اُردو زبان اور اُردو زبان سے منسلک لوگوں کے ساتھ حکومت کی نا انصافی - از قلم ۔۔۔۔۔رضیہ سلطانہ پٹھان یادگیری۔
اُردو زبان اور اُردو زبان سے منسلک لوگوں کے ساتھ حکومت کی نا انصافی -
از قلم ۔۔۔۔۔رضیہ سلطانہ پٹھان یادگیری۔
اردو جنوبی ایشیا کی ایک اہم اور زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔ بر صغیر ہند کی آزادی کے بعد سے اس زبان کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا ہی گیا، یہ ہندوستان کی اٹھارہ (18) قومی زبانوں میں سے ایک ہے۔۔ ایک ہند آریائی زبان ہے جو برصغیر ہند میں پید اہوئی اور یہیں اس کی ترقی ہوئی ۔ اُردو اور ہندی دونوں جدید ہند آریائی زبانیں ہیں اور دونوں کی اساس یکساں ہیں، صوتی اور قواعدی سطح پر دونوں زبانیں اتنی قریب ہیں کہ ایک زبان معلوم ہونے لگتی ہیں لیکن لغوی سطح پر دونوں نے مختلف ذرائع سے اتنا زیادہ مستعار لیا ہے (اردو نے عربی اور فارسی سے، ہندی نے سنسکرت سے) کہ رواج اور طریقۂ استعمال کی سطح پر حقیقتاً دونوں کی شناخت علحیدہ اور خود مختار زبانوں کے طور پر ہوتی ہے۔ یہ فرق رسم الخط کی سطح پر کافی نمایاں ہے۔ ہندی کا رسم الخط دیونا گری ہے، جب کہ اردو کا رسم الخط فارسی وعربی ہے جس میں ہند آریائی زبان کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے مقامی طورپر ترمیم واضافہ کیا گیا ہے۔ ایک عام اندازے کے مطابق اردو اور ہندی کے بولنے والوں کو ملا کر دیکھیں تو یہ دنیا کی تیسری سب سے زیادہ بولے جانے والی لسانی آبادی ہے۔
2011 کی موجود شماری کے مطابق ہندوستان میں اردو بولنے والوں کی تعداد تقریبا 5 کروڑ 7 لاکھ 72 ہزار تھی
اُردوہندوستان میں اٹھویں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے :
بھارت کی سرکاری مردم شماری (2011) کے مطابق کرناٹک میں اُردو بولنے والوں کی کل تعداد تقریبا 66 لاکھ ،18 ہزار (6.61 ملین) تھی یہ تقریبا 10.83 فیصد ہے اُردوکنڑا کے بعد ریاست کی دوسری سب سے بڑی زبان ہے۔
*کرناٹک بھارت کی چوتھی ایسی ریاست ہے جہاں سب سے زیادہ اردو گو آبادی بستی ہے۔
ہندوستان کے دستور (آئین) کے آٹھویں شیڈول (Eighth Schedule) میں اردو کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اس شیڈول میں کل 22 تسلیم شدہ زبانیں شامل ہیں۔۔ جب آئین بنا تھا، تب اس فہرست میں 14 زبانیں تھیں۔ اردو ان ابتدائی زبانوں میں بھی شامل تھی۔ریاستی سطح پر حیثیت، مرکزی سطح پر ہندی سرکاری زبان ہے، لیکن کئی ریاستیں (جیسے بہار، اتر پردیش اور تلنگانہ وغیرہ) اردو کو دوسری سرکاری یا دفتری زبان کا درجہ دیتی ہیں۔
اور آج ہندوستان میں پلی بڑھی اُردو زبان کے ساتھ کرناٹک حکومت کا سوتیلا پن دیکھیے کہ وہ اُردو کا ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے
15000 اساتذہ کی بھرتیوں میں ایک بھی اُردو ٹیچر کی بھرتی نہیں دکھائی گئی جب کہ ہزاروں اردو اسکولس میں کئی ہزار اساتذہ کی آسامیاں خالی ہیں جہاں پر گیسٹ ٹیچر خدمات انجام دے رہے ہیں
یہ قول مشہور ہے کہ کسی قوم کو ختم کرنا ہو تو اس کی زبان کو مٹادو، کیونکہ زبان ہی قوم کی شناخت، تاریخ اور تہذیب کی محافظ ہوتی ہے۔ جب کسی قوم سے اس کی زبان چھین لی جاتی ہے، تو وہ اپنی جڑوں سے کٹ کر اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہے
زبان خیالات، روایات اور ثقافت کو اگلی نسل تک پہنچاتی ہے۔ زبان کے خاتمے سے قوم سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو دیتی ہے۔
اُردو اسکولوں میں اساتذہ کی بھرتی نہیں ہوگی تب اساتذہ کی کمی کی وجہ سے والدین بچوں کے داخلے نہیں کریں گے۔اس کا مطلب آنے والی نسلوں کو اُردو پڑھنے کا موقع نہیں ملے گا اُردو والے اپنی مادری زبان سے محروم ہوجائے گے
اس طرح یہاں چند سالوں بعد اُردو بولنے پڑھنے لکھنے والوں کی تعداد نہیں کے برابر ہوگی، کرناٹک کے جن اُردو اسکولوں میں گیسٹ ٹیچر خدمات انجام دے رہے ہیں یہاں ٹیچر کی جگہ خالی ہے تب ہی تو گیسٹ ٹیچر خدمات انجام دے رہے ہیں،
اُردوگورنمنٹ اسکول کے کُچھ اساتذہ اکرام ،کُچھ کوچنگ کلاسس والے اور قوم کی رہنمائی کرنے والے حضرات آج خاموش اور پیچھے کھڑے نظر آرہے ہیں ۔۔مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنا ہر بچے کا حق ہے اپنے حق کے لیے آواز نہیں اٹھارہے ہیں کیا اُردو زبان سے انھیں کوئی لینا دینا نہیں ہے جو بے روزگار ٹیچرس آج سڑکوں پر نظر آرہے ہیں۔۔یہ حکومت سے اپنا حق مانگتے پھر رہے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ جو اُردو اساتذہ اس وقت سرکاری ملازمت میں ہیں، ان میں سے بہت سے لوگ بھی اس مسئلے پر اجتماعی طور پر آواز اٹھاتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ اگر کسی تعلیمی زبان کے مسائل پر خود اس زبان سے وابستہ افراد خاموش رہیں، تو متعلقہ حکام تک مسئلہ مؤثر انداز میں کیسے پہنچے گا؟
ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو اساتذہ، والدین، طلبہ، تعلیمی ماہرین اور اردو سے محبت رکھنے والے تمام افراد پرامن، آئینی اور قانونی طریقے سے اپنی آواز حکومت تک پہنچائیں۔ متعلقہ محکموں کو خالی آسامیوں کی مکمل تفصیل، طلبہ کی تعداد اور اسکولوں کی ضرورت کے مطابق اساتذہ کی تقرری کے لیے واضح مطالبات پیش کیے جانے چاہئیں۔
ہمیں کسی فرد یا ادارے کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے بجائے اپنے جائز تعلیمی حق کے لیے متحد اور پُرامن جدوجہد کرنی چاہیے۔ اگر اردو اساتذہ خود منظم ہوکر اپنی آواز بلند کریں اور والدین و عوام بھی ان کا ساتھ دیں، تو امید ہے کہ حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھے گی۔
خاموشی مسئلے کا حل نہیں۔ اپنے طلبہ کے بہتر مستقبل اور اردو تعلیم کے تحفظ کے لیے مناسب، مہذب اور جمہوری انداز میں آواز اٹھانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ہماری علمی اور تہذیبی میراث کا ایک اہم حصہ ہے، اور اس کی تعلیم کو مضبوط بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
کرناٹک کی کانگریس کی موجودہ حکومت بھول چکی ہے کہ کرناٹک میں اردو اسکول بھی ہیں۔۔ وہاں پر بھی اُردو زیر تعلیم طلبہ ہیں ہاں یہ سچ ہے طلبہ کی تعداد کم ہے اس تعداد کو بڑھانا چاہئے نا کے اساتذہ کی بھرتی کو رک کر اور کم نہیں کرنا چاہئے۔حکومت کو بھی سمجھنا چاہیے آج ہم صرف احتجاج کررہے ہیں حکومت کو یاد دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کرناٹک میں اُردو اسکول بھی ہیں وہاں بھی ہزاروں خالی آسامیاں ہیں ۔۔
کانگریس حکومت کے لیے کہ آج کا احتجاج کل انقلاب بن سکتا ہے۔
حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ اُردو زبان کی بقاء کے لئے کام کریں
اردو زبان کی بقا اور فروغ کے لیے حکومت کو تعلیمی اداروں میں معیاری تدریس، کتب خانوں کی بہتری اور ادبی فنڈز کا اجراء یقینی بنانا چاہیے۔ابتدائی تعلیم مادری زبان یا اردو میں فراہم کی جائے۔اسکولوں اور کالجوں میں اردو اساتذہ کی خالی اسامیاں پُر کی جائیں
Comments
Post a Comment