کالم - سچ کی چبھن - از قلم: رہبر تماپوری۔
کالم - سچ کی چبھن -
از قلم: رہبر تماپوری۔
مہمان معلم، جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم
جامعہ نگر، تماپور، تعلقہ شوراپور، ضلع یادگیر، ریاستِ کرناٹک
رابطہ: 8431012141
سچائی ایک نکھری ہوئی حقیقت ہے، مگر جب یہ ہمارے مفادات کی دیوار سے ٹکراتی ہے تو اس کی چمک آنکھوں کو کچوکے لگاتی ہے۔ سچ تبدیل نہیں ہوتا؛ انسان اپنی سہولت کے لیے اس پر جھوٹ کے پردے ڈال دیتا ہے۔ جب جھوٹ کا فریب چھٹتا ہے تو انا پر لگنے والی اسی چوٹ کا نام سچ کی چبھن ہے۔
چبھن دراصل اندرونی بے چینی کا احساس ہے۔ آئینہ ہماری صورت دکھاتا ہے، لیکن ہم اپنے داغ دھونے کے بجائے آئینہ توڑنے پر تل جاتے ہیں۔ غلطی تسلیم کرنا سب سے بڑا امتحان ہے۔ سچ دوسروں کے عیوب گنوانا نہیں، اپنی ذات کو بھی اسی کسوٹی پر پرکھنے کا حوصلہ ہے۔
آج معاشرے میں سچائی کا درس دینا بہت آسان ہے۔ اصل کٹھن مرحلہ اسے عملی زندگی میں لانا ہے۔ ہم اس وقت تک حق کے علمبردار رہتے ہیں جب تک سچ ہماری ذات یا مفاد پر نہ پڑے۔ سچ کہنا آسان، لیکن اسے اپنے اوپر لاگو کرنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔
ضمیر انسان کا خاموش نگہبان ہے۔ یہ سوتے جاگتے حق اور باطل کی تمیز دلاتا رہتا ہے۔ انسان اسے دنیا کی بھیڑ میں دبانے کی کوشش کرے، وہ دل کی دھڑکن بن کر دستک دیتا ہے۔ سچ کی چبھن اسی زندہ ضمیر کی بیداری کا ثبوت ہے۔
رشتوں میں سچ کی اپنی اہمیت ہے۔ سچی بات برسوں کی غلط فہمی دور کر سکتی ہے، لیکن اگر تلخی سے کہی جائے تو دل توڑ سکتی ہے۔ سچ کے ساتھ حکمت ضروری ہے۔ اگر مرہم بن جائے تو اصلاح کرتا ہے، اور اگر تیر بن جائے تو فاصلے پیدا کرتا ہے۔
سچ کا سب سے بڑا مخاطب دوسرا نہیں، ہماری اپنی ذات ہے۔ اسی حقیقت کو اہم سمجھتے ہوئے:
آئینہ خود ہے تیری حقیقت سے آشنا
فکرِ زمانہ چھوڑ کے خود کو سنوار لے
— رہبر تماپوری
یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دوسروں کی اصلاح سے پہلے اگر انسان اپنے گریبان میں جھانک لے تو بہت سی شکایتیں خود ختم ہو سکتی ہیں۔ دنیا کی فکریں چھوڑ کر اگر ہم اپنی ذات کو صاف ستھرا کریں تو سچ کی چبھن ہمیں بہتر بنا سکتی ہے۔
سچ سن کر خاموش رہنا معاشرتی خرابیوں کو تقویت دیتا ہے۔ سچ کا حق تب ادا ہوتا ہے جب اسے کھلے دل سے قبول کیا جائے اور عمل سے گواہی دی جائے۔ سچائی کی چبھن بظاہر نشتر ہے، لیکن یہی درد انسان کے باطن کی صفائی اور معاشرے کی اخلاقی بقا کا ذریعہ ہے۔ سچ کی چبھن سے بھاگنے کے بجائے اسے اپنی اصلاح کا وسیلہ بنا لینا ہی حقیقی کامیابی ہے۔
Comments
Post a Comment