اقبال فہمی - (قسط ہشتم ہمالہ نظم کی اخری قسط) انسان کی پہلی بستی سادگی کی گم شدہ دنیا اور تاریخ کے دامن میں واپسی - ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی، سولاپور۔


اقبال فہمی - 
(قسط ہشتم ہمالہ نظم کی اخری قسط) 
انسان کی پہلی بستی سادگی کی گم شدہ دنیا اور تاریخ کے دامن میں واپسی - 
ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی، سولاپور۔

نظم ہمالہ کے ان آخری اشعار پر پہنچ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ علامہ محمد اقبال کی نگاہ ہمالہ کی برف پوش چوٹیوں سے یکایک تاریخ کے سب سے دور دراز افق کی طرف اٹھ جاتی ہے۔ اب شاعر کے سامنے صرف ایک عظیم پہاڑ نہیں بلکہ زمانوں کا ایک خاموش گواہ کھڑا ہے۔ وہ ہمالہ جس نے تہذیبوں کو بنتے دیکھا۔ سلطنتوں کو ابھرتے دیکھا۔ انسان کو سادگی سے نکل کر تصنع کی راہوں میں بھٹکتے دیکھا۔ نسلوں کو پیدا ہوتے اور مٹتے دیکھا۔ اسی لیے اقبال اب ہمالہ سے فطرت کا راز نہیں پوچھتے بلکہ انسان کی ابتدائی زندگی کی داستان پوچھتے ہیں۔
یہاں نظم کا دائرہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتا ہے۔ پہلے ہمالہ قدرت کی عظمت تھا۔ پھر بصیرت کا استعارہ بنا۔ پھر حرکت اور استقامت کا معلم نظر آیا۔ پھر فطرت کی خاموش زبان بولتا ہوا دکھائی دیا۔ مگر اب وہ تاریخ کا سب سے قدیم دفتر بن جاتا ہے۔ اقبال اس خاموش دفتر کے اوراق الٹنا چاہتے ہیں۔ وہ اس دور کو دیکھنا چاہتے ہیں جب انسان ابھی تہذیب کے ظاہری غلافوں میں قید نہیں ہوا تھا۔ جب زندگی میں بناوٹ کم تھی۔ جب خواہشیں محدود تھیں۔ جب فطرت انسان کے قریب تھی۔ اور جب انسان اپنے وجود کے سوال سے اس قدر دور نہیں ہوا تھا جس قدر آج کا انسان ہو چکا ہے۔

اقبال فرماتے ہیں

اے ہمالہ داستاں اس وقت کی کوئی سنا
مسکن آبائے انساں جب بنا دامن ترا

یہاں شاعر کا خطاب غیر معمولی طور پر گہرا ہوجاتا ہے۔ ہمالہ کو محض مخاطب نہیں کیا جا رہا بلکہ اسے تاریخ کا عینی شاہد سمجھ کر پکارا جا رہا ہے۔ اقبال گویا کہتے ہیں کہ اے عظیم پہاڑ۔ تو نے انسان کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ تو اس زمین پر اس وقت بھی موجود تھا جب انسانی زندگی اپنے ابتدائی مراحل میں تھی۔ آج انسان کتابوں میں اپنے ماضی کو تلاش کرتا ہے۔ آثار قدیمہ میں اپنی کھوئی ہوئی داستان ڈھونڈتا ہے۔ مٹی کے برتنوں سے تہذیبوں کا اندازہ لگاتا ہے۔ شکستہ دیواروں سے سلطنتوں کی عظمت پڑھتا ہے۔ مگر اقبال ایک عجیب شاعرانہ اور فکری جست کے ساتھ ہمالہ سے کہتے ہیں کہ اگر کوئی اپنی داستان خود سنا سکتا ہے تو تو سنا۔
یہ صرف ایک شاعر کا تخیل نہیں بلکہ تاریخ کے بارے میں اقبال کا ایک خاص احساس ہے۔ انسان کا ماضی صرف گزشتہ واقعات کا مجموعہ نہیں۔ ماضی انسان کی موجودہ شخصیت کے اندر بھی زندہ رہتا ہے۔ ہر تہذیب اپنے ساتھ کچھ یادیں لے کر چلتی ہے۔ ہر قوم کے کردار میں اس کی تاریخ بولتی ہے۔ انسان اپنے آباء کے تجربات سے پوری طرح آزاد نہیں ہوسکتا۔ اسی لیے اقبال ماضی کی طرف دیکھتے ہیں مگر ماضی میں دفن ہونے کے لیے نہیں۔ وہ تاریخ سے زندگی کا وہ سرچشمہ دریافت کرنا چاہتے ہیں جس سے حال کی اصلاح ہوسکے۔

مسکن آبائے انساں جب بنا دامن ترا

یہ مصرع انسان اور فطرت کے قدیم تعلق کو سامنے لاتا ہے۔ آج کا انسان اپنی تہذیب کے درمیان کھڑا ہو کر فطرت سے کٹتا جا رہا ہے۔ بلند عمارتوں نے آسمان کو دیواروں میں بانٹ دیا ہے۔ مشینی زندگی نے انسان کے اوقات کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ انسان کے پاس معلومات بہت ہیں مگر سکون کم ہے۔ آسائشیں بڑھ گئی ہیں مگر اطمینان گھٹ گیا ہے۔ آوازیں بہت ہیں مگر دل کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ اقبال ہمالہ کے ذریعے ہمیں اس دور کی طرف لے جاتے ہیں جب انسان اور فطرت کے درمیان یہ دیواریں موجود نہ تھیں۔
لیکن یہاں ایک نہایت باریک بات سمجھنا ضروری ہے۔ اقبال ابتدائی انسان کی زندگی کو اس لیے عظیم نہیں کہتے کہ وہ علم اور تہذیب سے محروم تھا۔ اقبال جہالت کی طرف واپسی کے داعی نہیں۔ وہ ماضی کے نام پر انسان کو دوبارہ غاروں میں نہیں بھیج رہے۔ ان کا اصل سوال یہ ہے کہ تہذیب نے انسان کو کیا دیا اور اس سے کیا چھین لیا۔ انسان نے علم حاصل کیا مگر کیا حکمت بھی حاصل کی۔ انسان نے طاقت پائی مگر کیا اپنے نفس پر قابو بھی پایا۔ انسان نے دنیا کو مسخر کیا مگر کیا اپنے دل کو بھی مسخر کرسکا۔ انسان نے زندگی کو سہل بنایا مگر کیا زندگی کو بامقصد بھی بنایا۔یہی سوال آگے آنے والے شعر میں پوری شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔

کچھ بتا اس سیدھی سادھی زندگی کا ماجرا
داغ جس پر غازۂ رنگ تکلف کا نہ تھا

یہاں اقبال نے ایک پوری تہذیب کو صرف دو لفظوں میں بیان کردیا ہے۔

سیدھی سادھی زندگی

یہ سادگی محض کم لباس پہننے کا نام نہیں۔ کم سامان رکھنے کا نام نہیں۔ یا جدید سہولتوں سے محروم ہونے کا نام نہیں۔ اقبال کی مراد زندگی کی وہ اصل اور فطری حالت ہے جس میں انسان کا ظاہر اور باطن ایک دوسرے سے بہت دور نہ ہوں۔ جس میں انسان دکھائی کچھ اور نہ دے اور ہو کچھ اور۔ جس میں رشتے مفاد کے ترازو میں نہ تولے جائیں۔ جس میں عزت کا معیار نمود و نمائش نہ ہو۔ جس میں انسان اپنی اصل ضرورتوں سے اتنا دور نہ نکل جائے کہ خواہشات اس کے پورے وجود پر حکومت کرنے لگیں۔

پھر اقبال کہتے ہیں

داغ جس پر غازۂ رنگ تکلف کا نہ تھا

یہ شعر صرف قدیم زندگی کی تعریف نہیں بلکہ موجودہ انسانی زندگی پر ایک گہرا اعتراض بھی ہے۔

تکلف کیا ہے۔

تکلف اس فاصلے کا نام ہے جو انسان اپنے اصل اور اپنے ظاہر کے درمیان پیدا کر لیتا ہے۔ دل کچھ اور کہتا ہے اور زبان کچھ اور۔ انسان غم میں ہوتا ہے مگر خوشی کا لباس پہن لیتا ہے۔ وہ کمزور ہوتا ہے مگر طاقت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ وہ علم سے خالی ہوتا ہے مگر عالم بننے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اخلاق سے محروم ہوتا ہے مگر بزرگی کا لباس پہن لیتا ہے۔ وہ خدا سے دور ہوتا ہے مگر مذہبی شناخت کو اپنی برتری کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔

یہی غازۂ تکلف ہے۔

غازہ چہرے کو رنگ دیتا ہے۔ مگر وہ چہرہ نہیں بناتا۔ وہ حسن کا اصل سرچشمہ نہیں۔ وہ صرف ایک عارضی پردہ ہے۔ اقبال اسی لیے اسے تکلف کے ساتھ لاتے ہیں۔ گویا تہذیب نے انسان کے اصل چہرے پر ایسے رنگ چڑھا دیے ہیں کہ انسان خود بھی اپنا حقیقی چہرہ بھول گیا ہے۔
یہاں اقبال کی فکر فلسفۂ خودی سے براہ راست ملتی ہے۔ خودی کا مطلب کوئی مصنوعی شخصیت پیدا کرنا نہیں۔ خودی اپنے اصل وجود کو پہچاننے کا نام ہے۔ انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے جو استعداد رکھی ہے اسے بیدار کرنا خودی ہے۔ اپنی شخصیت کو خواہشات کے بازار میں بیچ دینا خودی نہیں۔ دوسروں کی نقل میں اپنی حقیقت کھو دینا خودی نہیں۔ منصب اور دولت کے ذریعے اپنے اندر کی کمزوری کو چھپانا خودی نہیں۔اقبال کی خودی انسان کو اس کے اصل کی طرف لوٹاتی ہے۔اسی لیے اس شعر میں سادگی کا تصور دراصل انسانی صداقت کا تصور ہے۔ وہ زندگی جس میں انسان کا دل صاف ہو۔ مقصد واضح ہو۔ تعلق سچا ہو۔ عمل میں دکھاوا نہ ہو۔ عبادت میں ریا نہ ہو۔ علم میں غرور نہ ہو۔ اور طاقت میں ظلم نہ ہو۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اقبال کی فکر کو سطحی انداز میں پڑھنے والے ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اقبال صرف قوت کی بات کرتے ہیں۔ حالانکہ اقبال کی قوت اخلاق سے خالی نہیں۔ وہ خودی کی بات کرتے ہیں مگر خود پرستی کی نہیں۔ وہ بلند ہونے کی دعوت دیتے ہیں مگر تکبر کی نہیں۔ وہ فرد کو طاقتور بناتے ہیں مگر اسے خدا سے آزاد نہیں کرتے۔
اس کے بعد نظم کے آخری دو اشعار آتے ہیں اور یہاں اقبال کا لہجہ ایک عجیب بے قراری اختیار کر لیتا ہے۔

ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

یہاں شاعر اب ہمالہ سے بھی آگے بڑھ جاتا ہے۔ اب وہ اپنے تصور کو آواز دیتا ہے۔ وہ اپنی تخلیقی قوت سے کہتا ہے کہ مجھے اس گزرے ہوئے زمانے میں لے چل۔ وہ صبحیں دکھا جو بناوٹ سے آلودہ نہ تھیں۔ وہ شامیں دکھا جن میں انسان فطرت سے بیگانہ نہ تھا۔ وہ زندگی دکھا جس میں انسان کے پاس کم چیزیں تھیں مگر شاید وہ اپنی حقیقت سے زیادہ قریب تھا۔لیکن یہاں بھی اقبال کا مقصد صرف ماضی پرستی نہیں۔یہ بات نہایت فیصلہ کن طور پر سمجھنی چاہیے۔اقبال کبھی انسان کو زمانے کا پہیہ الٹا گھمانے کی دعوت نہیں دیتے۔ وہ جدید علم کے دشمن نہیں۔ وہ تہذیب کے دشمن نہیں۔ وہ ترقی کے دشمن نہیں۔ وہ انسان کو ماضی کی راکھ میں زندگی تلاش کرنے کا درس نہیں دیتے۔

پھر وہ کیوں کہتے ہیں

دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

اس کا جواب یہ ہے کہ اقبال زمانے کو پیچھے نہیں لے جانا چاہتے بلکہ انسان کو اس کے گم شدہ اصول یاد دلانا چاہتے ہیں۔
انسان آگے بڑھتا رہے۔اس کا علم بڑھتا رہے۔اس کی صنعت ترقی کرتی رہے۔اس کی عقل نئی حقیقتیں دریافت کرتی رہے۔
اس کی دنیا وسیع ہوتی رہے۔
مگر اس ترقی کے دوران وہ اپنے اخلاقی سرچشمے کو نہ بھولے۔ وہ اپنی روح نہ کھو دے۔ وہ اپنی انسانیت کو مشین کے حوالے نہ کر دے۔ وہ اپنی آزادی کو خواہشات کی غلامی میں تبدیل نہ کر دے۔یہی اقبال کا اصل درد ہے۔وہ ماضی سے جسم نہیں مانگتے۔وہ ماضی سے روح مانگتے ہیں۔
وہ پرانی عمارتیں واپس نہیں چاہتے۔وہ ان عمارتوں کو بنانے والا ایمان چاہتے ہیں۔وہ پرانے لباس واپس نہیں چاہتے۔وہ کردار کی وہ پاکیزگی چاہتے ہیں جو لباس سے بڑی تھی۔وہ تاریخ کو دوبارہ زندہ نہیں کرنا چاہتے۔وہ تاریخ کے اندر چھپے ہوئے اصولوں کو زندہ کرنا چاہتے ہیں۔یہی فرق اقبال کو محض رومانوی شاعر سے جدا کرتا ہے۔عام شاعر ماضی کو یاد کرکے روتا ہے۔اقبال ماضی کو یاد کرکے حال سے سوال کرتے ہیں۔عام شاعر گزرے ہوئے زمانے کی تصویریں بناتا ہے۔اقبال ان تصویروں سے مستقبل کا نقشہ بناتے ہیں۔عام شاعر کہتا ہے کہ جو تھا وہ اچھا تھا۔اقبال پوچھتے ہیں کہ جو اچھا تھا وہ کہاں کھو گیا۔پھر وہ انسان کو اس گم شدہ جوہر کی تلاش پر روانہ کرتے ہیں۔یہاں نظم ہمالہ اپنے اختتام پر پہنچتی ہے مگر اقبال کی فکر کا سفر شروع ہوتا ہے۔
یہی اس نظم کا سب سے بڑا راز ہے۔شروع میں ہمالہ ایک پہاڑ تھا۔پھر وہ استقامت بنا۔پھر بصیرت بنا۔پھر قدرت کی تجلی کا نشان بنا۔پھر تاریخ کا گواہ بنا۔پھر انسان کے ماضی کا محافظ بنا۔اور آخر میں وہ انسان کے سامنے ایک ایسا سوال بن کر کھڑا ہوگیا جس سے فرار ممکن نہیں۔
اے انسان تو نے ترقی تو بہت کی مگر کیا تو اپنے آپ کو بھی پا سکا۔یہ سوال آج پہلے سے زیادہ شدید ہے کہ آج انسان کے پاس زمین کے نقشے ہیں مگر اپنے دل کا نقشہ نہیں۔اس نے ستاروں کی دوریاں ناپ لی ہیں مگر اپنے رب سے اپنی دوری کا احساس نہیں۔اس نے سمندروں کی گہرائیوں کو دریافت کرلیا ہے مگر اپنے باطن کی گہرائی میں اترنے سے محروم ہے۔اس نے ہوا کو اپنی خدمت میں لگا لیا ہے مگر اپنی خواہشات کو قابو میں نہیں لا سکا۔اس نے دنیا کو چھوٹا کر دیا ہے مگر انسانوں کے دلوں کے فاصلے بڑھ گئے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں اقبال کی آخری صدا آج بھی سنائی دیتی ہے۔

دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو 

گویا اے زمانے ایک لمحے کے لیے رک جا۔انسان کو اپنی ابتدا یاد دلادے۔اسے بتا کہ وہ کہاں سے چلا تھا۔اسے یاد دلادے کہ اس کے پاس ایک دل بھی تھا۔ایک ضمیر بھی تھا۔ایک مقصد بھی تھا۔ایک رب بھی تھا۔
اور ایک دن اسے اسی رب کے حضور واپس بھی جانا ہے۔
یہی نظم ہمالہ کا آخری اور سب سے گہرا فکری ارتعاش ہے۔اقبال انسان کو پہاڑ کے سامنے کھڑا کرکے اس کی اپنی بلندی کا سوال اٹھاتے ہیں۔وہ ندی کو بہتا ہوا دکھا کر انسان سے پوچھتے ہیں کہ تیرا سفر کس سمت ہے۔
وہ شام کی خاموشی دکھا کر پوچھتے ہیں کہ کیا تو نے کبھی اپنے دل کی آواز سنی۔
وہ فطرت کا حسن دکھا کر پوچھتے ہیں کہ کیا تو حسن کے خالق تک پہنچا۔
اور آخر میں تاریخ کے دروازے پر لا کھڑا کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ کیا ترقی کے اس طویل سفر میں تو نے اپنی اصل حقیقت کھو تو نہیں دی۔یہی سوال اقبال کی شاعری کی روح ہے۔اور یہی سوال ان کے فلسفۂ خودی کی بنیاد ہے۔انسان کو ماضی میں قید نہیں ہونا۔انسان کو حال میں بکھرنا نہیں۔
انسان کو مستقبل سے ڈرنا نہیں۔
بلکہ اسے اپنے اصل سے قوت لے کر مستقبل کی تعمیر کرنی ہے۔یہی اقبال کا انسان ہے۔اس کے قدم زمانے میں ہوتے ہیں۔مگر اس کی روح زمانے کی غلام نہیں ہوتی۔وہ تاریخ سے سبق لیتا ہے۔مگر تاریخ کا قیدی نہیں بنتا۔وہ فطرت سے محبت کرتا ہے۔مگر فطرت کو معبود نہیں بناتا۔وہ دنیا میں رہتا ہے۔مگر دنیا کو اپنی آخری منزل نہیں سمجھتا۔وہ آگے بڑھتا ہے۔مگر اپنی بنیاد کو ساتھ لے کر بڑھتا ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہمالہ کی خاموش چوٹیوں سے اقبال کی پوری فکر ایک آواز بن کر ابھرتی ہے۔
وہ آواز کہتی ہے۔
اے انسان اپنی اصل کو پہچان۔اپنے اندر کی سچائی کو زندہ کر۔تکلف کے رنگ دھو ڈال۔اپنے دل کی کھوئی ہوئی روشنی تلاش کر۔اپنی تاریخ سے قوت لے۔اپنے حال کو سنوار۔
اور اپنے مستقبل کو ایسا بنا کہ ترقی تیرے ہاتھ میں ہو مگر تیرا دل خدا کے ہاتھ سے جدا نہ ہو۔
یہی ہمالہ کا آخری سبق ہے۔
اور شاید یہی اقبال کا سب سے بڑا پیغام بھی۔
بلندی پہاڑ کی بلندی کا نام نہیں۔
بلندی اس انسان کی ہے جو زمانے کے ہجوم میں رہ کر بھی اپنی اصل نہ بھولے۔
جس کا جسم زمین پر ہو مگر فکر آسمان سے بات کرے۔
جس کی نگاہ مستقبل پر ہو مگر جس کے قدم اپنے اصل سرچشمے سے کٹے ہوئے نہ ہوں۔
اور جس کی خودی اتنی بلند ہو کہ وہ مخلوق کے ہجوم میں اپنی حقیقت کھو دینے کے بجائے اپنے رب کی بندگی میں اپنی اصل عظمت پہچان لے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔