عید میلادالنبی ﷺ کیسے منائیں؟ - از قلم : شعیب احمد محمدی۔
عید میلادالنبی ﷺ کیسے منائیں؟ -
از قلم : شعیب احمد محمدی۔
ہر سال ربیع الاول آتے ہی ہمارے ذہن میں یہ سوال آتا ہیکہ جشن عیدمیلاد النبی ﷺ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ آئیے اس کو قرآن و حدیث کی روشنی میں سمجھتے ہیں۔
الف: کیا اللہ نے جلوس کا حکم دیا ہے؟
قرآن مجید میں نبی کریم ﷺ کی ولادت کے دن جلوس نکالنے، چراغاں کرنے یا مخصوص جشن منانے کا کوئی صریح حکم نہیں ہے۔ قرآن میں اللہ نے آپ ﷺ کی آمد کو رحمت کہا ہے:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ [الانبیاء: 107]
اور آپ ﷺ کی اطاعت اور محبت کا حکم دیا ہے۔ محبت کا اظہار ہر مسلمان پر فرض ہے۔
ب: کیا آپ ﷺ نے خود اپنا یوم ولادت منایا؟
صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ آپ ﷺ پیر کے دن روزہ رکھتے تھے، جب پوچھا گیا تو فرمایا:
ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ یہ وہ دن ہے جس دن میں پیدا ہوا۔
اس سے علماء نے یہ استدلال کیا ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے یوم پیدائش پر اللہ کا شکر روزہ رکھ کر ادا کیا، نہ کہ سالانہ جشن، جلوس یا عرس کی شکل میں۔ آپ ﷺ کی پوری زندگی میں 63 سال تک 12 ربیع الاول کو کوئی خاص محفل یا جلوس کا ثبوت نہیں ملتا۔
ج: کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے منایا؟
خلفائے راشدین، صحابہ، تابعین کے دور میں اس طرح کے سالانہ جشنِ میلاد کا کوئی اجتماعی ثبوت تاریخ کی معتبر کتب میں نہیں ملتا۔ صحابہ کی محبت اس میں تھی کہ وہ آپ ﷺ کی ایک ایک سنت پر جان دیتے تھے۔ میلاد النبی کا موجودہ رواج چوتھی صدی ہجری کے بعد شروع ہوا۔
د: کیا مسلمانوں کی تین عیدیں ہیں؟
حدیث میں ہے:
مسلمانوں کے لیے دو عیدیں ہیں، عید الفطر اور عید الاضحیٰ [سنن ابی داؤد]
یہ دو عیدیں شریعت کی اصطلاحی عیدیں ہیں جن کی باقاعدہ نماز، خطبہ اور احکام ہیں۔
عید میلاد النبی کو عید کہنا لغوی معنی میں ہے، یعنی خوشی کا دن۔ اس لیے اس کی نہ کوئی مخصوص نماز ہے، نہ خطبہ، نہ قربانی، نہ اس کا کوئی وقت مقرر ہے جیسے عیدین کی نماز عیدگاہ میں صبح کے وقت ہوتی ہے۔ اگر یہ تیسری شرعی عید ہوتی تو اس کی نماز کا طریقہ بھی نبی ﷺ سے ثابت ہوتا۔
آج ہمارے معاشرے میں 12 ربیع الاول کے موقع پر دو طرح کے عمل نظر آتے ہیں:
مثبت عمل: سیرت کے جلسے، نعت خوانی، قرآن خوانی، غرباء کو کھانا کھلانا، بچوں کو آپ ﷺ کی زندگی کے بارے میں بتانا۔ یہ کام اگر نمود و نمائش سے پاک ہوں تو اچھے ہیں۔
منفی عمل: راستے بند کر کے جلوس، اونچی آواز میں ڈی جے، بے جا چراغاں میں بجلی کا ضیاع، ایک دوسرے پر فتوے بازی اور لڑائی۔ اس سے دین کا حسن مجروح ہوتا ہے اور عام لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے، جس سے اسلام نے منع کیا ہے۔
ہر مسلمان کے دل میں آپ ﷺ کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ یہ محبت جذبات سے نہیں بلکہ اتباع سے ثابت ہوتی ہے۔
اخلاقی سوال یہ ہے: کیا ہم صرف ایک دن جھنڈیاں لگا کر عاشق رسول بن جائیں اور باقی 364 دن ہماری زندگی میں سنت کا کوئی عمل نہ ہو؟ جھوٹ، دھوکہ، سود، بد اخلاقی باقی رہے تو یہ محبت ادھوری ہے۔
سچی محبت یہ ہے کہ ہم اپنی زبان، کردار، کاروبار اور گھر میں آپ ﷺ کی سنت کو زندہ کریں۔
تو پھر ولادت مبارکہ ﷺ پر کیا کرنا چاہیے؟
علماء نے اس کے لیے بہترین طریقہ یہ بتایا ہے:
1. شکر کا اظہار: روزہ، نوافل، درود شریف کی کثرت۔
2. سیرت کا مطالعہ: گھر میں بچوں کے ساتھ آپ ﷺ کی زندگی، اخلاق اور رحمت پر بات کریں۔
3. اطاعت میں اضافہ: اس دن یہ عہد کریں کہ ایک سنت کو اپنی زندگی میں مستقل اپنائیں گے۔
4. خدمت خلق: آپ ﷺ تو ساری دنیا کے لیے رحمت بن کر آئے، تو کسی بھوکے کو کھانا کھلانا، یتیم کی مدد کرنا سب سے بہترین جشن ہے۔
خلاصہ کلام: اسلام ہمیں شخصیت پرستی کے بجائے سیرت پرستی سکھاتا ہے۔ نبی ﷺ کی ولادت یقیناً سب سے بڑی نعمت ہے، اس نعمت کا شکر ہر دن، ہر لمحہ آپ ﷺ کی اطاعت اور آپ ﷺ پر درود بھیج کر ادا کرنا ہی اصل جشنِ میلاد ہے۔
Comments
Post a Comment