ادب اطفال کے فروغ میں اپنی زندگی وقف کرنے والے فاروق سید - ہزاروں اردو طلبہ کے مستقبل کو سنوارنے والے فاروق اب نہیں رہے..... ہایے افسوس۔مضمون نگار - ستارفیضی - (صدر انجمن ترقی اردو کڈپہ ضلعی شاخ کڈپہ آندھرا پردیش انڈیا)


ادب اطفال کے فروغ میں اپنی زندگی وقف کرنے والے فاروق سید - 
ہزاروں اردو طلبہ کے مستقبل کو سنوارنے والے فاروق اب نہیں رہے..... ہایے افسوس۔

ولادت 5 ستمبر 1968وفات 19 مئی 2026

مضمون نگار 
ستارفیضی 
صدر انجمن ترقی اردو کڈپہ ضلعی شاخ کڈپہ آندھرا پردیش انڈیا 

فاروق سید سے میری ملاقات مارج 2015 ریاست آندھرا پردیش تروپتی سری وینکٹیشورا یونیورسٹیی کے شعبہ اردو کے زیر اہتمام بچوں کے ادب پر دو روز ہ قومی سیمنار میں ہوئی. جس کا موضوع تھا "اردو میں بچوں کا ادب مسائل اور امکانات" تھا اس سیمینار میں مدیر گل بوٹے ممبئ فاروق سید، ڈاکٹر فوضیہ چودری چیرمین کرناٹک اردو اکاڈمی حافظ کرناٹکی، اور میری تہنیت کی گئ. پروفیسر قاسم علی خان صدر شعبہ اردو پروفیسر ستار ساحر سیمینار کے کنوینر ڈاکٹر محمد نثار احمد شریک تھے. تب سے اب تک یعنی تقریباً دس سال تک میری کئی تخلیقات کو انہوں نے اپنے ماہنامہ گل بوٹے میں شائع کرتےر ہےاور میری حوصلہ افزائی کرتے تھے. 2019 میں دہلی میں چار روزہ ایک بہترین بین الاقوامی اردو سیمینار بنام ادب اطفال سمت و رفتا منعقد کیا. جس میں ریاست آندھرا پردیش سے میں اور میرے ساتھی ڈاکٹر محمد نثار احمد بھی مدعو تھے دہلی کے تین جامعات جیسے جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی یونیورسٹی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں بھی سیمیناروں کا اہتمام کیا گیا. اس کے علاوہ ایک سو سے زائد بچوں کے شعراء و ادباء کو غالب اکاڈمی اور دہلی اردو اکیڈمی میں تہنیت کا اہتمام کیا گیا. کئ کتابوں کی رسم اجراء، مشاعرہ، شام غزل اور داستان گوئی بھی اہتمام کیا. یہ چار روزہ پروگرام شاندار اور یادگار رہا. 
       میری شناخت اور پہچان میں فاروق سید کا اہم کردار رہا. 1995تا 2015یعنی گل بوٹے کے 20ویں سالگرہ کے مبارک موقع پر میرا مضمون مئی 2016 میں ممبئی کا ماہنامہ" تریاق" میں صفحہ نمبر 24 اور 25 شائع کروایا. گل بوٹے کے 22 ویں سالگرہ کے موقع پر 19 فروری 2017 میں سالار ویکلی بنگلور میں گل بوٹے پر تبصرہ شائع ہوا. 2015 تا 2025 تک کئی نظمیں جیسے حمد، نعت،رمضان، آب زم زم، بھارت میرا مہان، عورت اور تربوز وغیرہ شائع کرتے رہے. جن کا میں احسان مند ہوںاور رہوں گا. 
      فاروق سیدنے میدان صحافت میں کئی مشقتوں اور مشکلوں سےہوتے ہوئے اپنا لوہا منوایا. اپنی تمام تر صلاحیتیں ادب اطفال کےلے لگادیا. فاروق سید محنتوں اور محبتوں کا جیتا جاگتا ادر نمونہ تھاجو دوسروں کو ہمیشہ متاثر کرنے والے کو ہم کیسے بھولا سکتے ہیں. 

 گل بوٹے کا نام آتے ہی فاروق سید کا چہرا ہمارے ذہنوں میں ابھرتا ہے. یہ ماہنامہ ممبئی سے نکلتا تھا. جس کے مدیر تھے
تقریباً 25 سال مسلسل ایک ماہنامہ چلانا کوئی معمولی بات نہیں. کئی نسلوں کے اذہان کو تربیت کرنے والے، بچوں کی شخصیت کو سنوارنے والے، بچوں کی شخصیت کو متاثر کرنے والے، بچوں کے مستقبل کی فکر کرنے والی عظیم شخصیت فاروق سید کی ہے. وہ فولادی عزائم آہنی ارادے اور حوصلے رکھتے تھے آب کو مفکر ادب اطفال کہیں تو بہتر ہوگا.. اپنےرسالے کے ذریعے ہزاروں اردو طلبہ کو فیضیاب کیا. اب وہ ادب اطفال کے گلشن کا حسین و پیارا مالی نہیں ریا. ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی بڑا درد غم اور افسوس ہوا. سارے ہند میں ادب اطفال کے قلم کاروں میں رنجم و غم کی لہر دوڑ گئی. کیونکہ کہ وہ ایک عہد ساز شخصیت کے مالک تھے. لیکن وہ مختصر سی زندگی میں نمایاں خدمات انجام دے کر آہنی شناخت اور پہچان سارے ہندوستان اور بیرونی ممالک میں بنائی.
فاروق سید کے انتقال سے بچوں کی ادبی دنیا میں ایک عجیب خلاسا پیدا ہوگیا ہے. وہ ہلچل اور تازگی نہیں رہی. نئ نسلوں میں تعلیمی وادبی ذوق پیداکرنے کا ایک بہت بڑا وسیلہ تھا. ین سی پی یو یل نئی دہلی کا ماہنامہ اردو دنیا کے بعد گل بوٹے قومی سطح پر دوسرے مقام پر تھا. اس ماہنامہ گل بوٹے کا سینکڑوں طلبہ بے چینی وبےقراری سے انتظار کرتے تھے. گل بوٹے ایک دلچسپی کا خزانہ تھا. معلومات کی دنیا جس میں آباد تھی.
       فاروق جی ادب اطفال کے چمن کو سرسبز و آداب دیکھنا چاہتے تھے. بچوں کے کئی شعراء و ادباء کی حوصلہ افزائی کرتےتھےاور ساتھ ساتھ ننھے قلم کاروں کو اپنے رسالے میں جگہ دیتے تھے. آپ نے کبھی بفع و نقصان نہیں دیکھا. فاروق صاحب اپنی قوم کے بچوں کو ملک کے اچھے شہری اور اچھے انسان کی صورت میں دیکھنے کی تڑپ اپنے اندر رکھتے تھے کیونکہ بچے ہی ملک کے مستقبل کے معمار ہیں. بچوں کےلے کچھ کرنا ان کا مقصد حیات تھا. فاروق سید اردو ادب اطفال کے سچے خادم تھے. کوئی مانے یا نہ مانے. یہ صاحب علم و حکمت کا پیکر ایثار و قربانی کا مجسمہ تھے. ایسا گلشن ادب کا بےمثال مالی لاجواب محافظ اب نہیں رہے. مگر ان کی زندگی کامیاب تھی. اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین. ان کی مغفرت فرمائے اور ان کی نجات بخشش کے لیے ہند کے اردو اطفال اور شعراء و ادباء تمام دعا گو ہیں.
        فاروق سید کے نام سے مہاراشٹر ریاستی حکومت ایوارڈ قائم کریں تو بہتر ہوگا. ان کی شخصیت و خدمات پر سیمیناروں کا اہتمام بھی ضروری سمجھتا ہوں. ایسی شخصیت کے متعلق ہر ریاست کے اردو نصاب میں شامل کرنا جاہیے. ان کی یومِ ولادت و یو وفات کے تقاریب نھی منانا چاہیے.

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔