آسماں چپ ہے - ازقلم : مسرورتمنا۔


آسماں چپ ہے - 
ازقلم : مسرورتمنا۔ 

بھابھی اب ایسی بھی کوی
بات نہیں فوجی کو کب چھٹی ملتی ہے
اسکا گھر تو سرحد کی سیما....     
........
اچھا نئ دلھن کو چھوڑ کر وہی جاتا ہے جسے بیوی پسند نہ آئ ہو بھابھی
اسے گھورتے ہوے کمرے میں چلی گی ہاں کاشفہ میرے لیے آچھی سی چایے بنا کر لانا ویسے بھی تمہیں چایے کے سوا کیا ہی اچھا بنا
لینا ہے. .... ........
کاشفہ جو آماں کے لیے دلیا بنا رہی تھی.... خاموشی سے
چاۓ بنانے لگی
............................
 آماں کی عیادت کو آی تو واپس 
نہ جاسکی
انکی دیکھ بھال اور
ساس نے آچھی طرح سمجھادیا تھا..کے منیر جب
تک نہ آے تم کو وہی رہنا
کیونکہ وہ خرچ تو بھیج نہیں سکتا ... بس تم رہو
ماں کے پاس ارے لڑکیاں ترستی ہیں میکہ جانے کو
اور منیر آگیا تو جانے بھی نا
دیگا... اور میں تو حیدرآباد جارہی. بڑے بیٹے کے
 ساتھ . . مگر بھابھی
کو اسکا رہنا پسند نا تھا
بس طعنہ دیتی رہتی
اماں خاموش رہتی کچھ نا
بولتیں. ..
   .. کاشفہ خاموش تھی وہ ٹیچر تھی 
اسکا اسکول میکہ اور سسرال کے بلکل قریب تھا
گھر پہ بچیے ٹیوشن پڑھنے
آتے.. چھٹی کے دن.. وہ صبح شام کچن میں مصروف رہتی
اسکا کمرہ بھابھی نے
بچوں کو دے دیا تھا
وہ آماں کے کمرے میں
اسکول اور ٹیوشن کے پیپر
چیک کرتی.... اتنا سب کچھ
ہوا پھر بھی وہ خاموش تھی
کیونکے اسے لگا یہ ذمین بھی خاموش ہے اور آسماں چپ ہے....  
وہ بھی کیا دن تھے بےفکری
اور لاابالی کے اسکی خوبصورتی 
سے ساون کی ہریالی
میں نشہ سا چھا جاتا تھا
وہ.اپنی سکھیوں کے ساتھ
بڑے بڑے پیڑوں پر
بندھے جھولے لیا کرتی
سمرن برکھا راشدہ سبھی
بارش .میں بھیگتی کھیتوں 
میں بھٹے کھاتی
ایکدوسرے کو بھگوتی
شام گیے گھر لوٹتیں تھیں
ایسے میں کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا کے ذندگی کی شروعات ہی سنسان گلی
کی شام بن جایگی... ...
اماں کی آواز پر وہ خیالوں
سے چونکی اسکا شوہر
اس پر فدا تھا یا نہیں
وہ جان نہ سکی ہاں اسکی
نشانی اب وہ اپنے کوکھ..  
میں محسوس کرنے لگی تھی
مگر دل میں کؤی چاہ کوی امنگ نہ تھی 
.............بس ایک راشدہ تھی اسکی سھیلی
...جس نے اسکا ساتھ دیا
پھر ...... راشدہ انڈیا سے باہر چلی گئ جاتے جاتے اپنے مکان کی .. چابی اسے تھمادی میرے گھر رہ جا
ہاں مادر میری اسکول جوایین کر لے میری جگہ
آچھی سیلری ملے گی
اور اس نے ایسا ہی کیا
آماں کو.آپنے ساتھ چلنے کو کہا
مگر وہ نا آئ... انکی کچھ مجبوریاں تھیں
.................منیر تمہاری کوی خبر نہیں...  
کاشفہ سوچ رہی تھی منیر کا دل کیا پتھر ہے.. اسے کیسے بتایے وہ ماں بنے والی ہے ماں 
........پھر وہ ہر درد کے ساتھ اپنی ساتھیوں سے
مسکرا کر ملتی... اسکے کلیگ اسے خوش رکھنے کی کوشش کرتے
..............
ارے کاشفہ سنو تو انکے ساتھی کلیگ ریاض نے آواز دی. . ... .   
تم نے پکنک پر چلنے سے منع کیوں کردیا.    
بس ایسے ہی وہ دھیمے لہجے میں بولی.... ....نہیں نہیں تمہاری نہیں چلے گی ہم سب کلیگ نے ملکر فیصلہ کیا ہے تمہارے بنا ہم مہا بلیشور
نہیں جاینگے 
آج وہ بہت خوش تھی
کافی دنوں کے بعد دل کو
سکون ملا.... . ریاض اسے خوش دیکھ کر بہت خوش تھے. بس ایسے ہی مسکراتی رہا کرو کاشفہ

.....................آنکھ ہے بھری بھری اور تم مسکرانے
کی بات کرتے ہو ریاض. ...
کاشفہ تم نے جلدی شادی نی
کرلی اب ماں بھی بن رہی ہو
ریاض کے لہجے میں پتہ نہیں کیا تھا.. آماں کو جلدی تھی میں بوجھ تھی ان پر اتار پھیکا
مگر تم تو اپنے پاوں پر کھڑی تھی نا ٹیچر تھی..    
ریاض ایک بات کہوں
آگر مجھے کچھ ہوگیا
تو.. .... بس اب کرنے لگی بہکی باتیں ہم سب یہاں انجواے کرنے آے ہیں.    
چلو گرما گرم کافی لیتے ہیں
اور وہ مسکراکر چل پڑی
اس دن وہ کھل کر مسکرای تھی. ... ... ..   
پھر ایکدن.. منیر کی خبر
آی وہ سرحد پر شھید ہوگیا
انسو آنکھوں میں کہیں خشک ہوگیا تھا
...................................
اور آج وہ منچ پر آی تھی
منیر کی بیوہ بنکر
 منیر نے دیس کے لیے خود کو قربان کیا تھا
پندرہ آگست ....   
اسے مان ملا سمان ملا
مگر آج اسکی آنکھیں بھیگ رہی تھیں..اسکے درد کو
محسوس کر کے بھی
یہ ذمین خاموش تھی
اور آسماں چپ ہے
اور پھر اچانک اسکی
چینخ نکلی اور وہ
 اسٹیج پر لہرا ی
دور کھڑی دو آنکھیں اسے
دیکھ رہی تھیں ریاض کی آنکھیں وہ لپک کر اس کے قریب پہونچے 
اور .... اسکا بے جان جسم
انکے ہاتھوں میں جھول گیا 


Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔