یومِ فتح (پہلی جمعرات) پر سگر شریف میں پُروقار تقریبات - علمِ مبارک کا جلوس، جلسۂ رحمت للعالمین ﷺ اور حضرت حماد کاشانیؒ پر کنّڑ کتاب کی رسمِ رونمائی۔
نامہ نگار: رہبر تماپوری :
مقام: سگر شریف، شاہ پور، ضلع یادگیر، کرناٹک :
سگر شریف: سگر شریف میں سالانہ جشنِ یومِ فتح (پہلی جمعرات، 20 اگست 2026ء، مطابق 6 ربیع الاول 1448ھ) کے مبارک و تاریخی موقع پر درگاہِ حضرت سیدنا صوفی سرمست اسد الاولیاء رحمۃ اللہ علیہ و جمیع شہدائے کربلائے ثانی، صدر چوکھنڈی، سگر شریف (نصرت آباد) میں مختلف مذہبی، روحانی، علمی اور ادبی پروگرام عقیدت و احترام اور تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوئے۔
علمِ مبارک کا تاریخی جلوس
حسبِ روایتِ قدیم صبح ٹھیک 10:30 بجے بارگاہِ حضرت منور بادشاہ سرمستؒ (چھوٹی درگاہ) سے علمِ مبارک کا جلوس برآمد ہوا، جو سگر شریف کی اہم شاہراہوں سے گزرتا ہوا بارگاہِ اسد الاولیاء حضرت صوفی سرمست رحمۃ اللہ علیہ، صدر چوکھنڈی، کربلائے ثانی، سگر شریف پہنچا۔
سجادہ نشین و متولی، نبیرۂ فاروقِ اعظم و نواسۂ غوثِ اعظم فضیلت مآب حضرت سید شاہ مجیب الدین سرمست قبلہ نے فتح کی نشانی علمِ شریف کو بارگاہ کے بابِ داخلہ پر نصب کیا، جس کے بعد گلہائے عقیدت پیش کیے گئے۔ سلام و فاتحہ کے بعد تبرک تقسیم کیا گیا۔
جلسۂ جشنِ رحمت للعالمین ﷺ
بعدِ نمازِ عصر مسجدِ عالمگیر، درگاہِ حضرت صوفی سرمست رحمۃ اللہ علیہ، صدر چوکھنڈی، کربلائے ثانی، سگر شریف، شاہ پور میں جلسۂ جشنِ رحمت للعالمین ﷺ کا پُروقار انعقاد عمل میں آیا۔
تقریب کا آغاز دو ثناء خوانانِ رسول ﷺ کی پُراثر نعتِ پاک سے ہوا، جس سے پوری محفل روحانی کیفیت سے معطر ہوگئی۔ بعد ازاں برادر یوسف الدین سرمست، سجادہ نشین سگر شریف، نے سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر مؤثر خطاب کیا۔ انہوں نے حیاتِ طیبہ، اخلاقِ حسنہ اور حضور اکرم ﷺ کے عالمگیر پیغامِ رحمت و محبت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
اس موقع پر مقررِ شعلہ بیاں حضرت علامہ مولانا عبدالحکیم وقار اشرفی صاحب قبلہ، خلیفۂ شیخ الاسلام، گلبرگہ شریف نے بھی سیرتِ طیبہ اور تعلیماتِ نبوی ﷺ کے مختلف پہلوؤں پر بصیرت افروز خطاب کیا۔ برادرانِ سجادہ نشین سید شاہ شفیع الدین سرمست اور سید شاہ حبیب الدین سرمست نے بھی اظہارِ خیال کیا۔
حضرت حماد الدین کاشانیؒ پر کنّڑ کتاب کی رسمِ رونمائی
اسی روحانی محفل کے دوران سگرناڈ سے تعلق رکھنے والے تقریباً سات سو سال قدیم معروف صوفی بزرگ، فلسفی اور شاعر حضرت حماد الدین کاشانی رحمۃ اللہ علیہ کی حیات و خدمات پر مبنی اہم کنّڑ کتاب ’’دکّنّنَ مودلا چشتیہ برہگار‘‘ (دکن کے پہلے چشتی مصنف) کی باضابطہ رسمِ رونمائی بھی عمل میں آئی۔
یہ وقیع تصنیف درگاہِ حضرت صوفی سرمست رحمۃ اللہ علیہ، صدر چوکھنڈی، کربلائے ثانی، سگر شریف کے سجادہ نشین و متولی ایڈوکیٹ حضرت سید شاہ مجیب الدین سرمست فاروقی الحسنی والحسینی قبلہ کی قلمی کاوش ہے، جس کا معیاری اور سلیس کنّڑ ترجمہ نوجوان قلمکار غائب شاہ پٹیل نے انجام دیا ہے۔
کتاب کی رسمِ رونمائی کرناٹک ساہتیہ اکادمی، بنگلور کے سینئر ادیب جناب سدارام ہونکال کے ہاتھوں عمل میں آئی، جبکہ شاہ پور کے نامور ادیب ڈاکٹر راگھویندر ہارنگیر بطورِ مہمانِ خصوصی شریک رہے۔
کتاب کی علمی و ادبی اہمیت
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معززین و دانشوروں نے حضرت حماد الدین کاشانیؒ کی علمی، ادبی اور صوفیانہ خدمات پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے کہا کہ حضرت حماد الدین کاشانیؒ کو خطۂ دکن کی صوفیانہ، ادبی اور ثقافتی تاریخ میں ممتاز مقام حاصل ہے اور انہیں سلسلۂ چشتیہ کے اولین باضابطہ قلمکار و مصنفین میں شمار کیا جاتا ہے۔
حضرت حماد الدین کاشانیؒ کے خاندانی و علمی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کے والدِ محترم ایران سے ہجرت کرکے دکن تشریف لائے تھے، جبکہ ان کے برادران بھی بلند پایہ صوفیا اور اہلِ قلم میں شمار ہوتے تھے۔
مقررین نے کہا کہ کنّڑ زبان میں اس کتاب کی پیشکش ایک اہم تاریخی و ادبی خدمت ہے۔ اس کے ذریعے مقامی قارئین، بالخصوص برادرانِ وطن، حضرت حماد الدین کاشانیؒ کی زندگی، صوفیانہ افکار، رواداری، اخوت اور خطے کے شاندار صوفیانہ ورثے سے واقف ہوسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب نئی نسل کو اپنی ثقافتی اور صوفیانہ جڑوں سے جوڑنے اور تاریخی ورثے کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
مترجم کی کاوشوں کی پذیرائی
منگلور کے معروف مصنف عصمت پجیر کی جانب سے بھیجا گیا تہنیتی پیغام بھی محفل میں پیش کیا گیا۔ تقریب میں موجود علما، اہلِ قلم اور عمائدین نے مترجم غائب شاہ پٹیل کی علمی و تحقیقی محنت کو سراہتے ہوئے انہیں اس اہم ادبی کاوش پر دلی مبارکباد پیش کی۔
تمام تقریبات درگاہِ عالیہ صدر چوکھنڈی، کربلائے ثانی کے سجادہ نشین فضیلت مآب حضرت سید شاہ مجیب الدین سرمست قبلہ کی زیرِ سرپرستی بحسن و خوبی انجام پائیں۔
محفل میں شاہ پور، شوراپور، رنگم پیٹ اور گوگی سمیت دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے معززین، علما، اہلِ قلم، ادب دوست احباب اور زائرین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ پروگرام کے اختتام پر درگاہِ عالیہ میں ملک و ملت کے امن، سلامتی، خوش حالی، باہمی اخوت و بھائی چارے اور بقائے باہمی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
Comments
Post a Comment