محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا: چراغاں نہیں، اتباعِ سنت اور پابندیٔ نماز - از قلم : عالمہ مبین پالیگار بیلگام کرناٹک۔ پرنسپل ماؤنٹ سینائی پی یو کالج۔


محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا: چراغاں نہیں، اتباعِ سنت اور پابندیٔ نماز - 
از قلم : عالمہ مبین پالیگار بیلگام کرناٹک۔ 
پرنسپل ماؤنٹ سینائی پی یو کالج۔ 
M A M ED 
8904317986
ربیع الاول کا مہینہ آتے ہی بہت سے لوگ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت کا اظہار مختلف انداز سے کرتے ہیں۔ کہیں محفلیں ہوتی ہیں، کہیں درود و سلام کی صدائیں بلند ہوتی ہیں، کہیں گھروں اور گلیوں کو روشن کیا جاتا ہے، کہیں جھنڈے اور سجاوٹ کی جاتی ہے۔ محبتِ رسول ﷺ یقیناً ایمان کا عظیم حصہ ہے، لیکن ایک سوال ہر مسلمان کو اپنے دل سے ضرور پوچھنا چاہیے:
کیا ہماری محبت صرف زبان، چراغاں، سجاوٹ اور نعروں تک ہے، یا ہماری زندگی بھی نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق ڈھل رہی ہے؟
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نبی کریم ﷺ کو ہمارے لیے بہترین نمونہ قرار دیتے ہوئے فرمایا:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
’’یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔‘‘
(سورۃ الاحزاب: 21)
یعنی محبتِ رسول ﷺ کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی میں رسول اللہ ﷺ کو اپنا نمونہ بنائے۔
نبی ﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک کیا تھی؟
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
حُبِّبَ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا النِّسَاءُ وَالطِّيبُ، وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ
’’دنیا کی چیزوں میں عورتیں اور خوشبو مجھے محبوب بنائی گئی ہیں، اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔‘‘
یہ روایت سنن نسائی وغیرہ میں منقول ہے اور اسے محدثین نے حسن/صحیح قرار دیا ہے۔
ذرا غور کیجیے!
جس نبی ﷺ سے ہم محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک نماز تھی۔
تو پھر ہماری محبت کا امتحان کہاں ہے؟
اگر 12 ربیع الاول کو ہم گلیاں روشن کردیں، گھروں کو سجا دیں، نعتیں پڑھیں، درود پڑھیں، لیکن فجر کی اذان پر ہماری آنکھ نہ کھلے، ظہر کے وقت ہمارا کاروبار ہمیں نماز سے روکے، عصر دنیا کے کاموں میں گزر جائے، مغرب اور عشاء ہماری مصروفیات کی نذر ہوجائے، تو ہمیں اپنے دل سے یہ سوال کرنا چاہیے:
کیا ہم واقعی اپنے محبوب نبی ﷺ کے طریقے پر چل رہے ہیں؟
اذان ہمیں کس کامیابی کی طرف بلاتی ہے؟
دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے انسان دن رات دوڑتا ہے۔ کوئی کاروبار کے پیچھے ہے، کوئی ملازمت کے، کوئی دولت کے، کوئی گھر اور جائیداد کے، کوئی شہرت کے۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے دن میں پانچ مرتبہ ہمیں اس کامیابی کی طرف بلایا ہے جس کے بعد کی کامیابی ہمیشہ رہنے والی ہے۔
اذان میں پکارا جاتا ہے:
حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ
آؤ نماز کی طرف!
پھر فرمایا جاتا ہے:
حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ
آؤ کامیابی کی طرف!
کتنا عجیب منظر ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں پانچ مرتبہ کامیابی کی طرف بلاتا ہے، لیکن ہم میں سے بعض لوگ بستر نہیں چھوڑتے، کاروبار نہیں چھوڑتے، موبائل نہیں چھوڑتے، دنیاوی مصروفیات نہیں چھوڑتے۔
ہم دنیاوی کامیابی کے لیے اپنی نیند قربان کر دیتے ہیں، لیکن فجر کے لیے نیند قربان نہیں کر پاتے۔
ہم کاروبار کے لیے گھنٹوں کھڑے رہ سکتے ہیں، مگر اللہ کے سامنے چند منٹ کھڑے ہونے میں ہمیں بوجھ محسوس ہوتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اپنے دعوائے محبت کا محاسبہ کرنا چاہیے۔
پانچ نمازوں کے بارے میں نبی ﷺ کی بشارت
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جو شخص ان نمازوں کو ادا کرے اور ان کے حق کو معمولی سمجھ کر ان میں کوتاہی نہ کرے، اللہ تعالیٰ کے ذمہ اس کے لیے عہد ہے کہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا؛ اور جو ان میں کوتاہی کرے، اس کے لیے ایسا عہد نہیں، اللہ چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو معاف فرمائے۔
(سنن ابن ماجہ: 1401، سنن نسائی: 461)
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ نماز کوئی معمولی عبادت نہیں بلکہ جنت کے راستے کی بنیادی علامت ہے۔
ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے پانچ نمازوں کو گناہوں کے کفارے کا ذریعہ قرار دیا، بشرطیکہ بڑے گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔
(صحیح مسلم: 233a)
اور ایک حدیث میں پانچ نمازوں کی مثال ایسے بہتے ہوئے دریا سے دی گئی جس میں کوئی شخص روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرے؛ کیا اس کے جسم پر میل باقی رہے گا؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسی طرح پانچ نمازوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ (صحیح مسلم: 668)
تو پھر ہم اس عظیم نعمت کو چھوڑ کر کامیابی کہاں تلاش کر رہے ہیں؟
نبی ﷺ کی زندگی آسائش نہیں، آخرت کی فکر سکھاتی تھی
رسول اللہ ﷺ دنیا کے سب سے محبوب انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو آپ ﷺ کے لیے دنیا کے خزانے کھول دیتا۔ آپ ﷺ کے لیے محلات بن سکتے تھے، بہترین بستر آسکتے تھے، دنیا کی ہر آسائش آپ ﷺ کے قدموں میں پیش کی جاسکتی تھی۔
لیکن آپ ﷺ نے دنیا کو اپنی منزل نہیں بنایا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ کو کھجور کی چھال سے بنے ہوئے چٹائی پر آرام فرماتے دیکھا، جس کے نشانات آپ ﷺ کے جسم مبارک پر پڑ گئے تھے۔ اس واقعے میں نبی ﷺ نے دنیا کے ساتھ اپنے تعلق کو ایک مسافر کی طرح بیان فرمایا کہ دنیا میں انسان کا قیام عارضی ہے۔
یہاں ہمیں ایک اہم بات سمجھنی چاہیے:
اسلام دنیا کی حلال نعمتوں کو حرام نہیں کرتا۔
اسلام یہ نہیں کہتا کہ اچھا گھر نہ بناؤ، اچھا لباس نہ پہنو، حلال رزق نہ کماؤ یا اپنی زندگی کو بہتر نہ بناؤ۔
بلکہ اصل تعلیم یہ ہے کہ دنیا ہاتھ میں ہو، دل میں نہ ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے امت کو دنیا سے بھاگنا نہیں بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے اللہ سے تعلق مضبوط کرنا، حلال کمانا، حقوق ادا کرنا، عبادت کرنا اور آخرت کی تیاری کرنا سکھایا۔
کیا چراغاں ہی محبتِ رسول ﷺ کا معیار ہے؟
یہاں ایک بنیادی سوال ہے:
اگر کوئی شخص نبی ﷺ کی محبت میں چراغاں کرے، مگر نماز نہ پڑھے تو اس محبت کا عملی ثبوت کہاں ہے؟
اگر کوئی شخص نعت خوانی کرے، مگر والدین کے ساتھ بدسلوکی کرے تو سنت کہاں ہے؟
اگر کوئی درود و سلام پڑھے، مگر پڑوسی کو تکلیف دے تو سیرت کہاں ہے؟
اگر کوئی رسول اللہ ﷺ کی ولادت کا ذکر کرے، مگر کاروبار میں جھوٹ، دھوکہ اور خیانت کرے تو محبت کہاں ہے؟
اگر کوئی نبی ﷺ کا نام سن کر جذباتی ہوجائے، مگر آپ ﷺ کے احکام سن کر اپنی خواہشات کو ترجیح دے تو اتباع کہاں ہے؟
قرآن ہمیں واضح اصول دیتا ہے:
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا
’’رسول تمہیں جو کچھ دیں اسے لے لو، اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔‘‘
(سورۃ الحشر: 7)
یعنی محبت کا راستہ اتباع سے گزرتا ہے۔
سب سے بڑا چراغ دل کے اندر روشن ہونا چاہیے
گلیوں میں ہزاروں بلب روشن ہوں، لیکن اگر دل میں ایمان کا چراغ بجھا ہوا ہو تو ہمیں سوچنا چاہیے۔
گھر باہر سے روشن ہو اور اندر نماز نہ ہو تو کیا فائدہ؟
مسجد کے قریب سے جلوس گزرے اور اذان کی آواز آتے ہی نماز کے لیے صفیں خالی رہیں تو کیا یہ ہمارے لیے لمحۂ فکریہ نہیں؟
ہم نبی ﷺ کے نام پر روشنی ضرور کریں، لیکن اس سے پہلے اپنے دل، گھر، کردار اور اعمال کو سنت کی روشنی سے روشن کریں۔
اپنے گھر میں قرآن کی تلاوت ہو۔
اپنے بچوں کو نماز سکھائی جائے۔
والدین کا احترام ہو۔
پڑوسیوں کے حقوق ادا ہوں۔
کاروبار میں دیانت ہو۔
زبان جھوٹ، غیبت اور گالی سے محفوظ ہو۔
نگاہیں حرام سے بچیں۔
رزق حلال ہو۔
اور پانچوں نمازیں وقت پر ادا ہوں۔
یہ وہ چراغ ہیں جن کی روشنی قیامت کے دن کام آئے گی۔
محبتِ رسول ﷺ کا سب سے بڑا ثبوت
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ
’’اے نبی! کہہ دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔‘‘
(آل عمران: 31)
اس آیت کا پیغام بہت واضح ہے:
محبت کا دعویٰ اتباع کے بغیر ادھورا ہے۔
ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ فلاں شخص محبت نہیں کرتا کیونکہ وہ ہماری طرح نہیں مناتا؛ بلکہ ہر مسلمان کو پہلے اپنے دل سے پوچھنا چاہیے:
کیا میں رسول اللہ ﷺ کی سنت پر کتنا عمل کر رہا ہوں؟
آئیے اس ربیع الاول میں ایک عہد کریں
اس سال اگر ہم واقعی رسول اللہ ﷺ سے محبت کا اظہار کرنا چاہتے ہیں تو صرف ظاہری سجاوٹ پر اکتفا نہ کریں۔
ایک عہد کریں:
میں پانچوں نمازیں پابندی سے ادا کروں گا۔
میں فجر کی نماز کے لیے اپنی نیند قربان کروں گا۔
میں قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کروں گا۔
میں نبی ﷺ کی سنتوں کو اپنی زندگی میں زندہ کرنے کی کوشش کروں گا۔
میں والدین، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور تمام انسانوں کے حقوق ادا کروں گا۔
میں جھوٹ، غیبت، دھوکے اور حرام کمائی سے بچوں گا۔
میں اپنے بچوں کو سیرتِ رسول ﷺ اور نماز کی تعلیم دوں گا۔
میں محبتِ رسول ﷺ کو صرف زبان سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے ثابت کرنے کی کوشش کروں گا۔
کیونکہ نبی کریم ﷺ سے محبت کا سب سے خوبصورت انداز یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو آپ ﷺ کی سنت کے قریب لے آئیں۔
چراغ چند گھنٹوں کے بعد بجھ جاتے ہیں، سجاوٹ اتر جاتی ہے، جھنڈے لپیٹ دیے جاتے ہیں، محفلیں ختم ہوجاتی ہیں؛
لیکن سنت کی روشنی انسان کے ساتھ قبر تک جاتی ہے۔
اس لیے ربیع الاول ہمیں صرف یہ یاد نہ دلائے کہ نبی ﷺ دنیا میں تشریف لائے تھے، بلکہ یہ بھی یاد دلائے کہ:
آپ ﷺ ہمارے لیے کیا تعلیمات لے کر آئے تھے؟
اور سب سے اہم سوال:
ہم نے ان تعلیمات میں سے اپنی زندگی میں کتنا اختیار کیا؟
اللہ تعالیٰ ہمیں سچی محبتِ رسول ﷺ، کامل اتباعِ سنت، پانچوں نمازوں کی پابندی، قرآن سے تعلق اور نبی کریم ﷺ کے اخلاق و کردار کو اپنی زندگی میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔