمبر میں کانگریس کا سالانہ اجلاس بھی مدراس میں منعقد ہوا اور گاندھی جی نے اس میں شرکت کی۔

علامہ محمد اقبالؒ 1929ء میں مدراس تشریف لائے۔ انہوں نے 5، 6 اور 7 جنوری 1929ء کو مدراس کے گوکھلے ہال میں اپنے مشہور خطبات پیش کیے۔ بعد میں یہی خطبات ان کی معروف کتاب The Reconstruction of Religious Thought in Islam کا حصہ بنے۔

علامہ اقبال کی آمد نے مدراس کی علمی فضا کو ایک نئی جہت دی۔

یہاں کے مشہور مجاہدینِ آزادی میں قائدِ ملت محمد اسماعیل، یعقوب حسن، اے عبد العزیز، ایس ایس قادر محمد، سید احمد کبیر، آدم مدورائی، پی خلیف اللہ ترچھی، ویلور سے شیخ قاسم اور شیخ حسین کے نام قابلِ ذکر ہیں۔

بیسویں صدی عیسوی کا ابتدائی دور اس لیے بھی آزادیٔ ہند کی تاریخ میں اہم ہے کہ اس وقت تحریکِ خلافت اور عدم تعاون ایک دوسرے کے ساتھ چل رہے تھے اور مسلمانوں کی بڑی تعداد قومی سیاسی جدوجہد میں شریک تھی۔

1920ء کی دہائی کے بعد آزادی کی تحریک مسلسل آگے بڑھتی رہی۔ عدم تعاون، سول نافرمانی اور دوسری قومی تحریکوں نے انگریز حکومت پر دباؤ بڑھایا۔

اب انگریزوں کے لیے ہندوستان پر اپنی حکومت کو ہمیشہ قائم رکھنا مشکل ہوتا جارہا تھا۔ بالآخر آزادی کی جدوجہد فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوئی۔

1942ء میں "بھارت چھوڑو" تحریک شروع ہوئی۔ اب مطالبہ بالکل واضح تھا: انگریز ہندوستان چھوڑ دیں۔

یہ تحریک آزادی کی آخری بڑی عوامی تحریکوں میں سے ایک تھی۔ اس کے بعد ہندوستان میں برطانوی حکومت کے خلاف مزاحمت مزید مضبوط ہوتی گئی۔

دوسری طرف دوسری جنگِ عظیم کے بعد عالمی حالات بھی بدل چکے تھے اور برطانیہ پہلے کی طرح ہندوستان پر مضبوط گرفت رکھنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔

آخر کار تقریباً دو سو سال کی برطانوی غلامی سے بھارتیوں کو آزادی ملی ۔ 15 اگست 1947ء کو انگریز یہاں سے چلے گئے، مگر خوشی کے ساتھ ساتھ تقسیم کا ناقابلِ قبول غم بھی دیتے گئے۔

 یوں تو آزادیٔ ہند کی تاریخ میں ساری قوموں کا ساتھ خوب رہا، مگر مسلمانانِ ہند نے سب سے نمایاں اور ناقابلِ فراموش قربانیاں پیش کیں اس کے باوجود بھی سب سے زیادہ خسارہ انہیں کا ہوا۔ کیونکہ صدیوں کی سیاسی حکومت ان کی ختم ہوگئی ۔ آزاد بھارت میں یہ اپنے ہی ملک میں اقلیت بن کر رہ گئے ۔ اور سب کچھ گنوانے کے باوجود انہیں کی وطن پرستی اور وفاداری پر سوال کھڑا کیا جانے لگا؟؟

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔