اپنی بے چینی پر قابو پائیے ذہنی سکون کی طرف ایک قدم - از قلم : محمود علی۔
اپنی بے چینی پر قابو پائیے ذہنی سکون کی طرف ایک قدم -
از قلم : محمود علی۔
بے چینی انسانی ذہن کا ایک فطری ردِعمل ہے۔ جب ہمیں مستقبل کی فکر لاحق ہوتی ہے حالات غیر یقینی محسوس ہوتے ہیں یا ہمیں لگتا ہے کہ معاملات ہمارے اختیار سے باہر جا رہے ہیں تو ذہن اضطراب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ لیکن بے چینی ہمیشہ ہماری دشمن نہیں ہوتی یہ دراصل ذہن کی ایک انتباہی گھنٹی ہے، جو ہمیں متوجہ کرتی ہے کہ رکیں، صورتِ حال کو سمجھیں اور بہتر انداز میں ردِعمل ظاہر کریں۔
اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وقتی فکر مسلسل اوورتھنکنگ اور ذہنی دباؤ میں تبدیل ہوجائے۔
حال میں جینا سیکھیے
بے چینی پر قابو پانے کا ایک مؤثر طریقہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو موجودہ لمحے میں واپس لایا جائے۔ ہم اکثر اس بات سے پریشان نہیں ہوتے جو اس وقت ہو رہی ہے، بلکہ ان باتوں سے خوف زدہ ہوتے ہیں جو شاید مستقبل میں ہوں۔
گہری سانس لیجیے، اپنے اردگرد کی چیزوں پر توجہ دیجیے اور اپنے موجودہ کام پر یکسوئی اختیار کیجیے۔
اپنے آپ سے کہیے
"کل کی فکر کل کریں گے؛ آج ہمیں آج ہی جینا ہے۔"
جس پر اختیار ہے، اسی پر توجہ دیں
زندگی میں بہت سی چیزیں ہمارے اختیار میں نہیں ہوتیں دوسروں کی رائے، گزرے ہوئے واقعات، بعض غیر متوقع حالات اور مستقبل۔
اس لیے اپنی ذہنی توانائی ان چیزوں پر صرف نہ کریں جنہیں آپ تبدیل نہیں کرسکتے۔ اپنی توجہ اپنے رویّے، فیصلوں، عادات اور عملی اقدامات پر مرکوز کریں۔
یہ سوچ کہ "یہ میرے ساتھ کیوں ہوا؟" کے بجائے اب میں اس صورتِ حال کے لیے کیا کرسکتا ہوں؟ انسان کو ذہنی طور پر مضبوط بناتی ہے۔
منفی خیالات کو چیلنج کریں
بے چین ذہن اکثر ہر معاملے کا بدترین نتیجہ تصور کرنے لگتا ہے۔ معمولی مسئلہ بھی بہت بڑا خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے۔
جب کوئی منفی خیال ذہن میں آئے تو خود سے چند سوال کریں
- کیا یہ خیال حقیقت پر مبنی ہے یا صرف خوف پر؟
- کیا میں صورتِ حال کا بدترین پہلو ہی تصور کر رہا ہوں؟
- کیا اس معاملے کو دیکھنے کا کوئی دوسرا مثبت اور متوازن طریقہ بھی ہے؟
- اگر یہی مسئلہ کسی دوست کو درپیش ہوتا تو میں اسے کیا مشورہ دیتا؟
منفی سوچ کو حقیقت پسندانہ اور متوازن سوچ سے بدلنے کی کوشش آہستہ آہستہ ذہنی دباؤ کو کم کرسکتی ہے۔
جسم کا خیال، ذہن کا سکون
ذہنی صحت کا تعلق جسمانی صحت سے بھی گہرا ہے۔ مناسب نیند، متوازن غذا، ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمی اور آرام ذہنی سکون میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
ضرورت سے زیادہ کیفین اور مسلسل پریشان کن خبروں سے بھی پرہیز کرنا مفید ہے۔ جس طرح جسم کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح ذہن کو بھی خاموشی اور وقفے کی ضرورت ہوتی ہے۔
کسی قابلِ اعتماد شخص سے بات کریں
جب ہم اپنی تمام پریشانیاں اپنے اندر ہی رکھتے ہیں تو ان کا بوجھ بڑھتا جاتا ہے۔ کسی قابلِ اعتماد دوست، گھر کے فرد، استاد، رہنما یا ماہرِ نفسیات سے گفتگو انسان کو ایک نیا نقطۂ نظر دے سکتی ہے۔
بعض اوقات صرف اپنے خیالات کو الفاظ میں بیان کردینا ہی ذہنی بوجھ کو ہلکا کردیتا ہے۔
شکرگزاری کو اپنی عادت بنائیں
شکرگزاری کا مطلب یہ نہیں کہ ہم زندگی کے مسائل کو نظرانداز کردیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم یہ بھی دیکھیں کہ ہماری زندگی میں مسائل کے علاوہ کتنی نعمتیں موجود ہیں۔
ہر روز چند ایسی چیزوں کو یاد کریں جن کے لیے آپ شکر گزار ہیں اپنے رشتے، صحت، علم، کسی عزیز کی محبت، ایک پُرسکون لمحہ یا زندگی کا ایک نیا دن۔
چھوٹی چھوٹی نعمتوں کی قدر انسان کی توجہ خوف سے ہٹا کر زندگی کی معنویت کی طرف لے جاتی ہے۔
چھوٹے قدم، بڑا سکون
بے چینی پر قابو پانے کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی میں کبھی پریشانی نہیں ہوگی۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم پریشانی کو اپنی زندگی کا حاکم نہ بننے دیں۔
ایک گہری سانس لیجیے۔
ایک چھوٹا سا کام مکمل کیجیے۔
ایک منفی خیال کو چیلنج کیجیے۔
کسی قابلِ اعتماد شخص سے بات کیجیے۔
اور اپنی زندگی میں ایک مثبت عادت شامل کیجیے۔
پُرسکون ذہن ایک دن میں نہیں بنتا؛ یہ روزانہ کے چھوٹے، مثبت اور مستقل فیصلوں سے تشکیل پاتا ہے۔
آخرکار ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہم زندگی میں پیش آنے والی ہر چیز کو کنٹرول نہیں کرسکتے، لیکن اپنے ردِعمل، اپنی سوچ اور اپنے رویّے کو بہتر بنانا ہمارے اختیار میں ضرور ہے۔
اور یہی ذہنی سکون کی طرف پہلا قدم ہے۔
Comments
Post a Comment