افسانہ: وفا - از قلم: تحسینہ ماوینکٹی، (مہمان لکچرر شعبۂ اردو گورنمنٹ کالج برائے خواتین چنتامنی چکبلاپور ضلع کرناٹک۔)
افسانہ: وفا -
از قلم: تحسینہ ماوینکٹی،
(مہمان لکچرر شعبۂ اردو گورنمنٹ کالج برائے خواتین چنتامنی چکبلاپور ضلع کرناٹک۔)
رات کی تاریکی شہر پر اپنی چادر پھیلا چکی تھی۔ ہلکی ہلکی بارش نے گلیوں کو خاموش کر دیا تھا۔ سائرہ کھڑکی کے قریب بیٹھی آسمان سے گرتے قطروں کو دیکھ رہی تھی۔ اس کی نگاہیں بارش پر تھیں مگر ذہن برسوں پرانی یادوں میں بھٹک رہا تھا۔
کبھی یہی بارش اسے بے حد پسند تھی، کیونکہ احمد بارش میں بھیگتے ہوئے اس کے لیے گلاب کے پھول لے آیا کرتا تھا۔ وہ ہنستے ہوئے کہتا تھا:
"وفا موسم نہیں، عادت ہوتی ہے۔"
سائرہ ہر بار مسکرا دیتی، لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ بعض لوگ الفاظ سے محبت کرتے ہیں، کردار سے نہیں۔
احمد اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک چلا گیا۔ شروع کے چند مہینے خطوط، فون کالیں اور وعدے آتے رہے۔ پھر مصروفیات بڑھتی گئیں، رابطے کم ہوتے گئے، اور آخرکار خاموشی نے ہر تعلق کو نگل لیا۔
ایک دن صرف ایک مختصر سا پیغام آیا:
"مجھے معاف کر دینا، میری زندگی کی راہیں بدل چکی ہیں۔"
وہ چند الفاظ سائرہ کی پوری زندگی پر بھاری پڑ گئے۔
گھر والوں نے اس کی شادی کی بہت کوشش کی، مگر اس نے انکار کر دیا۔ اس نے اپنی زندگی تعلیم اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کر دی۔ ایک چھوٹے سے اسکول میں بچوں کو پڑھانا شروع کیا۔ وہ یتیم بچیوں کی تعلیم کا خرچ بھی اٹھانے لگی۔ لوگ اسے دیکھ کر کہتے:
"تم نے اپنی زندگی دوسروں کے لیے کیوں وقف کر دی؟"
وہ صرف اتنا جواب دیتی:
"جس محبت نے مجھے توڑا، اسی نے مجھے انسانوں سے محبت کرنا سکھا دیا۔"
برسوں گزر گئے۔
ایک دن اسکول کے دروازے پر ایک کمزور اور جھکی ہوئی شخصیت نمودار ہوئی۔ سائرہ نے قریب جا کر دیکھا تو وہ احمد تھا۔
اس کے چہرے پر وقت کی سختیوں کے نشان تھے۔ آنکھوں میں ندامت تھی۔
"سائرہ... کیا تم مجھے پہچانتی ہو؟"
سائرہ نے سکون سے جواب دیا:
"کچھ چہرے وقت بدل دیتا ہے، مگر یادیں نہیں۔"
احمد کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
"میں نے دولت کے لیے تمہیں چھوڑ دیا۔ جن لوگوں پر بھروسہ کیا، وہ بھی ساتھ چھوڑ گئے۔ آج میرے پاس نہ دولت ہے، نہ اپنا کوئی۔ اگر ہو سکے تو مجھے معاف کر دو۔"
سائرہ خاموش رہی۔ چند لمحوں بعد اس نے پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا۔
"معافی دینا آسان ہے، مگر گزرے ہوئے وقت کو واپس لانا کسی کے اختیار میں نہیں۔"
احمد نے سر جھکا لیا۔
"کاش! میں نے اس دن وفا کی قدر کی ہوتی۔"
سائرہ نے آسمان کی طرف دیکھا۔ بارش پھر شروع ہو چکی تھی۔
وہ دھیرے سے بولی:
"وفا کا صلہ ہمیشہ وفا نہیں ہوتا، لیکن وفادار انسان کبھی اپنے کردار سے محروم نہیں ہوتا۔"
احمد خاموشی سے واپس مڑ گیا۔ سائرہ نے اسے جاتے ہوئے دیکھا، مگر اس کی آنکھوں میں نہ نفرت تھی، نہ محبت؛ صرف ایک دعا تھی کہ زندگی اسے وہ سبق ہمیشہ یاد رکھائے جو اس نے بہت دیر سے سیکھا تھا۔
اس رات سائرہ نے اپنی ڈائری میں صرف ایک جملہ لکھا:
"محبت انسان کو مکمل نہیں بناتی، وفا بناتی ہے۔ محبت ختم ہو سکتی ہے، مگر وفا انسان کے کردار میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔"
Comments
Post a Comment