ہمارے رسول اکرم ص کا بچوں کے ساتھ سلوک - قلم کار۔۔۔۔۔۔۔ستار فیضی کڑپہ آندھراپردیش انڈیا۔


ہمارے رسول اکرم ص کا بچوں کے ساتھ سلوک - 
قلم کار۔۔۔۔۔۔۔ستار فیضی کڑپہ آندھراپردیش انڈیا۔ 
        پیارے بچو
رسول اکرم کی سیرت ساری دنیا کےلے ایک بہترین نمونہ ہے۔آو آپ کی چند صفات کا ذکر کرتے ہیں۔حضور خوش مزاج،نرم دل اور مہربان تھے۔نہ بری بات کہی نہ غیبت کی۔ہر ایک سے محبت سے پیش آتے تھے۔کبھی کسی سے نہ جھگڑا نہ لڑائی اور نہ کسی کو گالی دی۔آپ خود اپنے کام کیا کرتے تھے۔کوئی بیمار ہوجاتے تو ان کی مزاج پرسی کےلے جاتے۔
ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ 
وسلم بچوں سے بہت پیار ومحبت کرتے تھے اور ان سے شفقت سے پیش آتے تھے۔آپ نے چھوٹوں پر رحم کرنے کی ہدایت دی۔آپ گلی کوچوں سے گزرتے تو کھیلتے ہوئے بچوں کو بھی سلام کرتے۔یہ آپ کی اچھی عادت تھی جو قابل تقلید ہے۔آپ نے بچوں کو جنت کے پھول کہا۔جب کبھی آپ اپنی بیٹی کے گھر جاتے تو اپنے نواسوں کو سینے سے لگاتے۔ایک مرتبہ آپ جارہے تھے تو وہاں امام حسین کھیلتے ہوئے نظر آتے تو آپ نے اپنی باہیں پھیلادی تو حسین نے آ کر نکل جاتے ،انہیں پکڑ کر کہتے حسین میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔
      ایک بدو نے آپ سے کہاآپ بچوں کو چومتے ہیں اور پیار کرتے ہیں۔میرے بھی بچے ہیں میں اپنے بچوں کو کبھی پیار نہیں کیا ہے۔سرکار نے فرمایا اللہ اگر تمہارے دل سے محبت اور شفقت جھین لے تو میں کیا کروں۔ خاص کر غریب اور یتیم بچوں کے سروں پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے اور دعا فرماتے۔آپ بچوں سے ہنسی مذاق بھی فرماتے اور ان کے ساتھ کھیل میں حصہ بھی لیتے۔
      حضور اقدس نے فرمایا جس ماں کو خدا اولاد کی محبت میں ڈالے اور وہ ان کا حق ادا کرے تو وہ دوزخ سے بچی رہے گی۔جب کسی کی یہاں بچہ پیدا ہوتا تو آقا کی خدمت میں وہ صحابیات بچے کو لاتے تو آپ اپنے منہ میں کھجور ڈالتے اور وہ بچوں کے منہ میں ڈال کر برکت کی دعا کرتے۔نبی کریم کی ایک بہترین عادت تھی کہ آپ کی خدمت میں میوہ آتا تو حاضرین میں سب سے پہلے کم سن بچوں میں تقسیم کرتے۔ایک دفعہ کسی لڑائی میں چند بچے مارے گئے یہ بات آپ کو معلوم ہوئی تو بہت ناراض ہوئے۔وہ دشمن کے بچے ہی کیوں نہ ہو انہیں قتل نہ کرو یہ آپ کے اخلاق تھے۔آپ حج کےلے مکہ تشریف لائے اور بنوہاشم کے لڑکوں نے آپ کا استقبال کیا تو آپ نے محبت کی وجہ سے ان کو اپنی اونٹنی پر
آگے پیچھے بٹھالیا۔
       ایک مرتبہ حضور اکرم عید کی نماز ادا کرنے کےلے عیدگاہ جارہے تھے۔تو آپ نے راستے میں ایک یتم لڑکے کو روتے ہوئے دیکھا اور پوچھا کہ بیٹا تم کیوں رو رہے ہو۔لڑکے نے جواب دیا میرے ماں باپ کا انتقال ہوچکا ہے۔آج عید کا دن ہے۔مجھے نئے کپڑے کون دلوائیں گے۔میں اسی دکھ درد اور غم میں رو رہا ہوں۔یہ سنتے ہی سرکار دوعالم کا دل بگھل گیا۔ آپ رحم دل تھے اس لڑکے کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور اپنے ساتھ اس کو لےکر گھر پہنچے۔اپنی بیٹی فاطمہ سے کہا بیٹی اس لڑکے کونہلاکر حسن یا حسین کے کپڑے پہنائیں تاکہ میں اس کو اپنے ساتھ عیدگاہ لے جاؤں اور وہاں نماز ادا کرنے کے بعد گھر واپس آؤں ۔لڑکے سے کہا کہ آج سے میں تمہارا باپ ہوں اور عائشہ تمہاری ماں ہوگئی۔حسن اور حسین تمہارے بھائی ہونگے ۔یہ سن کر وہ لڑکا بہت خوش ہوا ۔اور وہ اپنی قسمت پر رشک کرنے لگا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔