کتب خانے ہی ہماری علمی اور ثقافتی میراث کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھتے ہیں: ڈاکٹر امان اللہ ایم بی۔ مدراس یونی ورسٹی مرینا کتب خانہ میں ’’علم کی تلاش میں لائبریری کی جانب‘‘ کوئز مقابلے اور نیشنل لائبریرین ڈے کا انعقاد۔


تمل ناڈو سے محمد رضوان اللہ کی رپورٹ : 
 پدم شری ڈاکٹر ایس آر رنگناتھن کی134ویں یوم پیدائش کی مناسبت سے مدراس یونی ورسٹی مرینا کبت خانہ کے زیر اہتمام لائبریرین ڈے تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا۔ قومی لائبریرین ڈے ہر سال 12 اگست کو یاد میں منایا جاتا ہے، ڈاکٹر ایس آر رنگناتھن کو 'فادر آف لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس' سے تعبیر کیاجاتا ہے۔ اجلاس میںشعبہ سنسکرت کے صدر اور تمل ناڈو ٹیچرس ایجوکیشن یونی ورسٹی کے سنڈکیٹ ممبرڈاکٹر سی مروگن، عربی کے پروفیسر ڈاکٹر ذاکر حسین ،شعبہ تمل کی صدر ڈاکٹر نرملر سیلوی اور جناب حبیب الرحمن، بلاک ایجوکیشن آفیسر نے بحیثیت مہمانشریک ہو کر طلبا سے خطاب کیا ۔ مہمانوں نے طلبائ سے اپیل کی کہ وہ اپنی تعلیمی ترقی کے لئے کتب خانوں کا بھرپور فائدہ اٹھائیں۔شعبہ اردو کے پروفیسر اور کتب خانہ کے ذمہ دار ڈاکٹر امان اللہ ایم بی اپنے خطاب میں کہا کہ ''تب خانے عوام کو جوڑنے، علم کے تحفظ اور مستقبل کو بااختیار بنانے کا کام انجام دیتے ہیں۔ کتب خانے ہی محققین ، طلبائ اور علم سے جڑے افراد کو مستند اور قابلِ اعتماد معلومات سے روشناس کراتے ہیں۔ یہی ہماری علمی اور ثقافتی میراث کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سیکھنے والوں، محققین اور شہریوں کو ایسے علم، مہارتوں اور مواقع سے آراستہ کرتے ہیں جو مسلسل بدلتی ہوئی دنیا کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ضروری ہیں۔طلبائ کو چاہئے کہ وہ کتب خانوں سے اپنے تعلقات بنائے رکھیں۔ کتاب کے مطالعے کو اپنا ذوق و وطیرہ بنائیں۔‘‘ڈاکٹر نرملر چیلوی،صدرشعبہ تمل نے طلبائ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کتب خانہ سے جڑ کر طلبائ اپنی تعلیمی بہتری کو نمایاں بنا سکتے ہیں ، ڈاکٹر امان اللہ صاحب نے کتب خانے کی تجدید اور طلبائ میں دلچسپی کے لئے پروگرام کے انعقاد سے ہلچل مچادی ہے جس کے لئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ڈاکٹر مروگن نے اپنے خطاب میں کہا ’ادب کے طالب علم کے لیے لائبریری محض مطالعے کے لیے ایک پرسکون کمرے سے بڑھ کر ہے۔ یہ ایک ایسی ناگزیر 'ورک شاپ' کی حیثیت رکھتی ہے جو نایاب تحریروں، متنوع ادبی تنقید، تاریخی ماخذاتِ اولیٰ اور تنقیدی ایڈیشنز تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ یہ موادجو اکثر آن لائن یا عام کتب فروشوں کے ہاں دستیاب نہیں ہوتا۔ادبی تجزیے کی گہرائی اور بنیاد تشکیل دیتا ہے۔‘ڈاکٹر ایکامبر، سابق صدر شعبہ تمل نے اس مستحسن پروگرام کے انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد پیش کیا۔
  اس موقع پر پدم شری ایس آر رنگناتھن کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ ’’علم کی تلاش میں لائبریری کی جانب‘‘ عنوان کے تحت منعقدہ کوئز مقابلوں میں یونی ورسٹی کے طلبائ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اس پروگرام کی نظامت ڈاکٹر راجہ شیکر اورالنگو نے انجام دیں۔ اس کوئز مقابلوں میں ’مُلّائی‘، ’کُرُنجی‘،’نیاژل‘،’واگئی‘،’مرودم‘،’پنج کاویم‘،’تلر‘،’نرووی‘ اور ’ائین تِنائی ‘ پر مشتمل آٹھ ٹیم کے لئے تین رائونڈز منعقد ہوئے ان مقابلوں میں پہلا انعام ’مرودم‘ کی ٹیم کو ملا۔ ’مرودم‘ ٹیم میںشعبہ عربی فارسی و اردو کی طالبات ’طحنان،عطیہ فاطمہ، آفریں فاطمہ، امیرۃ فوزی اورچیرن(شعبہ تمل)نے پرجوش مقابلہ میں اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا اور پہلا انعام جیتا جبکہ ’عرفان، انور الدین(شعبہ عربی فارسی و اردو) سنجے، رام کارتک(شعبہ تمل)، زمر النسائ(شعبہ عربی فارسی و اردو)کو دوسرا انعام حاصل ہوا۔انھیں تمغے اور اسناد سے نوازا گیا۔اس موقعہ پرڈاکٹر ذاکرہ ام شہلا ، سابق صدر شعبہ اردو،جسٹس بشیر احمد سعید کالج، ڈاکٹر نرملر چیلوی،صدرشعبہ تمل، ڈاکٹر ایکامبرم، ڈاکٹر سرسوتی شعبہ ہندی، ڈاکٹر تمیم الرحمن، منتظمین مرینا کیمپس لائبریری، ہیما راج، محترمہ میناکشی کے علاوہ کثیر تعداد میں اساتذہ اور طلبا موجود رہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔