حقوق العباد — اسلام میں اس کی اہمیت اور ہماری ذمہ داری - از قلم : عالمہ مبین پالیگار۔ پرنسپل ماؤنٹ سینائی پی یو کالج بیلگام کرناٹک


حقوق العباد — اسلام میں اس کی اہمیت اور ہماری ذمہ داری
از قلم: عالمہ مبین پالیگار۔ 
پرنسپل ماؤنٹ سینائی پی یو کالج بیلگام کرناٹک
M A M ED 
8904317986

یہ کیسے لوگوں سے واسطہ پڑ گیا ہے
 ذکر خدا تو ہے خوف خدا نہیں
حقوق العباد سے مراد اللہ تعالیٰ کے بندوں کے وہ حقوق ہیں جو ایک انسان پر دوسرے انسانوں کے سلسلے میں لازم ہوتے ہیں۔ اسلام ہمیں صرف اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے کا حکم نہیں دیتا بلکہ والدین، اولاد، بیوی، شوہر، رشتہ دار، پڑوسی، دوست، ملازم، استاد، شاگرد اور معاشرے کے ہر فرد کے ساتھ انصاف، حسنِ سلوک اور حق کی ادائیگی کی بھی تعلیم دیتاہے۔
حقوق العباد کی چند اہم مثالیں
والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا، بیوی اور بچوں کے حقوق ادا کرنا، کسی پر ظلم نہ کرنا، کسی کا مال ناحق نہ لینا، قرض ادا کرنا، امانت میں خیانت نہ کرنا، وعدہ پورا کرنا، کسی کی عزت و آبرو کو نقصان نہ پہنچانا، غیبت، بہتان اور تہمت سے بچنا، پڑوسی کا خیال رکھنا، یتیم، مسکین اور ضرورت مند کی مدد کرنا، ملازمین اور ماتحتوں کے ساتھ انصاف کرنا اور کسی کا حق نہ دبانا—یہ سب حقوق العباد میں شامل ہیں۔
اسلام میں حقوق العباد کی اہمیت
اسلام نے حقوق العباد کو بہت عظیم اہمیت دی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
«وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهٖ شَيْئًا وَّبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَّبِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَتَامٰى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ...
(سورۃ النساء: 36)»
یعنی اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور والدین، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔
یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے ساتھ ہی بندوں کے حقوق اور حسنِ سلوک کا ذکر فرمایا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کی زندگی میں حقوق العباد کی کتنی اہمیت ہے۔
کیا ہماری عبادت میں حقوق العباد کی فکر بھی شامل ہے؟
ہم جس فکر، اخلاص اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں، کیا اسی فکر کے ساتھ اللہ کے بندوں کے حقوق بھی ادا کرتے ہیں؟
ہم نماز کے وقت یہ فکر کرتے ہیں کہ نماز میں کوئی کمی نہ رہ جائے، روزے کے بارے میں فکر کرتے ہیں کہ کوئی ایسی چیز نہ ہو جو روزہ خراب کردے، زکوٰۃ کا حساب احتیاط سے کرتے ہیں؛ لیکن کیا ہم اسی فکر اور احتیاط کے ساتھ یہ بھی سوچتے ہیں کہ:
کہیں ہماری وجہ سے کسی بندے کا حق تو ضائع نہیں ہو رہا؟
کسی کا دل تو نہیں ٹوٹ رہا؟
کسی کی عزت تو مجروح نہیں ہو رہی؟
کسی کا مال تو ہمارے ذمہ نہیں؟
کسی کی امانت تو ہمارے پاس نہیں؟
کسی پر ظلم یا زیادتی تو نہیں ہو رہی؟
ہماری زبان سے کسی کی غیبت، بہتان یا دل آزاری تو نہیں ہو رہی؟
یہ سوال ہر مسلمان کو اپنے آپ سے ضرور کرنا چاہیے۔
حقوق اللہ اور حقوق العباد
حقوق اللہ: اللہ تعالیٰ سے متعلق حقوق، مثلاً نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور دیگر عبادات۔
حقوق العباد: اللہ تعالیٰ کے بندوں سے متعلق حقوق، مثلاً جان، مال، عزت، امانت، وقت اور جائز حقوق کی حفاظت۔
ایک مسلمان کی حقیقی نیکی یہ ہے کہ وہ اللہ کا حق بھی ادا کرے اور اللہ کے بندوں کا حق بھی ادا کرے۔
رسول اللہ ﷺ نے مفلس شخص کی مثال بیان فرمائی۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ قیامت کے دن ایک شخص نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی، کسی پر تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی پر ظلم کیا یا کسی کو مارا۔ چنانچہ اس کی نیکیاں مظلوموں میں تقسیم کردی جائیں گی، اور اگر اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں تو مظلوموں کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے۔
(صحیح مسلم)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف بہت زیادہ عبادت کرنا کافی نہیں، بلکہ لوگوں کے حقوق ادا کرنا اور ظلم و زیادتی سے بچنا بھی نجات کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
ایک بہت اہم حقیقت
ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدے کرتے ہیں، قرآن پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں اور نیکیاں جمع کرتے ہیں؛ لیکن اگر ہماری زبان سے لوگوں کی عزت محفوظ نہیں، ہمارے ہاتھ سے لوگوں کا مال محفوظ نہیں، ہمارے معاملات میں انصاف نہیں اور ہمارے رویے سے دوسرے لوگ محفوظ نہیں، تو ہمیں اپنی اصلاح کی ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ کی عبادت ہمیں اللہ کا بندہ بناتی ہے، جبکہ حقوق العباد کی ادائیگی ہمیں اللہ کے بندوں کے لیے رحمت بناتی ہے۔
حقیقی تقویٰ یہ ہے کہ ہماری عبادت بھی درست ہو، ہمارا معاملہ بھی درست ہو، ہماری زبان بھی پاک ہو، ہمارے ہاتھ بھی ظلم سے محفوظ ہوں اور ہمارے سبب دوسرے انسان بھی امن و سکون میں رہیں۔
اس لیے ہر رات سونے سے پہلے اپنے آپ سے ضرور پوچھیں:
"آج میں نے اللہ کا کون سا حق ادا کیا، اور اللہ کے بندوں کا کون سا حق ادا کیا؟
اور کیا میری وجہ سے کسی بندے کا کوئی حق ضائع تو نہیں ہوا؟"
کیونکہ کامیاب مسلمان وہ ہے جو اللہ کا بھی وفادار بندہ ہو اور اللہ کے بندوں کے لیے بھی خیر، عدل اور رحمت کا ذریعہ بنے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔