عشقِ رسول ﷺ ایمان کی بنیاد اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے: مولانا سید احمد غوری نقشبندی،رحیم اللہ خان نیازی کا خطاب۔
بیدر، 28 اگست (نامہ نگارمحمد عبدالصمد) حضور اکرم ﷺ سے سچی محبت مومن کے ایمان کا لازمی حصہ ہے اور عشقِ رسول ﷺ ہی وہ دولت ہے جو انسان کو دین پر ثابت قدم رکھتی ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ اپنی زندگی میں محبت، ادب اور اطاعتِ رسول ﷺ کو اختیار کرے اور ہر حال میں سنتِ نبوی ﷺ کو مقدم رکھے ۔ان خیالات کا اظہار حضرت علامہ مولانا ڈاکٹرالحاج سید احمد غوری نقشبندی نائب شیخ المعقولات جامعہ نظامیہ حیدرآباد نے مدرسہ محمود گاوان بیدر میں کاروان ادب و مرکزی رحمت عالم کمیٹی ضلع بیدر کے زیر اہتمام منعقدہ 21واں سالانہ جلسہ جشن رحمت العلمین ﷺ کو مخاطب کر تے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔ حضور ﷺ کا ذکرِ مبارک جہاں ہوتا ہے وہاں رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ عاشقانِ رسول ﷺ کے لیے سب سے بڑی سعادت یہ ہے کہ ان کے دل محبتِ مصطفیٰ ﷺ سے آباد ہوں اور ان کی زبانیں درود و سلام سے تر رہیں۔ مولانا نے عشقِ رسول ﷺ کی عظمت بیان کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی کوئی نعمت محبتِ رسول ﷺ کا نعم البدل نہیں ہوسکتی۔ ایک مسلمان اپنے مال، اولاد اور دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ سے محبت کرے۔ یہی محبت انسان کے کردار کو سنوارتی اور اسے نیکی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ انہوں نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک اور مقبول بندوں کو مختلف آزمائشوں سے گزارتا ہے، لیکن اہلِ ایمان مشکل حالات میں بھی اپنے دین اور ایمان پر قائم رہتے ہیں۔ آزمائش کے وقت صبر، استقامت اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ ہی مومن کی پہچان ہے۔ ہمیں بھی ہر مشکل اور آزمائش میں دین پر ثابت قدم رہنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مولانا سید احمد غوری نقشبندی نے کہا کہ حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں سلام پیش کرنا عاشقانِ رسول ﷺ کے لیے انتہائی سعادت کی بات ہے۔ دل میں محبتِ رسول ﷺ ہو تو زبان پر درود و سلام جاری رہتا ہے اور انسان اپنے آقا ﷺ کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ نماز کی پابندی کریں، قرآنِ مجید سے اپنا تعلق مضبوط کریں، درود و سلام کی کثرت کریں، والدین کا ادب کریں، بڑوں کا احترام اور چھوٹوں سے شفقت کریں۔ انہوں نے کہا کہ صرف زبانی دعویٰ کافی نہیں بلکہ محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا ہے کہ ہمارے اخلاق و کردار میں بھی سنتِ نبوی ﷺ کی جھلک نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ آج امتِ مسلمہ کو باہمی اتحاد، محبت اور اخوت کی ضرورت ہے۔ ہمیں معمولی اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے دین کی بنیادی تعلیمات پر متحد رہنا چاہیے۔ مسلمان ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں، ضرورت مندوں کی مدد کریں اور معاشرے میں امن و محبت کو فروغ دیں۔ مولانا نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے وقت اور صلاحیتوں کو مثبت کاموں میں استعمال کریں اور دینی تعلیمات سے وابستہ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو رسول اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ، صحابۂ کرامؓ اور بزرگانِ دین کی زندگیوں سے روشناس کرانا والدین اور معاشرے کی اہم ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محافلِ میلاد اور ذکر و نعت کی مجالس کا مقصد صرف خوشی کا اظہار نہیں بلکہ ان مجالس کے ذریعے سیرتِ رسول ﷺ کو سمجھنا، آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں اپنانا اور محبت و اطاعتِ رسول ﷺ کو مضبوط کرنا ہے۔
نگرانِ جلسہ الحاج محمد رحیم اللہ خان نیازی شرفی
صدر کل ہند مجلس فیضانِ مصطفیٰ ﷺ و سابق چیئرمین اردو اکیڈمی آندھرا پردیش و تلنگانہ، نے بحیثیت نگرانِ جلسہ،جلسۂ رحمتُ العالمین ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے عشقِ رسول ﷺ، مقامِ رسالت ﷺ اور غلامانِ مصطفیٰ ﷺ کی عظمت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حضور اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے سچی محبت ایمان کی اصل روح ہے۔ آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس سراپا رحمت و شفقت ہے اور آپ ﷺ نے اپنی امت کے لیے بے مثال محبت و قربانی کا مظاہرہ فرمایا۔ انہوں نے عشقِ رسول ﷺ کے مختلف واقعات بیان کرتے ہوئے انبیائے کرام علیہم السلام اور ملائکہ کی عظمتِ رسالت ﷺ کے سامنے عقیدت و احترام کا ذکر کیا۔ حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل علیہم السلام کے حوالے سے قربانی، عشق اور اطاعتِ الٰہی کی عظمت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے چاروں مقرب فرشتوں حضرت جبرئیل، حضرت میکائیل، حضرت اسرافیل اور حضرت عزرائیل علیہم السلام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملائکہ بھی بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر ہوکر اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے اور حضور اکرم ﷺ کی عظمت و شان کا اعتراف کرتے ہیں۔ الحاج محمد رحیم اللہ خان نیازی شرفی نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے عشقِ رسول ﷺ اور وفاداری کی عظیم مثال بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی پوری زندگی محبتِ مصطفیٰ ﷺ میں گزاری اور غلامیِ رسول ﷺ کو اپنے لیے سب سے بڑا اعزاز سمجھا۔ انہوں نے حضرت جبرئیل علیہ السلام اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے حوالے سے واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ بارگاہِ رسالت ﷺ میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی آواز کا ذکر ہوا تو اس سے عشق و محبتِ رسول ﷺ کی عظمت مزید نمایاں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ محبتِ رسول ﷺ محض زبانی دعویٰ نہیں بلکہ اطاعت، ادب، کردار اور عمل کا نام ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ سیرتِ طیبہ کو اپنی زندگی کا نمونہ بنائیں، آپ ﷺ کا ادب و احترام ملحوظ رکھیں اور سنتِ رسول ﷺ پر عمل کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں۔ آخر میں امتِ مسلمہ کی سلامتی، ایمان کی حفاظت، عشقِ رسول ﷺ اور سنتِ نبوی ﷺ پر استقامت کے لیے دعا کی گئی .محمد فراست علی ایڈوکیٹ کنوینر جلسہ نے استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے معزز علماء، مشائخ، مہمانانِ خصوصی اور حاضرین کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے محبتِ رسول ﷺ کو ایمان کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے سیرتِ نبوی ﷺ کو اپنی زندگیوں میں اپنانے کی تلقین کی۔مولانا مفتی محمد خواجہ معین الدین نظامی، مولانا مفتی محمد فیاض الدین نظامی، مولانا مفتی سید سراج الدین نظامی، محمد شہباز خان نائب صدر غلامانِ مصطفیٰ کمیٹی اور محمد سرفراز خان صدر غلامانِ مصطفیٰ کمیٹی تلنگانہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضور اکرم ﷺ تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے۔ آپ ﷺ کی رحمت انسانوں کے ساتھ چرند و پرند تک کے لیے عام ہے۔ انہوں نے محبت و ادبِ رسول ﷺ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضور ﷺ کا ادب و تعظیم ایمان کا لازمی حصہ ہے۔ نئی نسل کو محبتِ رسول ﷺ کے ساتھ قرآنِ کریم اور اہلِ بیتِ اطہار کی محبت و عقیدت کی تعلیم دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔حافظ محمد نذیر احمد شرفی کی قراءت کلام پاک سے جلسہ کی کارروائی کا اغاز ہوا.محمد شفیع الدین،حاجی محمد غلام دستگیر سنٹرنگ گتہ دار ،حافظ محمد برہان الدین،محمد رفیع الدین نوری اور دیگر نے حمد،نعت پیش کی جبکہ محمد عبدالصمد منجووالانے نظامت کے فرائض انجام دئے.تمام مہمانوں شال پوشی و گلپوشی کی گئی.جناب سید منصور احمد قادری انجینئر ،محمد فراست علی ایڈوکیٹ نے اظہار تشکر کیا.سلام و فاتحہ کے بعد رات دیر گئے جلسہ تکمیل پذیر ہوا.
Comments
Post a Comment