ذکرِ مصطفیٰ ﷺ سے دلوں میں نور پیدا ہوتا ہے، مولانا مفتی محمد خواجہ معین الدین نظامی کا خطاب -
بیدر16/ اگست (نامہ نگارمحمد عبدالصمد) حبیب پاک ﷺ کا ذکرِ مبارک اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور اہلِ ایمان کے لیے انتہائی سعادت ہے۔
ان پاکیزہ روحانی خیالات کا اظہار حضرت مولانا مفتی محمد خواجہ معین الدین نظامی ناظم مدرسہ معھد انوارلقرآن بیدر نے نبی خانہ مبارک بیدر میں جناب ڈاکٹر الحاج سید حسام الدین قادری عزیز، صدر قاضی دارالقضاء بیدر کی نگرانی میں منعقدہ 12 روزہ محفلِ میلاد النبی ﷺ کی پہلی مجلسِ میلاد بعنوان ’’آمدِ مصطفیٰ ﷺ سے کائنات میں نور‘‘ کو خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے اپنے خطاب کا آغاز قرآنِ کریم کی آیتِ مبارکہ ’’یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوا تَسْلِیمًا‘‘ سے کرتے ہوئے کہا کہ اللہ رب العزت نے خود اہلِ ایمان کو اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کا حکم فرمایا ہے۔ بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں درود و سلام پیش کرنا ایسی عظیم سعادت ہے جس پر جتنا بھی شکر بجا لایا جائے کم ہے۔
مولانا نے کہا کہ حبیبِ پاک ﷺ کا ذکرِ مبارک انتہائی اعلیٰ و ارفع مقام رکھتا ہے۔ انسان ہزار مرتبہ بھی اگر مشک و عنبر سے اپنی زبان کو معطر کرکے نامِ مصطفیٰ ﷺ لے، تب بھی اس مقدس نام کا حق ادا نہیں کرسکتا۔ ذکرِ مصطفیٰ ﷺ دلوں کو نور، روحوں کو تازگی اور زندگی کو صحیح سمت عطا کرتا ہے۔
نورِ محمدی ﷺ اور تخلیقِ کائنات: مولانا مفتی محمد خواجہ معین الدین نظامی نے نورِ محمدی ﷺ کے موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کائنات کے وجود میں آنے سے پہلے نہ عرش تھا، نہ فرش، نہ زمین و آسمان اور نہ موجودات کا یہ وسیع نظام۔ صرف اللہ رب العزت کی ذاتِ اقدس تھی۔ پھر پروردگارِ عالم نے اپنے محبوب و مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے نورِ مبارک کو تخلیق فرمایا۔
انہوں نے بیان کیا کہ روایات میں نورِ محمدی ﷺ کے اللہ تعالیٰ کی تسبیح، تہلیل اور تحمید کرنے کا ذکر ملتا ہے۔ نورِ محمدی ﷺ پروردگارِ عالم کے اسمائے مبارکہ کا ذکر کرتا رہا۔ ایک موقع پر بارگاہِ الٰہی سے دریافت فرمایا گیا کہ اے نورِ محمدی ﷺ! آپ کو کیا چاہیے؟ تو نورِ محمدی ﷺ نے انتہائی عاجزی کے ساتھ عرض کیا کہ میں عبد ہوں اور تو وہاب ہے۔ عبد وہ ہے جو ہر لمحہ اپنے پروردگار کی اطاعت کرتا ہے، جبکہ وہاب وہ ہے جو اپنے بندوں پر بے حساب نوازشات فرماتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نورِ محمدی ﷺ نے بارگاہِ الٰہی میں ایک ایسا مقام عطا کیے جانے کی تمنا ظاہر کی جہاں اللہ تعالیٰ کے اسمائے مبارکہ کا ذکر کیا جاسکے۔ چنانچہ نورِ محمدی ﷺ نے اللہ رب العزت کے اسمائے حسنیٰ کا ذکر شروع کیا اور ہر نام کے ذکر میں طویل مدت تک مشغول رہے۔
اسمائے الٰہی کا ذکر: مولانا نظامی نے بعض روایات کے حوالے سے بیان کیا کہ اللہ رب العزت کے ایک ہزار سے زائد اسمائے مبارکہ بیان کیے گئے ہیں اور نورِ محمدی ﷺ نے ہر ایک نام کا طویل عرصہ ذکر کیا۔ اللہ، اللہ، اللہ کا ذکر ہوتا رہا، پھر رحیم، رحیم، رحیم کا ذکر ہوا اور اسی طرح اسمائے الٰہی کے ذکر کا یہ مبارک سلسلہ جاری رہا۔
انہوں نے کہا کہ جب نورِ محمدی ﷺ اللہ تعالیٰ کے اسمِ مبارک ’’قہار‘‘ پر پہنچا تو اس اسمِ جلالت کی شان اور معنی کی کیفیت سے نورِ محمدی ﷺ پر حیرت طاری ہوئی۔ اس کیفیت میں نورِ محمدی ﷺ کی پیشانیِ مبارک پر پسینے کے قطرات ظاہر ہوئے۔ روایات کے بیان کے مطابق ان مبارک قطروں سے اللہ تعالیٰ نے انبیاءِ کرام علیہم السلام کی ارواحِ مبارکہ کو پیدا فرمایا۔
اسم ’’عدل‘‘ اور کیفیتِ حیا: انہوں نے مزید بیان کیا کہ جب نورِ محمدی ﷺ اللہ تعالیٰ کے اسمِ مبارک ’’عدل‘‘ پر پہنچا تو اس نام کی عظمت و شان کے ذکر میں مشغول ہوگئے۔ عدل اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور انصاف کی عظیم صفت کو ظاہر کرتا ہے۔ نورِ محمدی ﷺ پر اس مقام پر حیا کی کیفیت طاری ہوئی اور پیشانیِ مبارک پر پسینے کے قطرات نمودار ہوئے۔
مولانا نے کہا کہ روایات میں بیان کیا جاتا ہے کہ ان مبارک قطروں سے اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کی ارواح کو پیدا فرمایا۔ اسی لیے مؤمن کو اپنی روح کی اس پاکیزہ نسبت کا پاس رکھتے ہوئے حیا، پاکیزگی، تقویٰ اور نیک اعمال اختیار کرنے چاہئیں۔ بے حیائی، گناہ، برے اعمال اور رسولِ اکرم ﷺ کی نافرمانی سے بچنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مسلمان جان بوجھ کر گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ اپنی روحانی نسبت اور ایمان کی قدر نہیں کرتا۔ مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے کردار کو پاکیزہ رکھے، حیا کو اختیار کرے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب ﷺ کی اطاعت کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے۔
موجودہ دور کے فتنوں سے نسلوں کی حفاظت: مولانا مفتی محمد خواجہ معین الدین نظامی نے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج پوری دنیا میں ہر روز ایک نیا فتنہ سامنے آرہا ہے۔ یہ صرف ہمارے شہر یا ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا فتنوں اور گمراہ کن افکار کی زد میں ہے۔ ایسے حالات میں ہمیں یہ فکر کرنا ضروری ہے کہ ہم تو کسی حد تک محفوظ ہیں، لیکن ہماری آنے والی نسلیں ان فتنوں سے کیسے محفوظ رہیں گی؟
انہوں نے کہا کہ اس کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ ہم اپنی اولاد کو قرآن و سنت، سیرتِ طیبہ ﷺ، ذکر و درود اور علماءِ کرام کی مجالس سے وابستہ کریں۔ جس طرح ہم اپنے بچوں کو دنیاوی خوشیوں اور دیگر مواقع پر اپنے ساتھ رکھتے ہیں، اسی طرح انہیں محافلِ میلاد، ذکر، سیرت اور دینی مجالس میں بھی ضرور شریک کریں۔
انہوں نے کہا کہ ایسی محافل کا انعقاد موجودہ دور میں انتہائی ضروری ہے۔ محافلِ میلاد اور ذکرِ مصطفیٰ ﷺ سے مسلمانوں کے دلوں میں محبتِ رسول ﷺ پیدا ہوتی ہے، ایمان کو تازگی ملتی ہے اور نئی نسل کو دین و شریعت سے وابستہ ہونے کا موقع ملتا ہے۔
انہوں نے والدین سے خصوصی اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت کو نظرانداز نہ کریں۔ انہیں قرآنِ کریم کی تعلیم دیں، نماز کا عادی بنائیں اور علماءِ کرام و صالحین کی صحبت میں لائیں۔ محافلِ میلاد اور دینی مجالس میں بچوں کو ساتھ لانے سے ان کے دلوں میں محبتِ رسول ﷺ اور دین سے وابستگی پیدا ہوگی۔
مولانا نے کہا کہ آج اگر ہم اپنی نسلوں کی دینی تربیت کریں گے تو وہ آنے والے فتنوں کا مقابلہ کرسکیں گی۔ اگر ہم نے اپنی ذمہ داری سے غفلت برتی تو گمراہ کن افکار اور ماحول نئی نسل کو دین سے دور کرسکتے ہیں۔ اس لیے ہر مسلمان کو اپنی ذات کے ساتھ اپنی اولاد اور خاندان کی اصلاح کی بھی فکر کرنی چاہیے۔
۔ حاضرین نے انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ مولانا مفتی محمد خواجہ معین الدین نظامی کا خطاب سماعت کیا۔جلسہ کی کارروائی کا آغاز سید ادریس قادری کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں قاضی سید حارث الدین، قاضی سید معین الدین حمزہ قادری اور حافظ محمد عبید اللہ خان عطاری نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی، جس سے مجلس کا روحانی ماحول مزید پُرنور ہوگیا۔ سلام و فاتحہ کے بعد رات دیر گئے یہ بابرکت جلسہ پائے تکمیل کو پہنچا۔
آخر میں سلام و فاتحہ پیش کی گئی
Comments
Post a Comment