اردو ذریعہ تعلیم کی فتح: شری وردھن کی سارہ عظیم حسوارے کا سی۔او۔ای۔پی۔ میں ایم ٹیک مکمل، کوکنی معاشرے کا سر فخر سے بلند۔


شری وردھن (رپورٹ) : کوکنی معاشرے اور شری وردھن کے لیے یہ انتہائی فخر اور اعزاز کا مقام ہے کہ علاقے کی ہونہار بیٹی محترمہ سارہ عظیم حسوارے نے بھارت کے نامور انجینئرنگ اداروں میں شمار ہونے والے معروف 'کالج آف انجینئرنگ پونے' (COEP) سے ماسٹر آف ٹیکنالوجی (M.Tech) کی ڈگری کامیابی کے ساتھ مکمل کر لی ہے۔ سارہ نے ایم ٹیک کے انتہائی مقابلہ جاتی پروگرام 'Embedded System and Computing' میں اپنی جگہ بنا کر یہ شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔
سارہ کی اس کامیابی نے حسوارے خاندان کے ساتھ ساتھ پورے شری وردھن کا نام روشن کر دیا ہے اور ہر طرف سے ان کے لیے مبارکباد اور تحسین کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔

تعلیمی سفر اور مسلسل جدوجہد :
سارہ عظیم حسوارے کی یہ شاندار کامیابی ان کی سخت محنت، نظم و ضبط اور مسلسل تعلیمی لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے:

ایس ایس سی (SSC - 2018): انجمنِ اسلام جنجیرہ اسکول، شری وردھن سے %90 نمبروں کے ساتھ امتحان پاس کیا۔
ایچ ایس سی (HSC - 2020): عابیدہ انعام دار جونیئر کالج فار گرلز سے %78.67 نمبر حاصل کر کے انجینئرنگ کی بنیاد رکھی۔
بی ٹیک (B.Tech): ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر ٹیکنولوجیکل یونیورسٹی، لونیرے (DBATU) سے Electronics and Telecommunication Engineering میں بی ٹیک کیا۔

مالی مشکلات پر عزم و حوصلے کی فتح : 
ناسازگار مالی حالات کے باوجود سارہ کے عزم، ولولے اور کچھ بن کر دکھانے کے شوق نے انہیں اس منزل تک پہنچایا۔ ان کا یہ تعلیمی سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ جس طالب علم میں علم حاصل کرنے کی ضد اور محنت کا جذبہ موجود ہو، اسے مجبوریاں تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتیں۔ اس سفر میں ان کے والدین اور اہل خانہ کا تعاون اور حوصلہ افزائی بھی قابلِ قدر رہی، جنہوں نے اپنی بیٹی کو بڑے خواب دیکھنے اور اعلیٰ مقام حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔
اردو ذریعہ تعلیم کے ناقدین کے لیے جواب :
سارہ کی یہ کامیابی ان لوگوں کے لیے ایک کھلی دلیل اور جواب ہے جو اردو ذریعہ تعلیم پر سوال اٹھاتے ہیں۔ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں حاصل کرنے والے طلبہ دوسری زبانوں کو بھی بہتر طور پر سمجھنے اور اپنی صلاحیتوں کو منوانے کے قابل ہوتے ہیں۔ اردو زبان کسی طالب علم کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہے، رکاوٹ نہیں بنتی؛ بلکہ یہ تہذیب و تمدن اور خصوصی شناخت کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
سارہ کی یہ کامیابی پورے معاشرے کے لیے ایک مشعلِ راہ اور اعلیٰ تعلیم کا شوق رکھنے والی نوجوان لڑکیوں کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ 

اظہر ظہیر الدین کردمے، شریوردھن ضلع رایگڈھ ۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔