آزادی مبارک: آزادیِ ہند کا المیہ، تلخ حقائق اور جمہوری اقدار کا زوال۔تحریر: محمد فیضان طالب (بی-پی-ٹی سالِ اول، بنگلور)مقام: گلبرگہ، کرناٹک


آزادی مبارک: آزادیِ ہند کا المیہ، تلخ حقائق اور جمہوری اقدار کا زوال۔
تحریر: محمد فیضان طالب  
(بی-پی-ٹی سالِ اول، بنگلور)
مقام: گلبرگہ، کرناٹک  
رابطہ:8722853661


آزادی محض کسی غیر ملکی طاقت کو ملک سے نکال باہر کرنے، ہر سال 15 اگست کو لال قلعے کی فصیل پر قومی پرچم لہرانے یا سرخ چٹانوں کے سامنے قومی ترانہ گانے کا نام نہیں ہے۔ آزادی ایک ایسا وسیع تصور ہے جس کی بنیاد مساوات، عدل، فکر و بیان کی خود مختاری، اور خوف سے نجات پر قائم ہوتی ہے۔ جب ایک عام شہری بغیر کسی ڈر کے اپنے خیالات کا اظہار کر سکے، جب اسے اپنے مذہب، زبان اور ثقافت پر فخر کرتے ہوئے باوقار زندگی گزارنے کا موقع ملے، اور جب قانون کے ترازو میں امیر و غریب، حکمران و محکوم کے لیے ایک ہی پیمانہ ہو—تب جا کر کوئی قوم واقعی "آزادی" کا دعویٰ کر سکتی ہے۔

آج جب ہم 15 اگست 2026ء کو ملک کی آزادی کی 80 ویں سالگرہ کے قریب کھڑے ہیں، تو ایک اداس، فکر انگیز اور گہرا سوال ہر بیدار ضمیر انسان کے ذہن پر دستک دیتا ہے: کیا 1947ء میں حاصل ہونے والی آزادی آج ملک کے آخری فرد تک پہنچ سکی ہے؟ یا پھر ہم نے انگریزی حکومت کی ظاہری غلامی سے نکل کر داخلی اور فکری قید کا نیا طوق اپنے گلے میں ڈال لیا ہے؟

آزادی مبارک ہو اس دیش کو جس کی عوام آج بھی مذہبی اور نظریاتی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ ہندوستان کی اصل طاقت اس کا تنوع اور "تنوع میں وحدت" (Unity in Diversity) کا فلسفہ تھا۔ یہ وہ دیش تھا جہاں ہولی کا رنگ اور عید کی سویاں ساتھ مل کر منائی جاتی تھیں، جہاں گنگا جمنی تہذیب کی مثالیں دنیا بھر میں دی جاتی تھیں۔

لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ اقتدار کی ہوس اور سیاسی مفادات کے لیے ہندو اور مسلمان کو ایک دوسرے کا حریف بنا کر کھڑا کر دیا گیا ہے۔ ٹیلی ویژن اسٹوڈیوز سے لے کر سوشل میڈیا کی گلیوں تک، صبح و شام نفرت کا زہر بیجا جا رہا ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ صدیوں سے رہنے والے ہمسائے آج ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ جب ملک کے دو بڑے طبقے آپس میں لڑائے جائیں گے، تو ترقی کا پہیہ رک جائے گا اور ملک کا شیرازہ بکھر جائے گا۔

کسی بھی ملک کا مستقبل اس کے تعلیمی اداروں اور اس کے نوجوانوں کی آنکھوں میں بستا ہے۔ لیکن آج کے دور میں جب یہ پڑھا لکھا نوجوان اپنے مستقبل کی بات کرتا ہے، روزگار مانگتا ہے، تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہوئی فیسوں کے خلاف احتجاج کرتا ہے، یا پیپر لیک کے واقعات پر سوال اٹھاتا ہے، تو اس کا استقبال پھولوں سے نہیں بلکہ پولیس کی لاٹھیوں، واٹر کینن اور جیل کی سلاخوں سے کیا جاتا ہے۔

یونیورسٹیوں کو، جو فکر و تدبر اور آزاد خیالی کا مرکز ہونی چاہیے تھیں، شکوک و شبہات کا گڑھ بنا دیا گیا ہے۔ جن ہاتھوں میں قلم اور کتابیں ہونی چاہیے تھیں، ان پر تشدد کے نشانات ہیں۔ جب ایک ملک اپنے طلبہ کی آواز کو دبانے لگے اور علم و شعور کے مراکز کو نشانہ بنائے، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ملک اپنے ہی مستقبل کا گلا گھونٹ رہا ہے۔

ایک صحت مند اور زندہ جمہوریت کی سب سے بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ اس میں حکومت کے فیصلوں پر تنقید اور اختلافِ رائے کو سراہا جاتا ہے۔ آئینِ ہند نے ہر شہری کو آزادیِ اظہارِ رائے کا بنیادی حق دیا ہے۔ لیکن آج کے وقت میں صورتحال بالکل برعکس ہو چکی ہے۔

اگر کوئی صحافی سچائی کو بے نقاب کرے، اگر کوئی دانشور حکومت کی غلط پالیسیوں پر انگلی اٹھائے، یا کوئی عام شہری اپنے آئینی حقوق کا مطالبہ کرے، تو اسے فوراً "اینٹی نیشنل"، "دیش دھروہی"، یا کسی مخصوص گروہ کا آلۂ کار قرار دے دیا جاتا ہے۔ سخت ترین قوانین کا سہارا لے کر سچ بولنے والوں کو مہینوں اور سالوں بغیر مقدمے کے جیلوں میں بند رکھا جاتا ہے۔ جب سوال پوچھنا جرم بن جائے اور اقتدار کے سامنے سر جھکانا ہی "وطن پرستی" کا واحد پیمانہ قرار پائے، تو جمہوریت کی روح دم توڑنے لگتی ہے۔

جمہوری نظام میں حکمران عوام کے خادم ہوتے ہیں، جن کی ذمہ داری عوام کے دکھ، درد، بے روزگاری، مہنگائی اور دیگر مسائل کو سننا اور ان کا حل نکالنا ہوتا ہے۔ لیکن آج کے نظام کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ حکومت اور عوام کے درمیان کا رابطہ مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔

عوام اپنی پریشانیوں، معاشی بحران اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی پر دہائی دیتی رہتی ہے، لیکن حکومت ان کے مطالبات کو یکسر نظر انداز کر کے صرف اپنے "من کی بات" سنانے میں مصروف رہتی ہے۔ یہ ایک طرفہ گفتگو اس بات کا ثبوت ہے کہ نظام کو عوام کے سچے جذبات اور ان کی تکالیف سے کوئی غرض نہیں رہی۔ جہاں عوام کی آواز نہ سنی جائے، وہاں جمہوریت صرف ایک نام نہاد خول بن کر رہ جاتی ہے۔

جس ملک میں بیٹیوں کے احترام اور ناری شکتی (عورت کی طاقت) کی باتیں کی جاتی ہیں، وہاں کا اخلاقی زوال اس وقت کھل کر سامنے آتا ہے جب سنگین جرائم، بالخصوص ریپ جیسے درندانہ عمل میں ملوث افراد کے ساتھ نرمی برتی جاتی ہے۔

دنیا نے وہ دردناک مناظر بھی دیکھے جب سنگین جرائم کے مرتکبین جب جیل سے باہر آتے ہیں، تو ان کا استقبال پھولوں کے ہار پہنا کر اور مٹھائیاں بانٹ کر کیا جاتا ہے۔ یہ عمل صرف قانون کی توہین نہیں ہے، بلکہ یہ اس ملک کی تمام خواتین کی تذلیل اور معاشرتی ضمیر کی مکمل موت کا اعلان ہے۔ جب مظلوم کو انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانی پڑیں اور ظالم کی پشت پناہی کی جائے، تو آزادی کا جشن صرف ایک تلخ مذاق معلوم ہوتا ہے۔

ہندوستان کا حسن اس کی زبانوں، لباس اور رنگ برنگی ثقافتوں میں پوشیدہ تھا۔ لیکن آج زبان، پہناوے، اور کھانے پینے کی بنیاد پر لوگوں کی وطن پرستی کا امتحان لیا جاتا ہے۔

سڑکوں پر محض نام، لباس یا بول چال کی بنیاد پر بے قصور افراد کو روک کر ان کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے اور بعض اوقات تشدد کر کے ان کی جان لے لی جاتی ہے۔ کسی کو اس کی زبان یا کھانے کی پسند کی بنیاد پر "غیر" بنا دینا ملک کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے مترادف ہے۔

آزادی کا ایک بنیادی تقاضا یہ بھی ہے کہ انسان کو کرۂ ارض پر جینے کی بنیادی سہولیات میسر ہوں۔ لیکن آج ہمارے ملک کے بیشتر بڑے شہر دنیا کے سب سے آلودہ شہروں میں شمار ہوتے ہیں۔

عوام کو سانس لینے کے لیے صاف ہوا، پینے کے لیے پاک پانی، اور علاج کے لیے بہتر ہسپتال میسر نہیں ہیں۔ جب ایک عام شہری زہریلی ہوا میں سانس لینے پر مجبور ہو اور بنیادی صحت کے لیے اپنی جمع پونجی گنوا دے، تو وہ کس بات کی آزادی کا جشن منائے؟ جسمانی اور ماحولیاتی طور پر بیمار سماج کبھی واقعی آزاد نہیں ہو سکتا۔

سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ تاریخ کو مسخ کرنے اور مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں کو چھوٹا دکھانے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جن علمائے کرام، عظیم رہنماؤں، اور لاکھوں بے نام شہداء نے انگریزوں کے مظالم سہے۔ جلاوطنیاں کاٹیں، اور پھانسی کے پھندوں کو چوما، وہ نام، جو زبانوں پر تو ہیں... مگر جن کا شکر دلوں میں باقی نہیں رہا ان کی 1947ء کی حاصل کردہ تاریخی آزادی کو توہین آمیز انداز میں "بھیک" کا نام دیا جاتا ہے۔

یہ دعویٰ کرنا کہ "اصل آزادی 2014ء میں ملی ہے"، ان تمام ہندو، مسلم، سکھ، اور عیسائی مجاہدینِ آزادی کے خون کی کھلی توہین ہے جنہوں نے اپنا آج ہمارے کل کے لیے قربان کر دیا۔ تاریخ کو بدل کر جھوٹا بیانیہ قائم کرنا ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

15 اگست 2026ء کے اس موقع پر ہمیں سنجیدگی کے ساتھ سوچنا ہوگا کہ ہم کس سمت میں جا رہے ہیں۔ محض جھنڈا لہرانے اور نعرے لگانے سے کوئی ملک آزاد نہیں ہو جاتا۔

حقیقی آزادی تب آئے گی جب:

* ہر شہری کو بغیر کسی خوف کے سوال پوچھنے اور جینے کا حق ملے گا۔
* عدالتیں اور انتظامیہ بغیر کسی مذہبی یا سیاسی بھید بھاؤ کے انصاف قائم کریں گی۔
* طلبہ کو لاٹھیوں کے بجائے روزگار اور اعلیٰ تعلیم ملے گی۔
* خواتین کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا اور مجرموں کو سزا ملے گی۔
* نفرت کی سیاست ختم ہو گی اور محبت و مساوات کا دور دورہ ہو گا۔

جب تک ملک کا غریب، مظلوم، اور اقلیتی شہری خود کو محفوظ اور برابر کا حقدار محسوس نہیں کرتا، تب تک آزادی کا یہ جشن ادھورا ہے۔ آئیں، اس دن ہم محض خاموش تماشائی بننے کے بجائے اپنے آئینی حقوق، سچائی اور انسانیت کی حفاظت کا عزم کریں تاکہ ہمارا ملک واقعی ایک آزاد، منصفانہ اور پائیدار معاشرہ بن سکے۔

جئے ہند۔
انقلاب زندہ باد۔
یوم آزادی مبارک۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔