وراثت اور اس کے مسائل (۱) - از قلم : ظفر ھاشمی ندوی، (سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)


وراثت اور اس کے مسائل (۱) - 
از قلم : ظفر ھاشمی ندوی، 
(سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)

اردو زبان میى ( وراثت) اور عربی زبان میں إرث یا وِرثہ کا مطلب ہے وہ مال یا جائیداد جو کسی شخص کے انتقال کے بعد بچ جائے - اور فطری طور پر اس کی تقسیم اس کے والدین اور بیوی بچوں میں ہو جائے- ایک شخص کو وارث اور ایک سے زیادہ کو وَرثہ کہتے ہیں -
اسلام کو چھوڑ کر باقی تمام مذہبوں میں اس بارے میں بڑی بڑی نا انصافیاں اور غلط تقسیم ہے- ایک عام غلط خیال یہی ہے کہ ماں باپ اور بیٹوں بیٹیوں میں ہر چیز برابر برابر تقسیم ہو جائے جبکہ اسلام میں مال و دولت اور باقی جائیداد کی ایسی تقسیم صحیح نہیں ہے - وہ کیوں؟
اس کیوں کے جواب سے پہلے دوسرے سوال کا جواب ضروری ہے- وہ سوال یہ ہے کہ کیا مرد و عورت کے درمیان ہر بات برابر برابر ہونی چاہیے ؟ کیا انصاف کا تقاضہ یہی ہے؟ اگر اس کا جواب وہی ہے جو دوسرے مذاہب میں ہے تو پھر اللہ تعالیٰ نے عورت کے دماغ کا سائز مرد کے دماغ سے چھوٹا کیوں بنایا- فطری طور پر ہر عورت مرد کے مقابلہ میں کمزور کیوں ہے؟ عام طور پر کھانا پکانا عورت کا پیشہ یا گھریلو زندگی میں اسی کا کام سمجھا جاتا ہے تو دنیا بھر کے چھوٹے بڑے ہوٹلوں اور خصوصا فائی اسٹار ہوٹلوں میں chef یعنی باورچی صرف مرد ہی کیوں ہوتے ہیں - اس طرح کی مختلف مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ اللہ کے بنائے ہوئے نظام کے مطابق مرد و عورت کو ایک جیسا سمجھنا اور اس بنیاد پر دونوں کے حقوق کو برابر کر دینا انصاف نہیں ہے بلکہ بیوقوفی ہے اس اعتبار سے کہ یہ دونوں دو الگ الگ نظام زندگی ہیں اور ان میں سے ہر ایک کی بڑائی اور عظمت یہ ہے کہ وہ اپنی اپنی زندگی کے فرائض کو بخوبی ادا کرے- مثال کے طور پر مرد کو حمل نہیں ٹھہرتا اور عورت خود بچہ نہیں پیدا کر سکتی - یہ فرق ان میں سے کسی کی کمزوری نہیں بلکہ خوبی ہے- 
اسی فطری فرق کی وجہ سے اسلام نے عورت کے کسی روپ کا خرچ اس پر نہیں رکھا ہے - عورت ابتدا میں بیٹی پھر بہن اس کے بعد بیوی اور آخر میں ماں بن جاتی ہے - ان تمام صورتوں میں اپنے اپنے وقت پر باپ بھائی شوہر اور بیٹے کو ہی کمانا ہے اور عورت کے تمام اخرجات پورے کرنے ہیں - عیسائیوں یہودیوں اور دوسرے تمام غیر مسلموں نے بنیادی طور پر یہی غلطی کی کہ انصاف کے نام پر بھیانک بے انصافی کر ڈالی -وہ اس طرح کہ بحیثیت عورت کی گھریلو ذمہ داریوں میں کمی تو نہیں کی اور اس کے ساتھ کمانے کی ذمہ داری بھی اس پر ڈال دی- اس کے مقابلہ میں اسلام نے بنیادی طور پر عورت کے ذمہ کمانے کی ذمداری ہی نہیں رکھی - مردوں نے کمانے کے نام پر عورت کو گھر سے باہر نکالا اور اس بہانہ اپنی گندی نظروں کا نشانہ اسے بنایا- نتیجہ میں ہر جگہ زناکاری بڑھ گئی -
چونکہ عورت پر کمانا فرض نہیں ہے اور بیٹی بہن بیوی اور ماں کے روپ میں متعلق مرد کو اس کے اخرجات پورے کرنے ہیں اس لئے شریعت نے ورثہ کی تقسیم کے لئے للذکر مثل حظ الانثیین ( ایک مرد کو دو عورتوں کے برابر حصہ ملے گا- اس سلسہ میں اگلی قسط میں ان شاء اللہ جائداد کی شرعی تقسیم اور اس کی تفصیل پیش کی جائے گی-

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔