معاف کرنے والے بنیں، معافی مانگنے والے بھی - از قلم : عالمہ مبین پالیگار بیلگام کرناٹک ۔پرنسپل ماؤنٹ سینائی پی یو کالج۔


معاف کرنے والے بنیں، معافی مانگنے والے بھی - 
از قلم : عالمہ مبین پالیگار بیلگام کرناٹک ۔
پرنسپل ماؤنٹ سینائی پی یو کالج۔ 
M A M ED 
8904317986
ایک مرے ہوئے انسان کو معلوم نہیں ہوتا کہ تم نے اس کی میت پر کتنے آنسو بہائے ہیں، لیکن ایک زندہ انسان کو مرتے دم تک یاد رہتا ہے کہ تم نے اسے کتنا رلایا تھا۔
زندگی بہت مختصر ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کون سا لمحہ ہماری زندگی کا آخری لمحہ بن جائے اور کون سا رشتہ آخری بار ہمارے سامنے ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگی میں محبت، حسنِ اخلاق، درگزر اور معافی کو جگہ دیں۔
دوسروں پر اگر تبصرہ کیجیے 
آئینہ سامنے رکھ لیا کیجیے
آج کے معاشرے میں عجیب صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے۔ اگر کوئی شخص ہم سے اپنی غلطی کی معافی مانگ لے تو بعض اوقات ہمیں ایسا محسوس ہونے لگتا ہے جیسے وہ ہمارے سامنے بہت کمزور اور ہم بہت طاقتور ہوگئے ہیں۔ ہمیں معافی دینے پر فخر اور اپنی بڑائی کا احساس ہونے لگتا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
معاف کرنا کمزوری نہیں، بلکہ کردار کی بلندی ہے۔
اللہ تعالیٰ خود غفور و رحیم ہے۔ بندہ کتنے ہی گناہ کر بیٹھے، اگر وہ سچے دل سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ"
یعنی: انہیں چاہیے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں معاف فرما دے؟
جب ہم خود اللہ تعالیٰ سے اپنی خطاؤں کی معافی چاہتے ہیں، تو پھر ہمیں بھی اللہ کے بندوں کو معاف کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیے۔
ہمیں سوچنا چاہیے کہ غلطی صرف دوسرا شخص ہی نہیں کرتا، ہم بھی کبھی غلط ہوتے ہیں۔ ہمیں بھی کبھی کسی کی معافی کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری غلطیوں کو معاف کیا جائے تو ہمیں بھی دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔
کتنی معمولی معمولی باتوں پر رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔ کبھی ایک لفظ، کبھی ایک غلط فہمی، کبھی کسی کی معمولی کوتاہی، کبھی انا اور ضد انسان کو اپنے ہی عزیزوں سے دور کردیتی ہے۔ بھائی بھائی سے بات نہیں کرتا، بہن بہن سے ناراض رہتی ہے، دوست برسوں ایک دوسرے سے قطع تعلق کیے رہتے ہیں اور بعض اوقات تو معمولی اختلافات پوری پوری رشتہ داریاں ختم کردیتے ہیں۔
کیا یہ زندگی اسی لیے ملی ہے؟
ہمیں ایک دوسرے سے محبت کرنے کے لیے وقت دیا گیا ہے، نفرتیں پالنے کے لیے نہیں۔ ہمیں دل جوڑنے کے لیے بھیجا گیا ہے، دل توڑنے کے لیے نہیں۔
اللہ کے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے لوگوں کے ساتھ انتہائی حسنِ اخلاق، محبت، شفقت اور درگزر کا معاملہ فرمایا۔ آپ ﷺ کے اخلاق ایسے تھے کہ جو شخص آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا، اسے محسوس ہوتا کہ شاید رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ محبت اسی سے فرماتے ہیں۔
ہمیں بھی اپنے اخلاق میں ایسی ہی محبت پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کسی کے لیے دل میں کینہ، بغض، حسد اور عداوت نہیں رکھنی چاہیے۔ اگر کسی سے اختلاف ہو جائے تو بات کو بڑھانے کے بجائے اسے ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر کوئی معافی مانگے تو اسے ذلیل کرنے کے بجائے عزت کے ساتھ معاف کرنا چاہیے۔
اور یاد رکھیں:
معافی مانگنے سے انسان چھوٹا نہیں ہوتا،
اور معاف کرنے سے انسان بڑا نہیں ہوتا۔
اصل بڑائی تو یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو جھکا دے۔
ہم سب نے ایک دن اس دنیا سے چلے جانا ہے۔ جس جسم پر ہمیں آج اتنا غرور ہے، وہ آخرکار مٹی میں مل جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مٹی سے پیدا کیا اور اسی مٹی کی طرف لوٹنا ہے۔ پھر غرور کس بات کا؟ تکبر کس چیز کا؟ ضد اور انا کس لیے؟
آج اگر کسی سے ناراضی ہے تو اسے ختم کردیجیے۔
آج اگر کسی سے دل دکھا ہے تو معاف کردیجیے۔
آج اگر آپ نے کسی کا دل دکھایا ہے تو بلا جھجک معافی مانگ لیجیے۔
یہ مت سوچیے کہ پہل کون کرے؟
زندگی میں بعض اوقات ایک قدم پیچھے ہٹ جانا پوری زندگی کے رشتے کو بچا لیتا ہے۔ ایک لفظ "معاف کیجیے" برسوں کی ناراضی ختم کرسکتا ہے، اور ایک لفظ "میں نے معاف کیا" کسی ٹوٹے ہوئے دل کو دوبارہ جوڑ سکتا ہے۔
یاد رکھیے، مرنے کے بعد ہماری قبر پر بہائے گئے آنسو اس شخص تک شاید نہ پہنچ سکیں، لیکن زندگی میں دی گئی محبت، عزت، شفقت اور معافی ہمیشہ یاد رہتی ہے۔
اس لیے زندہ انسانوں کی قدر کیجیے۔
دل نہ توڑیے۔
رشتے نہ توڑیے۔
نفرتیں نہ پالیے۔
بدلے کی آگ میں اپنی خوشیاں نہ جلائیے۔
معاف کرنے والے بنیں، معافی مانگنے والے بھی بنیں۔
اپنے دل کو صاف رکھیے، اپنے اخلاق کو خوبصورت بنائیے اور ہر انسان کے ساتھ محبت، احترام اور شفقت کا معاملہ کیجیے۔ اگر ہم نے اپنی دنیا کی زندگی میں ان خوبصورت صفات کو اپنا لیا تو ان شاء اللہ ہماری آخرت بھی سنور جائے گی۔
آج کسی ایک ایسے شخص کو معاف کردیجیے جسے آپ نے دل میں برسوں سے جگہ دے رکھی ہے، اور اگر آپ نے کسی کا دل دکھایا ہے تو آج ہی اس سے معافی مانگ لیجیے۔
شاید کل ہمارے پاس یہ موقع نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نرم دل، خوش اخلاق، معاف کرنے والا اور معافی مانگنے والا انسان بنائے، ہمارے دلوں سے کینہ و بغض دور فرمائے اور ہمیں حقوق العباد ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔