دنیا کے تمام مسائل کا حل حضرت محمد کو آخری نبی ماننے اور پیغامِ رحمت عالم میں مضمر ہے۔ ضیاء الدین صدیقی - وحدت اسلامی اکولہ نے کیا عوامی خطاب عام کا انعقاد۔


اکولہ: (راست) کل ہند مہم ’’پیغامِ رحمتِ عالم ﷺ‘‘ کے ضمن میں بروز پیر 24 اگست 2026ء بعد نمازِ عشاء مومن پورہ مسجد اکولہ میں ایک اہم خطابِ عام کا انعقاد عمل میں آیا، جس کا عنوان ’’ماحولیاتی آلودگی کا بحران اور پیغامِ رحمتِ عالم ﷺ‘‘ تھا۔
جلسہ کی نظامت ڈاکٹر عبدالعلیم نے انجام دی، جبکہ قاری نعیم صاحب نے تلاوتِ کلامِ پاک سے پروگرام کا آغاز کیا اور انس نبیل صاحب نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔
پروگرام کے مقررِ خصوصی محترم جناب ضیاء الدین صدیقی صاحب (امیر وحدتِ اسلامی ہند) نے اپنے خطاب میں ماحولیاتی آلودگی کے بڑھتے ہوئے بحران، اس کے انسانی زندگی اور آنے والی نسلوں پر مرتب ہونے والے خطرناک اثرات اور ماحول کے تحفظ کی ذمہ داری پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
فاضل مقرر نے قرآن و سنت اور سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں واضح کیا کہ اسلام انسان کو صرف عبادات ہی کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ اسے زمین، پانی، ہوا، درختوں، حیوانات اور پوری کائنات کے ساتھ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کی ہدایت بھی دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا پیغام پوری انسانیت کے لیے رحمت کا پیغام ہے، اور اس رحمت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ زمین کو تباہی اور آلودگی سے محفوظ رکھے۔ آپ ﷺ کو آخری نبی مان کر اور پیغام رحمتِ عالم ﷺ پر عمل پیرا ہوکر ہی دنیا کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج ماحولیاتی آلودگی صرف ایک سائنسی یا انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی ذمہ داری، اخلاق اور امانت کا مسئلہ بھی ہے۔ فضول خرچی، وسائل کا بے دریغ استعمال، پانی اور ہوا کی آلودگی، درختوں کی کٹائی اور فطری وسائل کی تباہی کے خلاف اسلامی تعلیمات انسان کو اعتدال، کفایت اور ذمہ داری کا راستہ دکھاتی ہیں۔
مقرر نے پیغامِ رحمتِ عالم ﷺ کو عصرِ حاضر کے ماحولیاتی بحران کے تناظر میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر امتِ مسلمہ سیرتِ نبوی ﷺ کے ان روشن اصولوں کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کرے تو صاف ستھرا، متوازن اور پائیدار معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے حاضرین پر زور دیا کہ ماحول کے تحفظ کو محض حکومتی ذمہ داری سمجھنے کے بجائے ہر فرد اپنی سطح پر اس سلسلے میں عملی کردار ادا کرے۔
پروگرام میں مہمانِ خصوصی الحاج عنیق خان صاحب (صدر بڑی مسجد بیدپورہ) کے علاوہ الحاج نثار قریشی صاحب (جمعیت اہلِ قریش) وزیر خان صاحب (بزرگ رکن جماعتِ اسلامی ہند) مولانا طفیل احمد صاحب ندوی (امام و خطیب نگینہ مسجد) اور حافظ رضوان صاحب (امام و خطیب مسجدِ حضرت بلال) سمیت مختلف مکاتبِ فکر اور طبقات سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔
خطاب کے اختتام پر مقرر نے اس عزم کی ضرورت پر زور دیا کہ پیغامِ رحمتِ عالم ﷺ کو صرف تقریروں اور محافل تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے عملی زندگی میں نافذ کیا جائے اور ماحول کے تحفظ، صفائی، شجرکاری، پانی کی بچت اور قدرتی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کو دینی و اخلاقی فریضہ سمجھا جائے۔
پروگرام میں بڑی تعداد میں مرد و خواتین نے شرکت کی اور مقرر کی جامع اور فکر انگیز گفتگو کو سراہا۔ پروگرام کو کامیاب بنانے میں وحدت اسلامی اکولہ کے رفقاء نے اپنی خدمات انجام دیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔