اقبال فہمی(قسط نہم) - گل رنگیں درد آرزو اور زندگی کی حقیقی بے قراری ہے - ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی، سولاپور۔


اقبال فہمی(قسط نہم) - 
گل رنگیں درد آرزو اور زندگی کی حقیقی بے قراری ہے - 
ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی، سولاپور۔

نظم ہمالہ کے اختتام کے بعد علامہ اقبال کی فکر ایک نئے منظر میں داخل ہوتی ہے۔ وہاں ہمارے سامنے عظمت و استقامت کا ایک عظیم پہاڑ تھا اور یہاں ایک نازک سا پھول ہے۔ وہاں برف پوش چوٹیاں تھیں اور یہاں رنگ و بو سے معمور گل ہے۔ وہاں ہمالہ کی خاموشی کے اندر صدیوں کی تاریخ بول رہی تھی اور یہاں ایک چھوٹے سے پھول کے پہلو میں انسان کی پوری روحانی اور فکری کشمکش سمٹ آئی ہے۔ مگر اقبال کی شاعری کا کمال یہی ہے کہ موضوع بدلنے سے ان کی بنیادی فکر تبدیل نہیں ہوتی۔ وہ ہمالہ کو دیکھتے ہیں تو اس میں زندگی کا پیغام تلاش کرتے ہیں اور گل رنگیں کو دیکھتے ہیں تو اس کے حسن کے پردے میں انسانی وجود کے ایک بنیادی سوال کو سامنے لے آتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک کائنات کی کوئی شے محض دیکھنے کی چیز نہیں۔ ہر مظہر اپنے اندر ایک معنی رکھتا ہے اور شاعر کا کام اس پوشیدہ معنی کو دریافت کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گل رنگیں کے سامنے کھڑے ہو کر اقبال محض اس کے رنگ اور خوشبو کی تعریف نہیں کرتے بلکہ اس سے انسان کی زندگی کا موازنہ کرتے ہوئے یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اصل زندگی کس چیز کا نام ہے اور انسان کے دل میں وہ کون سی آگ ہے جو اسے پھول کی طرح مطمئن اور بے فکر ہو کر اپنی جگہ ٹھہرنے نہیں دیتی۔

اقبال فرماتے ہیں:

تو شناسائے خراشِ عقدۂ مشکل نہیں
اے گلِ رنگیں ترے پہلو میں شاید دل نہیں

ان اشعار میں اقبال نے گل رنگیں کو مخاطب کرکے بظاہر اس کی بے خبری پر تعجب ظاہر کیا ہے مگر حقیقت میں وہ انسانی زندگی کی اس بنیادی خصوصیت کو بیان کر رہے ہیں جس کے بغیر انسان کو سمجھنا ممکن نہیں۔ پھول کے سامنے زندگی کا کوئی پیچیدہ سوال نہیں۔ وہ نہ اپنے آغاز کے بارے میں فکر مند ہے نہ اپنے انجام کے بارے میں۔ نہ اسے اپنے وجود کا مقصد پریشان کرتا ہے اور نہ موت کا مسئلہ اس کے دل میں کوئی اضطراب پیدا کرتا ہے۔ وہ اپنی فطرت کے مطابق کھلتا ہے اور اسی فطری قانون کے تحت مرجھا جاتا ہے۔ مگر انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان کو محض زندگی عطا نہیں کی گئی بلکہ شعور بھی عطا کیا گیا ہے اور یہی شعور اس کے لیے نعمت بھی ہے اور آزمائش بھی۔ وہ اپنے وجود کے بارے میں سوال کرتا ہے۔ وہ اپنے ماضی کو جاننا چاہتا ہے اور مستقبل کے بارے میں سوچتا ہے۔ وہ کائنات کو دیکھ کر اس کے آغاز کا سوال اٹھاتا ہے اور موت کو دیکھ کر اپنی بقا کا مسئلہ سوچتا ہے۔ اس کے سامنے حق و باطل کا سوال ہے۔ خیر و شر کی کشمکش ہے۔ اپنے نفس سے جنگ ہے اور اپنے رب کو پہچاننے کی جستجو ہے۔ یہی وہ عقدۂ مشکل ہے جس کی خراش انسان کے دل کو بے قرار رکھتی ہے۔
اقبال کے نزدیک یہ خراش کوئی معمولی چیز نہیں بلکہ انسانی عظمت کی دلیل ہے۔ جس وجود کو کسی سوال کی تڑپ نہ ہو وہ اگرچہ بظاہر مطمئن دکھائی دے لیکن اس کے اندر ترقی اور ارتقا کی وہ قوت پیدا نہیں ہوسکتی جو انسان کو اس کے موجود مقام سے آگے لے جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال گل سے کہتے ہیں کہ شاید تیرے پہلو میں دل نہیں۔ یہاں دل سے مراد صرف جسمانی عضو نہیں بلکہ وہ باطنی قوت ہے جس کے ذریعے انسان محسوس کرتا ہے۔ عشق کرتا ہے۔ تڑپتا ہے۔ حقیقت کی جستجو کرتا ہے اور اپنے موجود حال پر قناعت کرکے نہیں بیٹھتا۔ اقبال کے ہاں دل محض جذبات کا مرکز نہیں بلکہ انسان کی پوری روحانی زندگی کا سرچشمہ ہے۔ عقل انسان کو راستے دکھاتی ہے لیکن دل اس کے اندر چلنے کی آرزو پیدا کرتا ہے۔ علم انسان کو حقیقت کے بعض پہلوؤں سے آگاہ کرتا ہے لیکن دل اس حقیقت کو اپنی زندگی کا مسئلہ بنا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال کے نزدیک انسانی زندگی کی اصل پہچان بے حسی نہیں بلکہ احساس ہے اور وہ احساس جو انسان کو محض اپنے دکھ کا نہیں بلکہ زندگی کے بڑے سوالوں کا شعور عطا کرے۔

اس کے بعد اقبال فرماتے ہیں:

زیبِ محفل ہے شریکِ شورشِ محفل نہیں
یہ فراغت بزمِ ہستی میں مجھے حاصل نہیں

یہاں اقبال پھول اور انسان کے درمیان ایک اور بنیادی فرق واضح کرتے ہیں۔ پھول محفل کی زینت ہے۔ اس کی موجودگی سے منظر میں حسن پیدا ہوتا ہے۔ اس کے رنگ سے نگاہ کو لذت ملتی ہے اور اس کی خوشبو فضا کو معطر کر دیتی ہے لیکن وہ محفل کی شورش میں شریک نہیں ہوتا۔ محفل میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے اس کا کوئی عملی تعلق نہیں۔ وہ اپنے حسن میں قائم رہتا ہے اور زندگی کے تنازعات سے بے خبر رہتا ہے۔ اس کے مقابلے میں شاعر اپنے بارے میں کہتا ہے کہ مجھے یہ فراغت حاصل نہیں۔ میں بزم ہستی میں محض ایک خوب صورت تماشائی بن کر نہیں رہ سکتا کیونکہ زندگی میرے لیے ایسی محفل نہیں جس میں انسان صرف اپنی ذات کی آرائش کے لیے آئے اور دنیا کے مسائل سے بے تعلق ہو کر گزر جائے۔
یہی مقام اقبال کی شاعری کے عملی مزاج کو سامنے لاتا ہے۔ ان کے نزدیک زندگی کا حسن صرف سکون میں نہیں بلکہ ذمہ داری میں بھی ہے۔ انسان اگر اپنے علم کو صرف اپنی ترقی کے لیے استعمال کرے اور دوسروں کی جہالت سے بے نیاز رہے۔ اگر اس کے پاس قوت ہو مگر وہ ظلم کے مقابلے میں خاموش رہے۔ اگر اس کے اندر صلاحیت ہو مگر وہ اسے کسی اعلیٰ مقصد کے لیے استعمال نہ کرے تو وہ بظاہر زندگی کی محفل میں موجود ضرور ہے مگر حقیقت میں اس شورش سے الگ ہے جس میں ایک زندہ اور بیدار انسان کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اقبال کی اپنی شخصیت بھی اسی بے قراری کی آئینہ دار تھی۔ وہ شاعری کو محض الفاظ کا حسن نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے لیے شعر بھی ایک ذمہ داری تھا اور فکر بھی ایک ذمہ داری۔ اسی لیے ان کے کلام میں انسان کو بار بار حرکت۔ جستجو۔ عمل اور تعمیر کی دعوت ملتی ہے۔ وہ ایسی آسودگی کو زندگی کی علامت نہیں سمجھتے جو انسان کو اپنے گرد و پیش سے بے نیاز کر دے۔
یہاں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اقبال شورش محفل سے مراد محض دنیاوی ہنگامہ یا بے مقصد سرگرمی نہیں لیتے۔ ان کے نزدیک زندگی کی شورش دراصل اس کشمکش کا نام ہے جو انسان کو حق کی تلاش اور اس کے قیام کے لیے درپیش ہوتی ہے۔ ایک طرف انسان کے اندر خواہشات ہیں اور دوسری طرف اس کا ضمیر ہے۔ ایک طرف آسان راستہ ہے اور دوسری طرف ذمہ داری کا تقاضا۔ ایک طرف ذاتی مفاد ہے اور دوسری طرف حق و انصاف کا مطالبہ۔ یہی وہ شورش ہے جس سے گزرے بغیر انسان کی شخصیت پختہ نہیں ہوتی۔ اس لیے اقبال کہتے ہیں کہ مجھے پھول جیسی فراغت نصیب نہیں۔ میرے اندر ایک ایسا دل ہے جو زندگی کے سوالوں سے بے تعلق نہیں رہ سکتا اور ایک ایسی آرزو ہے جو مجھے خاموشی سے اپنی جگہ ٹھہرنے نہیں دیتی۔

پھر اقبال فرماتے ہیں:

اس چمن میں میں سراپا سوز و سازِ آرزو
اور تیری زندگانی بے گدازِ آرزو

یہ شعر اس پورے حصے کی اصل روح ہے کیونکہ یہاں اقبال انسانی زندگی اور پھول کی زندگی کے درمیان سب سے گہرا فرق بیان کرتے ہیں۔ پھول زندہ ہے مگر اس کی زندگی میں آرزو کی وہ آگ نہیں جو انسان کو مسلسل آگے بڑھاتی ہے۔ انسان کی پوری شخصیت آرزو سے بنتی ہے۔ اگر انسان کے اندر کسی بہتر حالت تک پہنچنے کی خواہش نہ ہو تو اس کی زندگی میں حرکت باقی نہیں رہتی۔ لیکن اقبال کی آرزو سے مراد عام خواہش نہیں۔ خواہش انسان کو بہت سی چیزیں مانگنے پر مجبور کرتی ہے مگر آرزو اس کے اندر کسی بلند تر حقیقت کی طلب پیدا کرتی ہے۔ خواہش کا تعلق اکثر اپنی ذات سے ہوتا ہے جبکہ آرزو انسان کو اپنی ذات سے بلند بھی کر سکتی ہے۔ خواہش آسائش چاہتی ہے مگر آرزو مقصد چاہتی ہے۔ خواہش کو چیزیں درکار ہوتی ہیں مگر آرزو کو معنی درکار ہوتے ہیں۔
اسی لیے اقبال اپنے آپ کو سراپا سوز و ساز آرزو کہتے ہیں۔ سوز اس درد اور بے چینی کا نام ہے جو انسان کو اپنے موجود حال پر مطمئن نہیں رہنے دیتا جبکہ ساز اس تخلیقی قوت کا نام ہے جو اسی بے چینی کو عمل میں تبدیل کر دیتی ہے۔ اگر انسان کے اندر صرف درد ہو اور اس سے کوئی عمل پیدا نہ ہو تو وہ درد اسے مایوسی کی طرف لے جاسکتا ہے لیکن جب درد کے ساتھ آرزو کی قوت شامل ہوجائے تو یہی درد زندگی کی تعمیر کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ انسان اپنے زخم سے سبق لیتا ہے۔ اپنی محرومی کو جستجو میں بدلتا ہے۔ اپنی کمزوری کو قوت حاصل کرنے کا سبب بناتا ہے اور اپنے سوالوں کو علم و معرفت کی تلاش میں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہی سوز اور ساز کا وہ تعلق ہے جسے سمجھے بغیر اقبال کے تصور خودی کو پوری طرح نہیں سمجھا جاسکتا۔
گل رنگیں کی زندگی کے مقابلے میں انسان کی زندگی گداز آرزو رکھتی ہے۔ اس گداز سے مراد وہ اندرونی کیفیت ہے جس میں انسان کا دل کسی بلند مقصد کے لیے پگھلتا ہے اور اپنے آپ کو بدلنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ انسان اپنی موجود حالت کو اپنی آخری حالت نہیں سمجھتا۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے اندر ایسی صلاحیتیں موجود ہیں جو ابھی ظاہر نہیں ہوئیں۔ وہ علم حاصل کرتا ہے۔ تجربہ سے سیکھتا ہے۔ اپنے کردار کی اصلاح کرتا ہے اور اپنی روحانی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی مسلسل بننے کا عمل انسانی زندگی کی اصل خصوصیت ہے اور اقبال کے نزدیک یہی زندگی کی سب سے بڑی علامت ہے۔
یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اقبال بے قراری کو سکون کے مقابلے میں کھڑا کرکے سکون کی نفی نہیں کرتے۔ اسلام انسان کو حقیقی اطمینان کی تعلیم دیتا ہے اور اقبال کا انسان بھی اپنے رب کے تعلق میں سکون حاصل کرتا ہے لیکن یہ سکون اسے سست اور بے عمل نہیں بناتا۔ اس کا دل ایمان سے مطمئن ہوسکتا ہے مگر اس کے ہاتھ عمل سے خالی نہیں ہوتے۔ اسے اپنے رب پر بھروسا ہوتا ہے مگر وہ اس بھروسے کو کوشش چھوڑ دینے کا بہانہ نہیں بناتا۔ یہی اقبال کی آرزو اور عام دنیاوی بے چینی کے درمیان بنیادی فرق ہے۔ دنیاوی ہوس کبھی ختم نہیں ہوتی کیونکہ وہ ہر حاصل کے بعد ایک نئی طلب پیدا کرتی ہے جبکہ اقبال کی آرزو انسان کو ایک بلند مقصد کے ساتھ وابستہ کرتی ہے اور اس کی بے قراری کو ایک سمت عطا کرتی ہے۔

گل رنگیں کے ان ابتدائی اشعار میں اقبال دراصل انسان سے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ زندگی میں صرف خوب صورت اور مطمئن نظر آنا چاہتا ہے یا زندگی کے بڑے سوالوں کو اپنے دل کا مسئلہ بھی بنانا چاہتا ہے۔ کیا وہ صرف بزم ہستی کی زینت ہے یا اس کی شورش میں شریک بھی ہے۔ کیا اس کے اندر خواہشیں تو بہت ہیں مگر کوئی بلند آرزو نہیں یا اس کے اندر وہ آگ موجود ہے جو اسے اپنے حال سے آگے بڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔ اقبال کے نزدیک انسان کی عظمت اسی آگ میں ہے کیونکہ یہی آرزو اسے تلاش پر آمادہ کرتی ہے۔ یہی تلاش اسے عمل کی طرف لے جاتی ہے اور یہی عمل اس کی شخصیت کو تعمیر کرتا ہے۔
یوں نظم گل رنگیں کے آغاز میں ایک نازک سے پھول کے ذریعے اقبال انسانی زندگی کے ایک نہایت گہرے مسئلے کو سامنے لے آتے ہیں۔ پھول کا حسن اپنی جگہ مکمل ہے مگر انسان کا کمال صرف حسن میں نہیں بلکہ اس بے قراری میں ہے جو اسے کسی اعلیٰ حقیقت کی تلاش میں آگے بڑھاتی رہتی ہے۔ اسی لیے اقبال کے نزدیک وہ دل زندہ ہے جس میں سوال کی خراش بھی ہو اور آرزو کا گداز بھی۔ جو زندگی کی شورش سے بھاگے نہیں بلکہ اپنے مقصد کے شعور کے ساتھ اس میں اپنا کردار ادا کرے اور جس کی بے قراری محض خواہشات کی آگ نہ ہو بلکہ اسے علم۔ کردار۔ عمل اور رضائے الٰہی کی طرف لے جانے والی روشنی بن جائے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔