وراثت کی تقسیم - از قلم : ظفر ھاشمی ندوی،(سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)


وراثت کی تقسیم - 
از قلم : ظفر ھاشمی ندوی،
(سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)

لفظ وراثت کا مطلب ہی اسلامی شریعت کے مطابق تقسیم ہے-
کسی کی بھی وفات پر سب سے پہلے اگر اس پر کسی کا قرض باقی ہے تو وہ ادا ہوگا- اس کے بعد اگر اس نے شرعی وارثوں کے علاوہ کسی غیر وارث کے لئے کسی بھی نیک کام کے لئے اپنے مال میں وصیت کی تھی تو اس وصیت کے مطابق اس کے جملہ مال کے ایک تہائی حصہ میں سے اس وصیت پر عمل ہوگا- اگر وصیت میں ایک تہائی سے زیادہ دینے کی وصیت کی تھی تو اس زیادہ کو نہیں دیا جائے گا- اس کے بعد ورثاء میں باقی مال تقسیم ہوگا-
اگر ماں باپ میں سے کسی ایک کا انتقال ہو جائے(اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہر مسلمان کے والدین صحت و عافیت والی زندگی گذاریں اور جب جب جس کا وقت پورا ہو جائے ، اس کا ایمان پر خاتمہ ہو اللہم آمین)-
تو ایسی صورت میں ماں یا باپ میں جو بھی زندہ ہو ان کے ساتھ ساتھ بیٹے اور بیٹیوں کی جملہ تعداد کے لحاظ سے جائیداد تقسیم ہو گی - اس کی تفصیل یوں ہے :
اگر بیوی کا انتقال ہو جائے اور اس سے اولاد نہ ہو تو شوھر کو اس کے مال و جائداد کا آدھا حصہ ملے گا- اور اگر اس سے اولاد ہے تو پھر شوھر کو مرحومہ کے مال و جائداد کا چوتھائی حصہ ملے گا- اگر اس پر قرض نہ ہو اور کوئی وصیت بھی نہ کی ہو ورنہ پہلے قرض کی ادائیگی اور وصیت پر عمل ہوگا- 
اگر شوھر کا انتقال ہو جائے تو اولاد نہ ہونے کی صورت میں بیوی کو مرحوم کی کل جائداد ومال کا چوتھائی حصہ ملے گا- اور اگر مرحوم سے اولاد ہے تو پھر کل جائداد کا آٹھواں حصہ ملے گا- 
ماں یا باپ میں سے کسی کے بھی انتقال پر ہر بیٹے کو دو حصے اور ایک یا دو بیٹیاں ہوں تو ہر بیٹی کو ایک حصہ ملے گا- اگر بیٹیاں دو سے زیادہ ہوں تو  تمام بیٹیوں کو ماں یا باپ کی کل جائداد کا دو تہائی حصہ ملے گا -
اگر کسی کی اولاد میں صرف ایک بیٹی ہے تو اسے کل جائداد کا آدھا حصہ ملے گا-
اگر کسی کے بیٹے کا ماں باپ سے پہلے انتقال ہو جائے اور اس کے اولاد بھی ہو تو ماں باپ میں سے ہر ایک کو کل جائداد کا چھٹا حصہ ملے گا- اور اگر اس کو اولاد ہی نہ ہو اور مرحوم کے ماں باپ وارث ہوں تو ماں کو کل جائداد کا ایک تھائی حصہ ملے گا-اور اگر مرحوم کے بھائی ہوں تو پھر ماں کو قرض اور وصیت پر عمل کے بعد کل جائداد کا چھٹا حصہ ملے گا-
اگر کسی شخص کے انتقال پراس کے والدین یا دادا دادی نانا نانی میں سے کوئی بھی زندہ نہ ہو اور اس کی اولاد اور ان اولاد کی اولاد بھی نہ ہو تو اسے ( کلالہ) کہتے ہیں -لیکن اگر کلالہ کا ایک بھائی یا ایک بہن زندہ ہے تو ان میں سے ھر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا- اور اگر یہ بھائی بہن ایک سے زیادہ ہیں تو ان سب کو ملا کر ایک تہائی حصہ ملے گا -
تقسیم کی ہر صورت میں سب سے پہلے قرض کی ادائیگی اور وصیت ہونے پر اس پر عمل ہوگا بعد میں ورثاء کو اپنا اپنا حصہ ملے گا-
ہمارے معاشرہ میں اولاد ماں باپ کا حصہ ھڑپ کر جاتے ہیں اور بھائی بہنوں کا حصہ ھڑپ کر لیتے ہیں - دلیل یہ دیتے ہیں کہ بہنوں کی شادیوں پر یہ حصے خرچ ہو چکے- یہ انتہائی بد بختی کی بات ہے اور قرآن وحدیث سے کہیں بھی ثابت نہیں ہے- ایسے گستاخوں کو سخت سے سخت سزا ملنی چاھیے- کاش ھماری بھنیں ایسے لالچی بھائیوں کو یہ جواب دیں کہ تمہاری تعلیم اور شادیوں پر بھی سب خرچ ہوگیا لہذا تم کو بھی کچھ نہیں ملنا چاھیے- 
صاف سیدھی بات یہ ہے کہ جس بھائی بہن اور ماں باپ کا جو حصہ قرآن سے ثابت ہو گیا اس کی ادائیگی دنیا میں ضروری ہے-ان حصوں کے بیان کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: یہ اللہ کی بیان کی ہوئی حدیں ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا رہے گا اللہ اسے ایسی جنتوں میں جگہ دےگا جن کے نیچے نھریں بھہ رہی ہوں گی اور یہی بڑی کامیابی ہے - اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گااور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں کو پار کرے گا اس کو آگ میں ڈال دیا جائے گا جس میں ہمیشہ پڑا رہے گا اور یہ اس کے لیے ذلت بھرا عذاب ہوگا -

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔