آزادی کی مجاہد زبان اردو کے حصے میں بے روزگاری کا تحفہ؟


آزادی کی مجاہد زبان اردو کے حصے میں بے روزگاری کا تحفہ؟
۔۔۔۔
بیدر، 14 اگست (بیدر نیوز) آزادی کا جشن مناتے ہوئے اگر کسی زبان سے یہ سوال کیا جائے کہ اس نے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں کیا کردار ادا کیا تھا، تو اردو شاید ان زبانوں میں سب سے آگے کھڑی نظر آئے گی جنہوں نے غلامی کے خلاف آواز کو لفظ، نعرہ، شعر اور تحریر عطا کی۔ ’’انقلاب زندہ باد‘‘ جیسے ولولہ انگیز نعروں سے لے کر صحافت، شاعری، افسانے اور سیاسی بیداری تک، اردو نے آزادی کی تحریک میں اپنا کردار محض ادا نہیں کیا بلکہ تاریخ کے صفحات پر ثبت کیا ہے۔مگر المیہ دیکھیے کہ آزادی کے 80ویں جشن کے موقع پر اسی زبان کے حصے میں اگر روزگار کے دروازے مزید تنگ ہونے لگیں تو سوال صرف اردو والوں کا نہیں رہتا، بلکہ یہ ہماری اجتماعی تاریخی یادداشت اور زبانوں کے ساتھ ریاستی رویّے کا سوال بن جاتا ہے۔
معروف اردو و دکنی شاعر، ادیب، افسانہ نگار، ڈرامہ نویس اور افسانچہ و خاکہ نگار محمد یوسف رحیم میرؔ بیدری نے ایک اپنے بیان میں کرناٹک حکومت کی جانب سے 15 ہزار اساتذہ کی آسامیوں سے متعلق جاری کردہ نوٹی فکیشن پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں اردو اساتذہ کے لیے مناسب مواقع نہ ہونا اردو زبان کے روزگار کے مستقبل کے لیے تشویش ناک اشارہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف قومی سطح پر کانگریس کے قائدین روزگار کی کمی کو حکومتوں کی ناکامی قرار دیتے ہیں، دوسری طرف کرناٹک میں اردو اساتذہ کی آسامیوں کے معاملے میں ایسا رویہ اختیار کیا جارہا ہے جس سے اردو کے ساتھ وابستہ ہزاروں نوجوانوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا کسی زبان کے ساتھ محبت صرف تقریروں، مشاعروں اور تہواروں تک محدود رہنی چاہیے، یا اس زبان سے وابستہ لوگوں کے روزگار اور تعلیمی مستقبل میں بھی اس محبت کا کوئی عملی عکس دکھائی دینا چاہیے؟ زبان صرف حروف کا مجموعہ نہیں ہوتی۔ زبان ایک تہذیب ہوتی ہے، ایک یادداشت ہوتی ہے، ایک معاشرتی شناخت اور کئی نسلوں کے تجربات کا امین ہوتی ہے۔ اردو نے ہندوستانی معاشرے کو صرف شعر و ادب نہیں دیا؛ اس نے صحافت، تعلیم، تحریکِ آزادی اور سماجی بیداری میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس لیے اردو کے تعلیمی روزگار کو کمزور کرنا محض چند تدریسی آسامیوں کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
خاص طور پر کرناٹک کے ان علاقوں میں جہاں اردو کی ایک قدیم تہذیبی اور سماجی جڑ موجود ہے، اس مسئلے کو زیادہ سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کلیان کرناٹک اور ممبئی کرناٹک کے کئی اضلاع میں اردو صرف ایک نصابی زبان نہیں بلکہ لوگوں کی روزمرہ زندگی، تہذیب اور ادبی روایت کا حصہ رہی ہے۔ ایسے علاقوں میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کی بحث بھی محض جذباتی مطالبہ نہیں بلکہ زبان کی بقا، انتظامی استعمال اور روزگار کے وسیع امکانات سے جڑا ہوا سوال بن سکتی ہے۔ یہ وقت صرف شکوہ کرنے کا نہیں، منظم اور جمہوری جدوجہد کا ہے۔ اردو کے حق میں کام کرنے والوں کو سب سے پہلے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کے مطالبے کو سنجیدگی سے آگے بڑھانا چاہیے۔ بالخصوص کلیان کرناٹک اور ممبئی کرناٹک کے اضلاع سے اس مطالبے کو ایک مضبوط عوامی تحریک کی شکل دی جاسکتی ہے۔
دوسری اہم ذمہ داری اردو کے نوجوانوں کی ہے۔ اردو کی نئی نسل اگر اپنی زبان کے مستقبل سے لاتعلق ہوگئی تو آنے والے دنوں میں اردو محض گھروں، مشاعروں اور یادوں کی زبان بن کر رہ سکتی ہے۔ آج کی اردو جین زی کو انگریزی اور کنڑا ضرور سیکھنی چاہیے، دنیا کی دوسری زبانوں سے بھی رشتہ جوڑنا چاہیے، لیکن اپنی مادری زبان اردو اور دکنی کی حفاظت اور ترقی سے دست بردار نہیں ہونا چاہیے۔

زبان کا مستقبل صرف حکومتیں طے نہیں کرتیں؛ زبان کے بولنے والے بھی اس کا مستقبل بناتے ہیں۔
۔۔۔
اسی طرح کروٹا، آئیٹا اور اساتذہ کی دوسری تنظیموں کو 15 ہزار تدریسی آسامیوں کے معاملے میں اردو اساتذہ کے مناسب حق کے لیے فوری طور پر مؤثر نمائندگی کرنی چاہیے۔ اردو کے شاعر، ادیب، نقاد، افسانہ نگار، ڈرامہ نویس، صحافی اور دانشور بھی اس مسئلے کو محض ملازمتوں کا مسئلہ سمجھ کر خاموش نہ رہیں۔ اگر قلم زبان کے حق میں آواز نہیں اٹھائے گا تو پھر قلم کی معنویت پر بھی سوال اٹھے گا۔
ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ اردو سے وابستہ عوامی نمائندے—ایم ایل اے، ایم ایل سی، ایم پی، ضلع و تعلقہ پنچایت کے اراکین، گرام پنچایت کے نمائندے، کونسلر اور کارپوریٹر—اپنی سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر اردو کے روزگار اور تعلیمی حق کے لیے آواز اٹھائیں۔ زبان کا مسئلہ پارٹی کا مسئلہ نہیں، نسلوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔
اردو طلبہ کو بھی اس جدوجہد کا حصہ بننا ہوگا۔ آج اگر اردو کی تدریسی آسامیوں میں کمی آتی ہے تو کل اردو پڑھنے والے طلبہ کے لیے روزگار کے راستے بھی محدود ہوں گے۔ اس لیے یہ جنگ صرف موجودہ اردو اساتذہ کی نہیں، آنے والی نسلوں کے تعلیمی اور معاشی مستقبل کی بھی جنگ ہے۔ اس سلسلے میں ایک عملی قدم یہ ہوسکتا ہے کہ اردو سے محبت رکھنے والے افراد انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر کرناٹک کے وزیرِاعلیٰ کو یادداشتیں پیش کریں اور 15 ہزار اساتذہ کی آسامیوں میں اردو کے مناسب حق کا مطالبہ کریں۔ کرناٹک اردو اکیڈمی کو بھی متعلقہ وزیر، نائب وزیرِاعلیٰ اور وزیرِاعلیٰ سے ملاقات کرکے مؤثر نمائندگی کرنی چاہیے۔ اردو زبان و ادب کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور اردو صحافیوں کی تنظیموں کو بھی اپنے اپنے دائرے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
یہاں ایک بات بالکل واضح ہونی چاہیے: اردو کسی کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہی؛ اردو اپنے وجود، اپنے وقار اور اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے اپنا حق مانگ رہی ہے۔
ہمیں کنڑا سے بھی محبت ہے، انگریزی بھی ایک ضرورت ہے ،بلکہ ہندوستان کی تمام زبانوں سے بھی احترام کا رشتہ ہے۔ مگر دوسری زبانوں کی ترقی کا مطلب یہ نہیں کہ اردو کے حصے کی روشنی بجھا دی جائے۔ ایک زبان کا چراغ جلانے کے لیے دوسری زبان کا چراغ بجھانا کسی مہذب اور کثیر لسانی معاشرے کی علامت نہیں ہوسکتا۔
آزادی کا 80واں سال ہمیں یہ سوچنے کا موقع دے رہا ہے کہ آزادی صرف سیاسی اقتدار کی منتقلی کا نام نہیں؛ آزادی برابر کے مواقع، تعلیم، روزگار اور اپنی زبان و تہذیب کے ساتھ باوقار زندگی گزارنے کا نام بھی ہے۔ اگر اردو نے آزادی کی لڑائی میں ہندوستان کا ساتھ دیا تھا تو آج ہندوستانی معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ اردو کے ساتھ انصاف کرے۔
آج اگر ہم خاموش رہے تو شاید کل شکایت کا حق بھی ہمارے ہاتھ میں نہ رہے۔ زبانیں اچانک نہیں مرتیں؛ پہلے ان کے روزگار کم ہوتے ہیں، پھر ان کے تعلیمی راستے سکڑتے ہیں، پھر ان کے ادارے خاموش ہوتے ہیں، اور آخرکار ایک پوری تہذیبی آواز رفتہ رفتہ ماند پڑنے لگتی ہے۔
اس لیے یہ لمحہ خاموش رہنے کا نہیں، اپنی زبان کے حق میں جمہوری، آئینی اور پُرامن آواز بلند کرنے کا ہے۔
اردو نے آزادی کے نعرے کو آواز دی تھی۔ اب وقت ہے کہ اردو والے اپنی زبان کے مستقبل کو آواز دیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔