مجاہد آزادی قربان حسین اور ہفت روزہ غضنفر - از قلم : محمد عرفان ڈوکا۔
مجاہد آزادی قربان حسین اور ہفت روزہ غضنفر -
از قلم : محمد عرفان ڈوکا۔
شہید قربان حسین کا نام نہ صرف سولاپور کی تاریخ میں بلکہ ہندوستان کی تاریخ میں بھی انتہائی مشہور اور معروف ہے۔ شہر شولاپور میں نوجوان شہید قربان حسین کا جاری کردہ اخبار ہفت روزہ غضنفر نے تحریک آزادی میں بہت ہی شاندار اور اعلیٰ کردار ادا کیا۔
سولاپور کی تاریخ میں ملپپا دھنشیٹی، کشن سارڈا، جگنناتھ شندے، قربان حسین ان چار شہداء گزرے ہیں جنہیں انگریزوں نے تختہ دار پر لٹکا دیا تھا ان میں سے ایک شہید قربان حسین بھی ہیں، جن کا اصل نام عبدالرسول تھا اور والد کا نام قربان حسین تھا۔ ان کے والد قربان حسین ایک مجاہدِ آزادی تھے۔ جنہیں 1932ء کے مارشل لاء کے دوران قتل کر دیا گیا تھا اور ان کے گھر کو آگ لگا دی گئی تھی۔ شہید عبدالرسول کو اپنے والد سے حب الوطن اور قوم پرستی کی ترغیب ملی۔ قربان حسین کی وفات کے بعد ان کے بیٹے عبدالرسول ہی قربان حسین کے نام سے مشہور ہوئے۔ شہید قربان حسین کی پیدائش 1910ء میں شہر شولاپور میں ہی ہوئی تھی جنہیں انگریزوں نے 12 جنوری 1931ء کو عین جوانی میں ان کے دیگر تین ساتھیوں کے ساتھ پونہ کے یروڑا جیل میں پھانسی کی سزا دے کر شہید کیا۔ اس طرح آزادی وطن کا خواب لیے وہ اس دنیا سے چلے گئے۔ قربان حسین ایک سچے محب وطن تھے۔ ملک کے لئے شہید ہونے والے اس کم عمر نوجوان نے مہاتما گاندھی جی اور لوک مانیہ تلک کو اپنا رہنما مانا تھا۔ کے۔ بی۔ انتروڈیکر کے ساتھ ساتھ قربان حسین تحریک آزادی کے جلسوں میں شرکت کرتے تھے۔ قربان حسین اور ایم بی پٹھان یہ دونوں وشنو لکشمی مل میں مل مزدور تھے۔ بعد میں انہیں مل مزدور یونین کے رکن اور سکریٹری کا عہدہ بھی ملا۔ ملک کی آزادی کے لیے انہوں نے تن، من، دھن سب نچھاور کر دیا۔
تحریک آزادی میں انگریزوں کا مقابلہ کرنے اور شہر شولاپور کی عوام کو تحریک آزادی میں شامل کرنے کے لئے شہید قربان حسین نے سولاپور شہر میں 1927ء میں مساوات اور اتحاد پر مبنی ’غضنفر‘ نامی مرآٹھی ہفت روزہ اخبار شروع کیا تھا۔ غضنفر عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی شیر یا بہادر کے ہوتے ہیں۔ لوک مانیہ تلک کے شروع کردہ اخبار کیسری کا مطلب بھی شیر ہی ہوتا ہے۔ غضنفر کے پہلے صفحے پر ہفت روزہ اخبار کا لوگو جس میں دو شیر، اخبار کا نام دو تیر ڈھال، دو پرچم درمیان میں چاند تارہ، مدیر کا نام (قربان حسین) اور قرآن مجید کی سورۃ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 81
وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ-اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا.
(اور فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بیشک باطل کو مٹنا ہی تھا) شائع ہوتا تھا۔ دوسرے صفحے پر دیگر مضامین اور اشتہارات، جبکہ تیسرے شمارے میں موجودہ حالات کا خلاصہ تھا۔
اس ہفت روزہ اخبار کی قیمت آٹھ آنے تھی۔ اس اخبار کی چھپائی جمعہ پیٹھ، ہاشمی پریس میں ہر جمعہ کو ہوتی تھی، جو 1931ء کے مارشل لاء میں بند ہو گیا۔ اس ہفت روزہ کے سو شمارے بہت مشہور ہوئے تھے۔ غضنفر ہفت روزہ دسمبر 1927ء میں شروع ہوا اور 1931ء میں بند ہو گیا۔یہ اخبار سیاسی، سماجی، اقتصادی اور مذہبی مسائل پر روشنی ڈالتا تھا۔ سوراج، انگریزی تعلیم، سودیشی، ہندو مسلم اتحاد، اور میونسپلٹی کا کام کاج اس کے خاص موضوعات تھے۔ انہوں نے لکھا کہ انگریز بھارت پر حکومت کرنے کے لیے پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی پالیسی پر عمل کرتے ہیں ان حالات میں شہید قربان حسین اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر ہم تمام ہندوستانی ایک ہو جائیں تو یہ حکومت اس ملک سے بھاگ جائے گی لیکن انگریز اس اتحاد کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ اسلام نے کبھی بھی بے گناہوں پر ظلم کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ آگے وہ لکھتے ہیں کہ ہم تمام مسلم بھائی مہینہ بھر روزے رکھ کر اپنا دل، جسم اور خیالات کو پاک کرتے ہیں، تو پھر اس پاکیزہ جسم پر غیر ملکی کپڑے پہن کر اسے ناپاک کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے ایسا سوال اٹھایا۔ پیغمبر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہمیں غریبوں کا خیال رکھنے اور صدقہ و خیرات کرنے کی ہدایت دی ہے، اس لیے تم عید کے دن سودیشی (مقامی) کپڑوں کا استعمال کرو تاکہ ان سے ان کاریگروں کو روزگار مل سکے اور تمہیں اس کا ثواب ملے۔ شہید قربان حسین نے 5 مئی 1930ء کو اپنے انتہائی جوشیلے اور مؤثر خطاب کے ذریعہ ہندو مسلم اتحاد قائم کرنے کی کوشش کی تھی اور غیر ملکیوں کو ملک سے باہر نکالنے کا پیغام دیا تھا۔
قربان حسین اور شاعر کنج وہاری کی ملاقات بیجاپور کی جیل میں ہوئی تھی اس وقت شاعر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ یہ دیکھ کر شہید قربان حسین نے کہا کہ وطن کے لیے یہ قربانی کافی نہیں ہے پھر تم آنسو کیوں بہا رہے ہو۔
مسلم معاشرے کو دورِ حاضر سے پیچھے دیکھتے ہوئے اور تعلیم کی عدم توجہی کو انہوں نے اپنے شہر واسیوں کے سامنے اجاگر کیا۔ اس کے ساتھ ہی جدید تعلیم یعنی انگریزی تعلیم پر زیادہ توجہ دینے کی ہدایت کی اور اپنے معاشرے کو اس کی تعلیم دی۔ حب الوطنی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے، قومی اتحاد کے معاملے میں کھلے دشمن بھلے ہی صحیح لیکن چھپے ہوئے دشمن نہیں چاہیے یہ اپنے اخبار غضنفر کے ذریعے عوام الناس تک پہنچانے کا کام کیا۔
1931ء میں جب سائمن کمیشن ہندوستان میں اپنی سفارشات لے کر آیا تھا اس وقت انہوں نے اس کی مخالفت کی اور اس کے خلاف جلسوں اور ہڑتالوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ الغرض شہر سولاپور کے ساتھ ساتھ مہاراشٹر کی تاریخ میں ہفت روزہ ’غضنفر‘ کو بہت اہمیت حاصل تھی۔ صرف تین سال چلے اس ہفت روزہ اخبار نے قومی اتحاد اور حب الوطنی کے جذبے کو بنیادی سطح سے اٹھا کر آسمان تک پہنچا دیا، جو اس کا ایک بہت بڑا تاریخی کارنامہ ہے۔
مضمون نگار بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول و جونیئر کالج شولاپور میں تاریخ مضمون پڑھاتے ہیں
9766331532
Comments
Post a Comment