موازنہ خوشیوں کا چور ہے - از قلم: تحسینہ ماوینکٹی۔
موازنہ خوشیوں کا چور ہے -
از قلم: تحسینہ ماوینکٹی۔
مہمان لیکچرر، شعبہ اردو۔
گورنمنٹ کالج برائے خواتین، چنتامنی، ضلع چکبلاپور (کرناٹک)
انسان فطری طور پر ترقی، کامیابی اور بہتر زندگی کی خواہش رکھتا ہے، لیکن جب یہ خواہش دوسروں سے موازنہ کرنے کی عادت میں بدل جاتی ہے تو یہی عادت اس کی خوشیوں کو نگلنے لگتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ "موازنہ خوشیوں کا چور ہے۔" یہ ایک مختصر جملہ ضرور ہے، مگر اپنے اندر زندگی کا ایک بڑا سبق سموئے ہوئے ہے۔
آج کا دور سوشل میڈیا، نمائش اور مقابلے کا دور ہے۔ ہر شخص اپنی زندگی کا بہترین پہلو دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔ کوئی اپنی کامیابیوں کی تصاویر شیئر کرتا ہے، کوئی نئے گھر، گاڑی، لباس یا سیاحت کی جھلکیاں دکھاتا ہے۔ ان ظاہری مناظر کو دیکھ کر بہت سے لوگ اپنی زندگی کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی۔ ہر مسکراتا ہوا چہرہ ضروری نہیں کہ دل سے خوش بھی ہو۔
ہر انسان کی زندگی، حالات، صلاحیتیں، ذمہ داریاں اور آزمائشیں ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں۔ کسی کے پاس دولت زیادہ ہے تو کسی کے پاس سکونِ قلب، کوئی شہرت کا مالک ہے تو کوئی محبت بھرے رشتوں کی دولت رکھتا ہے۔ اگر ہم دوسروں کی نعمتوں کو دیکھتے رہیں اور اپنی نعمتوں کو بھول جائیں تو ہماری زندگی میں بے چینی، احساسِ کمتری اور مایوسی گھر کر لیتی ہے۔
اس حقیقت کو ایک سادہ سی مثال سے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک مچھلی پانی میں تیرتے ہوئے سوچتی تھی: "کاش! میں بھی پرندے کی طرح آسمان میں اُڑ سکتی۔" دوسری طرف ایک پرندہ آسمان پر پرواز کرتے ہوئے یہی سوچتا تھا: "کاش! میں بھی مچھلی کی طرح پانی میں تیر سکتا۔" دونوں اپنی اپنی صلاحیتوں کے باوجود ناخوش تھے، کیونکہ ان کی نظر اپنی نعمتوں پر نہیں بلکہ دوسروں کی خوبیوں پر تھی۔ ایک دن خطرہ آیا۔ شکاری نے جال پانی میں پھینکا اور پرندوں کی طرف تیر چلایا۔ مچھلی پانی کی گہرائی میں محفوظ ہو گئی اور پرندہ اپنے پروں کی بدولت بلند آسمان میں اڑ گیا۔ تب دونوں کو احساس ہوا کہ جس نعمت کو وہ معمولی سمجھ رہے تھے، دراصل وہی ان کی سب سے بڑی طاقت تھی۔ قدرت نے مچھلی کو پانی کی وسعتیں عطا کیں اور پرندے کو آسمان کی بلندی۔ دونوں اپنی اپنی جگہ مکمل تھے، مگر موازنہ انہیں اپنی ہی نعمتوں سے غافل کر رہا تھا۔
اسلام بھی ہمیں شکرگزاری، قناعت اور اعتدال کا درس دیتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
"اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو انہیں شمار نہیں کر سکتے۔"
(سورۂ ابراہیم: 34)
یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری زندگی اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں سے بھری ہوئی ہے، مگر ہم اکثر ان نعمتوں کو نظر انداز کرکے دوسروں کی آسائشوں پر نظر رکھتے ہیں۔ یہی رویہ ہماری خوشیوں کو آہستہ آہستہ چرا لیتا ہے اور دل سے اطمینان چھین لیتا ہے۔
نفسیات کے ماہرین کے مطابق بھی مسلسل موازنہ انسان کی خود اعتمادی کو متاثر کرتا ہے۔ جو شخص ہر وقت دوسروں کی کامیابیوں کو اپنی ناکامی سمجھتا ہے، وہ اپنی صلاحیتوں پر توجہ دینے کے بجائے حسرت اور پریشانی میں مبتلا رہتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اپنی گزشتہ حالت سے اپنی موجودہ حالت کا موازنہ کرتا ہے، وہ حقیقی ترقی کی طرف بڑھتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو ایک منفرد صلاحیت، الگ راستہ اور الگ امتحان دیا ہے۔ کسی کو علم سے نوازا، کسی کو ہنر سے، کسی کو دولت سے اور کسی کو صبر سے۔ کامیاب وہی ہے جو اپنی عطا کردہ نعمتوں کی قدر کرے، اپنی محنت پر یقین رکھے اور دوسروں کی کامیابی پر خوش ہونا سیکھے۔
زندگی کی اصل خوبصورتی دوسروں جیسا بننے میں نہیں بلکہ اپنی پہچان کو قبول کرنے میں ہے۔ جب انسان اپنی نعمتوں پر شکر ادا کرتا ہے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارتا ہے اور دوسروں کی کامیابی پر خوش ہونا سیکھ لیتا ہے تو اس کے دل میں حقیقی سکون پیدا ہوتا ہے۔
یاد رکھیے!
موازنہ خوشیوں کا چور ہے، جبکہ شکرگزاری خوشیوں کی کنجی، اطمینانِ قلب کا راستہ اور کامیاب زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔
Comments
Post a Comment