حصولِ آزادی میں مسلم خواتین کاقائدانہ کردار - ازقلم : ڈاکٹر محمد ثناء اللہ شریف، بنگلورو۔
حصولِ آزادی میں مسلم خواتین کاقائدانہ کردار -
ازقلم : ڈاکٹر محمد ثناء اللہ شریف، بنگلورو۔
9341854740
وطن کے عشق میں جینا،وطن کے عشق میں مرنا
اُسے ہم دین کہتے ہیں اسے ایمان کہتے ہیں
حصولِ آزادی ایک مشترکہ عمل ہے۔ برادرانِ وطن اور مسلمانوں نے مل کر کوششیں کیں لیکن کمان و قیادت اور قائدانہ رول ہم نے ہی کیا۔1857ء سے لے کر 1947ء تک کی تاریخ میں کتنے ہی نشیب و فراز آئے۔ ہمارے سلاطین، امراء و روساء، علماء، ادیب و شاعر اور خاص و عام کی قربانیاں تاریخ کا ایک زرین باب ہیں۔ وطن سے محبت ایک فطری جذبہ ہے اور انسان کو اُس سے عقیدت و
محبت ہوتی ہے۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے:”یاد کرو وہ وقت جب ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی کہ ’پروردگار! اس شہر کو امن کا شہر بنا“‘۔چنانچہ پیارے نبی ﷺ جب اپنے وطن مکہ سے ہجرت فرما رہے تو راستے میں مکہ کی جانب رخ کر کے فرما رہے ہیں کہ ”شہر مکہ تو مجھے بہت عزیز تھا میں ہرگز یہاں سے نہ جاتا، بہرحال اگر یہ لوگ مجھے نہ نکالتے“ جذبات اُمڈ گئے، آنکھوں میں آنسو آگئے۔ محسنِ اعظم نے اللہ کی خاطر یہ قربانی بھی دئے۔ حب الوطنی سے سرشار آپ کے قلبِ اطہر کو مضطر کیا تھا اور یہ جدائی آپ پر گراں گزری تھی لیکن جب آپ مدینہ منورہ پہنچ کر مدینہ منورہ کو دارالامان بنایا تو اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ یوں دعا کیجئے:''اے اللہ! مدینے کی محبت ہمارے دلوں میں مکہ کی محبت سے بھی بڑھا دے۔ اے اللہ! غلے اور پیدا وار میں برکت عطا فرما اور اس کی آب و ہوا کو ہمارے موافق بنا دے اور اس کو حرم بنا دے“
یہ اسوہ ء انبیاء ہمارے ایمان کا جزبنیں، اور سلاطین و حکمرانوں نے بھارت کو ہمیشہ اپنی تابندہ تہذیب، درخشاں تاریخ اور عظیم کارناموں سے جنت نشان و سونے کی چڑیا بنایا۔
1857ء کے واقعہ کی تاریخ شاہد ہے کہ جب انگریز حکام نے تحریک آزادی میں اہم و کلیدی کردار ادا کرنے والے حریت پسندوں پرشک وشبہ کی بنیادپر قید و موت کی ایذائیں دی گئیں۔ لاکھوں بے گھر ہوئے، شہر اور بستیاں اجڑگئیں، بازاروں کی رونق ختم ہو گئی۔وقت نے کروٹ لی اور حصولِ آزادی کے لیے پرزور تحریک چلی۔ مرد تو مرد، وہ پردہ نشین خواتین، دخترانِ ملت نے گھر کی دہلیز سے قدم نکال کر اس بات کو یقینی بنایا کہ چاہے اُن کی جان چلی جائے، گھر لوٹ جائے، پٹ جائے مگر تحریک کو کسی بھی قیمت پر ختم نہیں ہونے دیں گے۔ عزم و حوصلہ،دلیری، جرأت و استقامت نے برطانوی حکام کو حیران و پریشان کیا۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ ان کی ایثار و قربانی کو یادکیاجاتاہے، نہ نصابی کتابوں میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ ایک المیہ ہے، ٹریجڈی ہے۔ آئیے آج ان نامور و معروف خواتین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے کارناموں کا جائزہ لیں۔مہاتما گاندھی نے کہا تھا”مسلمان خواتین کے تذکرے کے بغیر تحریکِ آزادی کی داستان ادھوری ہے“
آبادی بانو بیگم (بی اماں):۔ اسلام اور تحریکِ آزادی کی تابندہ جوہر اور شعر و ادب کی ماہر، شعلہ بیان مقرر، ہمہ گیر شخصیت کے مالک،ہمدرد، اورکامریڈ کے ایڈیٹر کی والدہ ماجدہ ”آبادی بانو بیگم“تھیں۔ جو نواب درویش علی خان پنچ ہزاری کی صاحبزادی، ایک روشن خیال، نیک دل و دیندار و صالح خاتون تھیں۔ کاندھی جی اور زمانے نے انہیں ”بی اماں“ کے لقب سے نوازا۔پہلی مسلم خاتون تھیں جنہوں نے حجاب کو پرچم بنا کر سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور وطنِ عزیز کو برطانوی اقتدار سے آزاد کرانے میں اہم رول ادا کیا۔ شوہر کی قبل از موت کے بعد بچوں کی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔پردہ میں رہ کر جائدادکا معقول انتظام کیا۔ آبادی بیگم نے خلافت اور ستیہ گرہ تحریک کے لیے چندہ جمع کرنے کا بھی اہتمام کیا۔ ملک عزیز کی آزادی کی خاطر دوردراز کادورہ کیا۔تقریریں کیں۔ ان کی آخری خواہش ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:”اب یہ خواہش باقی ہے کہ وہ سوراج اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں بس اور ہندو مسلمانوں میں اتحاد قائم ہوجائے“اور یہ بول نہایت دلیرانہ اورعزم و حوصلے کا باعث بنے۔
بولی پی اماں محمد علی کی، جان بیٹا خلافت پہ دے دو
ساتھ تیرے ہیں شوکت علی بھی، جان بیٹا خلافت پہ دے دو
بوڑھی اماں کا کچھ غم نہ کرنا، کلمہ پڑھ کر خلافت پہ مرنا
ایک اور معزز خاتون کا اسم گرامی امجدی بیگم ہے جو مولانا محمد علی جوہر کی بیگم ہیں۔ مولانا محمد علی جوہر تحریکِ آزادی کے صف اول کے قائد تھے۔ انہیں بیماریوں نے گھیرلیا تھا۔ ذیابیطس کے مریض تھے۔ پاؤں پر ورم ہو چکے تھے۔ چلنا پھرنا دشوارتھا۔ قلیل آمدنی، زندگی کا قیمتی وقت قید و بند کی صعوبتوں میں گزرا۔ امجدبی بیگم نے کبھی شکایت کا موقع دیا نہ اعتراض کیا بلکہ جوہرؔ کی اور اپنی بچیوں کی برابر خدمت کرتی رہیں۔ تحریک میں بھی برابر شریک رہیں،نہ صرف خاندان کا نظم سنبھالا بلکہ مسلم خواتین کی تنظیم سازی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
بیگم نشاط النساء موہانی:۔ ”انقلاب زندہ باد“نعرے کے خالق اور اردوئے معلی کے ایڈیٹر مولانا حسرت موہانی اور کامل آزادی کی صدا بلند کرنے والے انقلابی نوجوان اور جوشیلے مقرر مولانا حسرت موہانی سے آپ کی شادی ہوئی۔ حسرت کی پہلی گرفتاری بیگم کی سیاسی زندگی کا نقطہء آغاز بنی اور اس کے بعد اپنے شوہر کے ہر سیاسی اور عوامی مشن میں معاون رہیں۔ اگرچہ بیگم نشا ط النساء مالی طورپر کمزور تھیں لیکن اتنی خود دار طبیعت کی مالک تھیں کہ کبھی دوسروں کی مالی مدد قبول نہیں کی۔
ہاجرہ بیگم:۔ ہاحرہ بیگم بھی تحریکِ آزادی کی تاریخ میں ایک اہم نام ہے۔ جنہوں نے صحافتی میدان میں قدم رکھا اور اپنی تحریروں کے ذریعہ قومی بیداری پیدا کی۔ بی بی امت الاسلام گا ندھی جی کی قریبی ساتھی تھیں اور انہوں نے عدم تشدد کے اصولوں کو اپناتے ہوئے خواتین کے حقوق اور قومی اتحادکیلئے کام کیا۔ وہ نوعمری سے ہی تحریک کی رفیق بنیں اور برقع پہن کر تحریک کی معاون ومددگار ثابت ہوئیں۔
زلیخا بیگم:۔ آزاد ہندوستان کی تحریکِ آزادی کے قدآور مسلم سیاسی رہنما، الہلال اور البلاغ کے ایڈیٹر مولانا ابوالکلام آزاد کی شریک حیات ہونے کا شرف حاصل تھا۔ انہوں نے اپنے شوہر کی طویل قید کے دوران نہ صرف خاندان کو سنبھالا بلکہ ان کے نظریات اور مقصد کو زندہ رکھا۔
دیگر مسلم خواتین:۔ رضیہ سلطانہ، بیگم حضرت محل (اودھ کی ملکہ)، بیگم زینت محل، ٹیپو سلطان کی بیگم جنہیں پہلی شہید خاتون ہونے کا شرف حاصل ہے۔ ان کے علاوہ کئی معزز نام ہیں جنہوں نے زندگی کے ہر محاذ پر تحریک کا برابر ساتھ دیا۔ صرف سیاست ہی نہیں بلکہ صحافت اور تعلیم کے میدان میں بھی اہم کردار ادا کیا۔اپنے وسائل کی کمی کے باوجود بے لوث حب الوطنی اور ایمان کی قوت سے یہ ثا بت کر دیا ہے کہ حصولِ آزادی کی تاریخ میں خواتین کا کردار بہت اہمیت کا حامل رہا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم انہیں نہایت عزت و احترام کے ساتھ خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے نئی نسلوں کو متعارف کرائیں تاکہ آزادی، جمہوریت اور انسانی حقوق کے امین و محافظ بنیں۔
پھلا پھولارہے یارب چمن میری امیدوں کا
جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے میں نے پالے ہیں
٭٭٭
Comments
Post a Comment