نبی کریم ﷺ اور نوجوانوں کی تربیت - از قلم : نورجہاں بانو (طالبہ ایچ جے تھیم اقراء کالج مہرون جلگاؤں)
نبی کریم ﷺ اور نوجوانوں کی تربیت -
از قلم : نورجہاں بانو (طالبہ ایچ جے تھیم اقراء کالج مہرون جلگاؤں)
نوجوان کسی بھی قوم کا روشن مستقبل ہوتے ہیں۔ ان کی فکر، عمل، جذبہ اور بصیرت آنے والے کل کی بنیاد رکھتی ہے۔ تاریخِ انسانیت میں جب بھی کوئی انقلابی تبدیلی آئی ہے اس میں نوجوانوں کا کردار نمایاں رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے وقت بھی عرب معاشرہ ایک ہمہ جہت زوال کا شکار تھا۔ وہاں کی نوجوان نسل یا تو جاہلیت کی رسموں میں گم تھی یا قوت و طاقت کی بنیاد پر برتری کی دوڑ میں لگی ہوئی تھی۔ ایسے ماحول میں حضور اکرم ﷺ نے جس طرح نوجوانوں کی تربیت کی، ان کی فکری اور روحانی نشو و نما فرمائی وہ آج بھی دنیا کے تمام نظام ہاے تعلیم و تربیت کے لیے ایک نمونہ اور منشور ہے۔
نبی کریم ﷺ نے سب سے پہلے نوجوانوں کے اندر اعتماد پیدا کیا۔ آپ ﷺ نے انھیں محض جذباتی نعرہ باز بنانے کی بجاے فکری اور عملی قوت عطا کی۔ حضرت علی، حضرت اسامہ، حضرت زید، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت معاذ، حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہم اجمعین اور دوسرے بہت سے نوجوان صحابہ جن کی عمریں بیس سال سے بھی کم تھیں، ان کی سیرت کی تشکیل نبی اکرم ﷺ نے ایسے انداز سے فرمائی کہ وہ علم، حکمت، قیادت، فہم و فراست، قربانی اور ایثار کے روشن مینار بن گئے۔ رسولِ رحمت ﷺ نے ان کے لیے نہ مدرسے بنوائے، نہ یونیورسٹیوں کی عمارتیں کھڑی کیں بلکہ ان کے دلوں کو علم و نور سے آراستہ کیا، ان کی سوچوں کو وسعت بخشی اور ان کے ضمیر کو بیدار کیا۔
حضور انور ﷺ نے تربیتِ نوجواناں کے لیے عملی ماحول فراہم کیا۔ دار ارقم ہو یا مسجدِ نبوی کا صفہ، یہ سب نوجوانوں کی علمی اور روحانی نشو و نما کے مراکز تھے۔ حضور اکرم ﷺ نے علم کو صرف کتابی نہیں رکھا بلکہ زندگی سے جوڑ دیا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسے نوجوان کو جنگوں کی قیادت سونپی، حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو سترہ اٹھارہ سال کی عمر میں اسلامی لشکر کا سپہ سالار مقرر فرمایا، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر بنایا اور حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ کا پہلا داعی و مبلغ بنا کر روانہ فرمایا۔ یہ سب وہ کام تھے جو آج کے زمانے میں تجربہ کار اور عمر رسیدہ افراد کے لیے مخصوص سمجھے جاتے ہیں مگر نبیِ کریم ﷺ نے نوجوانوں کی اہلیت کو پہچانا اور ان پر اعتماد کرکے ایک روشن تاریخ رقم کی۔
آپ ﷺ نے نوجوانوں کو وقت کی قدر، علم کا احترام، بڑوں کا ادب اور چھوٹوں پر شفقت کا درس دیا۔ ان کے جذبوں کو ضائع ہونے سے بچایا اور انھیں مقصدیت سے جوڑ دیا۔ نوجوانوں کو خود پسندی، غرور، جذباتی فیصلوں اور بے راہ روی سے دور رکھا۔ آپ ﷺ نے ان کے دلوں میں اللہ کا خوف، آخرت کا یقین اور دنیا کی حقیقت کا شعور جاگزیں کیا۔ ان کے ذہنوں کو آفاقی سوچ عطا کی اور دلوں کو اخلاقی عظمت سے مزین کیا۔
آج جب ہم موجودہ نوجوان نسل کو دیکھتے ہیں تو ان میں بے سمتی، احساسِ کمتری اور ذہنی پراگندگی کا غلبہ نظر آتا ہے۔ ان کے سامنے کوئی ایسا نمونہ موجود نہیں جسے وہ دل سے اپنائیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں نبی کریم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کی طرف پلٹنا ہوگا۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کی تربیت کے لیے انھی اصولوں کو اختیار کرنا ہوگا جو سیرتِ طیبہ ﷺ کا حصہ ہیں۔ ہمیں انھیں اعتماد دینا ہوگا، ان پر بھروسہ کرنا ہوگا، ان کے دلوں کو ایمان کی گرمی سے جلانا ہوگا اور ان کے ذہنوں کو سچائی کی روشنی سے منور کرنا ہوگا۔
سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ہمیں سکھاتی ہے کہ نوجوانوں کی تربیت فقط تعلیم دینے سے نہیں بلکہ ان کے ساتھ وقت گزارنے، ان کی بات سننے، ان سے مشورہ لینے، ان کو مواقع فراہم کرنے، ان پر اعتماد کرنے اور ان کی رہنمائی کرنے سے ہوتی ہے۔
وہ حضور ﷺ ہی تھے جنھوں نے نوجوانوں کو جمود کے اندھیرے سے نکال کر شعور کی روشنی میں لاکھڑا کیا۔ آج ہم بھی اگر اسی طریقۂ تربیت کو اپنائیں تو ایک نئی بیدار نسل سامنے آ سکتی ہے جو انسانیت کا وقار بنے گی اور سارے عالم میں اسلام کی عظمت کا پرچم بلند کرے گی۔
ایسا کوئی بھی معاشرہ جو اپنے نوجوانوں کو بھٹکنے دے، جو ان کے جوش کو شعور سے ہم آہنگ نہ کرے، جو ان کی تخلیقی قوتوں کو پہچانے بغیر ضائع کرے، وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔
سیرت النبی ﷺ کا یہ پیغام ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا ہوگا کہ نوجوان صرف وقت کے تقاضوں کے مطابق ہی نہیں بلکہ نبوی بصیرت کے مطابق بھی سنوارے جائیں تاکہ ان کے اندر انسانیت، کردار، قیادت، دیانت، حلم، جرأت اور اخلاص کے وہ تمام جوہر پیدا ہوں جو دین و دنیا کی فلاح کی ضمانت بنتے ہیں۔
Comments
Post a Comment