غزل - ازقلم : اقبال آصف بیجاپور۔
غزل -
ازقلم : اقبال آصف بیجاپور۔
سآنحوں پر سانحے ہوتے ہیں پیہم کب تلک
دیکھنا ہے آسماں رہتا ہے برہم کب تلک
بیتی یادوں کے پرانے اتنے البم کب تلک
اپنے سینے سے لگا رکھو گے جانم کب تلک
دی تسلی یوں ابھرتے چاند نے آفاق سے
" آسماں ڈوبے ہوئے تاروں کا ماتم کب تلک "
دو گھڑی اک دوسرے کے نام کر دیں ہر خوشی
چار دن کے اس جہاں میں آپ اور ہم کب تلک
چاپلوسی باہمی اچھی ہے لیکن اس طرح
من ترا یا تو مرا حاجی بگویم کب تلک
پھینک دو ان کو اٹھاکر طاق نسیاں میں کہیں
اس کے وعدوں اس کی قسموں کا یہ ماتم کب تلک
اک وہی گردش تلاش رزق کی ہر پاوں میں
اک وہی جہد مسلسل کا یہ عالم کب تلک
روز اک تازہ مصیبت روز اک آفت نئی
موت کے سودا گرو یہ خوف ہردم کب تلک
یوں ہی زخمی کب تلک ہوتا رہے گا یہ جہاں
یوں ہی برسیں گے زمیں پر جوہری بم کب تلک
کیا ابد تک سلسلہ چلتا رہے گا یوں ہی یہ
آدمی کا آدمی پر جبر پیہم کب تلک
وقت بدلا تو بدل جائے گا تیرا راج بھی
یہ تری دیدہ دلیری یہ تحکم کب تلک
بول کر آصف بہت پچھتا رہے ہیں آج ثک
خیر سے سچ کو چھپا رکھتے بھلا ہم کب تلک
اقبال آصف بیجاپور
Comments
Post a Comment