میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا حقیقی پیغام حسنِ اخلاق، محبت، اخلاص اور خدمتِ خلق ہے: خواجہ ضیاء الحسن جاگیردار شاہ منور چشتی شیرسواری کا خطاب۔


بیدر، 29/ اگست (نامہ نگارمحمد عبدالصمد  ) ’’جشنِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ محض چراغاں، جھنڈے لگانے اور جلوس نکالنے کا نام نہیں بلکہ اس کا اصل پیغام یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں رسولِ اکرم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کو اپنائیں، محبت و اخلاص پیدا کریں، نماز کی پابندی کریں، کثرت سے ذکرِ الٰہی کریں اور مخلوقِ خدا کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں۔ مسلمان کا کردار ایسا ہونا چاہیے کہ اس سے ملنے والا ہر شخص اس کے حسنِ اخلاق سے متاثر ہو اور محسوس کرے کہ یہ کسی پیرِ کامل اور نیک انسان کی صحبت سے فیضیاب ہے۔‘‘ ان روحانی خیالات کا اظہار تقدس مآب پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت حضرت علامہ مولانا خواجہ ضیاء الحسن جاگیردار شاہ منور چشتی نظامی شیرسواری صاحب قبلہ، موروثی سجادہ نشین و متولی درگاہ حضرت سید تاج الدین شیر سوار المعروف راجہ باگ شیر سوارؒ نے مرکزی میلاد کمیٹی، مجلس فیضان حضرت شیر سوار، مریدین حضرت افضل پیرؒ، نظامی ویلفیئر سوسائٹی و میلاد کمیٹی بسواکلیان کے زیرِ اہتمام منعقدہ 47ویں عظیم الشان مرکزی جلسۂ عید میلاد النبی ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ گاندھی چوک میں منعقدہ روحانی جلسہ سے حضرت مولانا سید صغیر احمد نقشبندی، شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ حیدرآباد اور مولانا مفتی سید شاہ حسینی پیرِاں کامل جامعہ نظامیہ نے بھی خطاب کیا۔ خواجہ ضیاء الحسن شاہ منور چشتی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ عظیم احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنے محبوب رسولِ اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کا جشن منانے، جلوس نکالنے اور آپ ﷺ کی سیرت و تعلیمات بیان کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ اگر اللہ تعالیٰ کا کرم نہ ہوتا تو ہم یہ خدمت انجام نہیں دے سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشی میں کی جانے والی سجاوٹ اور چراغاں سرکارِ دو عالم ﷺ سے ہماری محبت و عقیدت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے علاوہ عیدِ میلاد کہاں سے آئی؟ انہوں نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت پوری انسانیت کے لیے سب سے بڑی خوشی اور مسرت کا موقع ہے۔ ان کے والدِ محترم حضرت خواجہ ابوالحسن افضل پیرؒ فرمایا کرتے تھے کہ عیدِ میلاد تمام عیدوں سے بڑھ کر عید ہے، کیونکہ عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ سمیت تمام نعمتیں ہمیں حضور اکرم ﷺ کے صدقے میں حاصل ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت خواجہ ابوالحسن افضل پیرؒ نے 8 جنوری1982ء بروز جمعہ پہلا جلوس اور جلسہ منعقد کیا تھا اور ابتدائی دور ہی سے میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی عظمت و اہمیت کو اجاگر فرمایا۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ، یعنی اے محبوب! ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بڑھ کر رسولِ اکرم ﷺ کی شان کیا ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے محبوب کے ذکر کو بلند فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ رسولِ اکرم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ پوری انسانیت کے لیے نمونہ ہیں۔ آپ ﷺ یتیموں، غریبوں اور ضرورت مندوں سے بے پناہ محبت فرماتے تھے۔ انہوں نے عید کے موقع پر ایک یتیم بچے کو غمگین دیکھنے اور حضور اکرم ﷺ کی جانب سے اسے شفقت و محبت سے اپنے سینے سے لگانے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ سرکارِ دو عالم ﷺ نے غریبوں، یتیموں اور بے سہارا لوگوں سے محبت اور ان کی دلجوئی کا درس دیا۔ انہوں نے حضرت بلالؓ اور حضرت عمرؓ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی صحبت نے حضرت عمرؓ کے اندر ایسا ادب و تواضع پیدا کیا کہ بعد میں جب بھی حضرت بلالؓ سامنے آتے تو حضرت عمرؓ احتراماً کھڑے ہوجاتے اور انہیں عزت سے اپنا سردار کہتے۔ انہوں نے کہا کہ آج انسان معمولی دولت یا منصب ملنے پر تکبر و غرور میں مبتلا ہوجاتا ہے، جبکہ صحابۂ کرامؓ نے رسولِ اکرم ﷺ کی صحبت سے تواضع، محبت اور احترامِ انسانیت سیکھا۔ انہوں نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی محبت کسی ایک قوم یا طبقے تک محدود نہیں، دنیا کے مختلف مذاہب کے لوگ بھی آپ ﷺ کے اخلاق و کردار سے متاثر ہیں۔ آج دنیا کے مختلف حصوں میں میلاد کی محافل، جلوس اور سیرتِ رسول ﷺ کے پروگرام منعقد ہورہے ہیں اور آپ ﷺ کی ولادت، سیرت اور تعلیمات بیان کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص حضور اکرم ﷺ کی سیرت اور اخلاق سے واقف ہوجائے، وہ آپ ﷺ کی عظمت و محبت کو ضرور محسوس کرے گا۔ انہوں نے مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم کلمۂ طیبہ پڑھتے اور نماز ادا کرتے ہیں تو ہمیں اپنے دلوں سے تکبر و غرور نکال کر اخلاص پیدا کرنا چاہیے۔ ہمارا کردار ایسا ہونا چاہیے کہ غیر مسلم بھی ہمارے اخلاق و کردار کو دیکھ کر کہیں کہ یہ مسلمان ہے، یہ جھوٹ نہیں بول سکتا، کسی پر ظلم نہیں کرسکتا اور کسی کے ساتھ برا سلوک نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ الدین کله أدب یعنی دین سراپا ادب ہے، اس لیے ہمیں ہر انسان سے محبت، حسنِ سلوک اور ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔ انہوں نے نماز کی اہمیت بیان کرتے ہوئے قرآنِ کریم کی آیت إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ کا حوالہ دیا اور کہا کہ نماز انسان کو بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ اگر کوئی شخص نماز بھی پڑھتا ہے اور جھوٹ، برائی اور ظلم سے بھی نہیں بچتا تو اسے اپنے عمل اور نماز کے اثرات کا جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ نیک لوگوں اور پیرانِ کامل کی صحبت اختیار کی جائے، علم حاصل کیا جائے اور جو بات معلوم نہ ہو اہلِ علم سے دریافت کی جائے، کیونکہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ حضرت خواجہ ابوالحسن افضل پیرؒ کی صحبت میں رہنے والے ان کے بعض خلفاء آج مختلف مساجد میں امامت و خطابت کی دینی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ یہ معمولی بات نہیں بلکہ ایک مرشدِ کامل کی صحبت، تربیت اور فیضان کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشائخ اور ان سے وابستہ افراد کو چاہیے کہ وہ قرآن و سنت کا علم حاصل کرکے امامت و خطابت کے ذریعے لوگوں کی رہنمائی کریں، انہیں دین کے قریب لائیں، محبت اور اخلاق کا درس دیں اور رشد و ہدایت کا ذریعہ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا جشن ہمیں اپنے اندر حقیقی تبدیلی پیدا کرنے کا پیغام دیتا ہے۔ آج ہی سے اپنے اعمال کا جائزہ لیں، عبادت میں اضافہ کریں، ذکرِ الٰہی کثرت سے کریں، نماز کی پابندی کریں، جھوٹ اور برائی سے بچیں، تکبر و غرور کو ختم کریں اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت کریں۔ یہی محبتِ رسول ﷺ کا عملی تقاضا ہے۔ جلسہ کی کارروائی کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ ممتاز نعت خواں حضرات نے حمد و نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کے نذرانے پیش کیے۔ جلسہ میں مختلف مذاہب کے رہنماؤں کے علاوہ علماءِ دین، مشائخین، مریدین، معززین اور اہلیانِ بسواکلیان کے علاوہ ضلع بیدر اور اطراف و اکناف سے آئے ہوئے عاشقانِ رسول ﷺ کی بڑی تعداد نے شرکت فرمائی۔ واضح رہے کہ 12 ربیع الاول کے موقع پر بارگاہِ حسین سے جلوسِ میلاد النبی ﷺ حسبِ روایتِ قدیم شاندار پیمانے کے ساتھ نکالا گیا، جس میں عاشقانِ رسول ﷺ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ میلاد کی خوشی میں صبح بعد نمازِ فجر طعام کا بھی اہتمام کیا گیا۔اس موقع پر شہر کو برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا. رات دیر گئے سلام، فاتحہ اور دعائے سلامتی کے بعد یہ روحانی و نورانی جلسہ اختتام پذیر ہوا۔جلوس اور جلسہ کے انتظامات میں تعاؤن عمل دینے والے اصحاب خیر کیلے دعائے خیر کی گئی. آخر میں دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ حضور اکرم ﷺ کے صدقے تمام مسلمانوں کے ایمان کو مضبوط و کامل فرمائے، دلوں میں محبت و اخلاص پیدا فرمائے، کثرت سے ذکر و عبادت اور مخلوقِ خدا کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے اور سرکارِ دو عالم ﷺ کی شفاعت و زیارت نصیب فرمائے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔