اتباعِ سنت محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا ہے: مولانا مفتی سید سراج الدین نظامی کا خطاب -


بیدر19/اگست (نامہ نگارمحمد عبدالصمد) مولانا مفتی سید سراج الدین نظامی، بانی و ناظم جامعہ روضۃ البنات و روضہ مشن اسکول، بیدر نے نبی خانہ مبارک، بیدر میں جناب ڈاکٹر الحاج سید حسام الدین قادری عزیر، صدر قاضی دارالقضاء بیدر کی نگرانی میں منعقدہ 12 روزہ محفلِ میلاد النبی ﷺ کی چوتھی مجلسِ میلاد بعنوان ’’اتباعِ سنت محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے 
 کہا کہ مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہے، جہاں مسلمان اپنے رب کی بندگی اور عبادت کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ دنیا بھر کی مساجد کو اللہ تعالیٰ کے گھر ہونے کا شرف حاصل ہے، اسی طرح وہ مساجد، مدارس اور دینی ادارے بھی قابلِ احترام ہیں جہاں قرآن کریم کی تعلیم دی جاتی، ذکرِ رسول ﷺ ہوتا، سیرتِ طیبہ بیان کی جاتی اور سنتِ نبوی ﷺ سکھائی جاتی ہے۔ ایسے ادارے نسلِ نو کی دینی و اخلاقی تربیت کے مضبوط مراکز ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اولاد جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی ہے، لیکن اولاد صرف خوشی کا ذریعہ نہیں بلکہ والدین کے لیے ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو دین کی تعلیم دیں، قرآن کریم پڑھائیں، نماز کا عادی بنائیں، اسلامی اخلاق سکھائیں اور ان کے دلوں میں محبتِ رسول ﷺ پیدا کریں۔ جو والدین اپنی اولاد کو دین سے جوڑ دیتے ہیں وہ دراصل آنے والی نسلوں کے ایمان کی حفاظت کرتے ہیں۔
مولانا نے کہا کہ آج کا دور بچوں کی تربیت کے اعتبار سے انتہائی حساس ہے۔ بچہ صبح بیدار ہونے سے رات سونے تک مختلف چیزیں دیکھتا، سنتا اور سیکھتا ہے۔ موبائل، سوشل میڈیا، مختلف ذرائع ابلاغ اور معاشرتی ماحول اس کے ذہن پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے والدین کو یہ دیکھنا ہوگا کہ ان کے بچے کیا دیکھ رہے ہیں، کیا سن رہے ہیں اور کس چیز کو اپنے لیے نمونہ بنا رہے ہیں۔ اگر ہم نے بچوں کو قرآن، سیرتِ مصطفیٰ ﷺ اور دینی ماحول سے نہ جوڑا تو دوسرے ذرائع ان کے ذہن و کردار کو اپنے رنگ میں ڈھال دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ حضور نبی کریم ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے انسان کو عزت و احترام، کمزوروں کے حقوق، پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور معاشرے میں امن و محبت کا درس دیا۔ آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس انسانیت کے لیے بہترین نمونہ ہے۔
مولانا نے کہا کہ دنیا میں بہت سے نظام آئے اور وقت کے ساتھ ختم ہوگئے، مگر اسلام قیامت تک باقی رہنے والا دین ہے۔ مسلمانوں کو مختلف ادوار میں کمزور کرنے کی کوششیں کی گئیں، لیکن اسلام کی قوتِ ایمانی نے ہر دور میں اسے زندہ رکھا۔ آج بھی ہماری سب سے بڑی طاقت قرآن کریم اور محبتِ رسول ﷺ ہے۔
انہوں نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی محبتِ رسول ﷺ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ صحابۂ کرامؓ کی زندگیاں محبت، اطاعت اور اتباعِ رسول ﷺ کا عملی نمونہ تھیں۔ ان کے لیے حضور اکرم ﷺ کی رضا دنیا کی ہر نعمت سے زیادہ قیمتی تھی۔ وہ اپنی جان، مال، اولاد اور ہر چیز قربان کرنے کے لیے تیار رہتے، لیکن رسول اللہ ﷺ کی محبت اور اطاعت سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔
انہوں نے محبتِ الٰہی اور اتباعِ رسول ﷺ کے تعلق کو بیان کرتے ہوئے قرآن کریم کی آیتِ مبارکہ ’’قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ‘‘ کا حوالہ دیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے محبت کا معیار مقرر فرمادیا کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے محبوب ﷺ کی اتباع کرو، اللہ تم سے محبت فرمائے گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ اسی وقت سچا ہوگا جب انسان رسول اللہ ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی میں اختیار کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ محبت صرف زبان سے اظہار کا نام نہیں۔ اگر کوئی شخص کہے کہ وہ حضور اکرم ﷺ سے محبت کرتا ہے لیکن آپ ﷺ کی سنتوں پر عمل نہ کرے تو اسے اپنے دعوائے محبت کا جائزہ لینا چاہیے۔ محبت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی پسند و ناپسند کو رسول اللہ ﷺ کی پسند و ناپسند کے تابع کردے۔ حضور اکرم ﷺ کی اطاعت، سنت کی پیروی اور آپ ﷺ کے اخلاق کو اختیار کرنا ہی حقیقی محبت کی علامت ہے۔
مولانا نے کہا کہ قرآن کریم میں زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی موجود ہے اور رسول اللہ ﷺ کی سنت قرآن کریم کی عملی تفسیر ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، معاملات، معاشرت، والدین کے حقوق، پڑوسیوں کے حقوق، تجارت اور اخلاق ہر معاملے میں ہمیں حضور اکرم ﷺ کی سیرت سے رہنمائی ملتی ہے۔ اس لیے قرآن و سنت سے مضبوط تعلق قائم کرنا ہر مسلمان کی بنیادی ضرورت ہے۔
انہوں نے مسجد نبوی ﷺ میں پیش آنے والے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک صحابیؓ نے حضور اکرم ﷺ سے قیامت کے بارے میں سوال کیا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تم نے قیامت کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ صحابیؓ نے عرض کیا کہ میں نے بہت زیادہ اعمال تو جمع نہیں کیے، لیکن میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہوں۔ اس جواب سے محبتِ رسول ﷺ کی عظمت کا اندازہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی اولاد کو صرف دنیاوی تعلیم کے حصول کی طرف متوجہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کی دینی تعلیم و تربیت کو بھی اولین ترجیح دینی چاہیے۔ ڈاکٹر، انجینئر، تاجر یا افسر بننا اپنی جگہ اچھی بات ہے، لیکن سب سے پہلے اچھا مسلمان، بااخلاق انسان اور عاشقِ رسول ﷺ بننا ضروری ہے۔ ایسی نسل ہی معاشرے کو صحیح سمت دے سکتی ہے۔
مولانا مفتی سید سراج الدین نظامی نے دینی و تعلیمی خدمات انجام دینے والے علماء و ذمہ داران کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے مرحوم قاضی سیدلیطف الدین قادری خسرو صاحب کے لیے مغفرت و بلندیٔ درجات کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر الحاج سید حسام الدین قادری عزیر، صدر قاضی دارالقضاء بیدر کی نگرانی میں دینی و اصلاحی سرگرمیوں کا انعقاد قابلِ تحسین ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اخلاص و استقامت کے ساتھ خدمتِ دین کی توفیق عطا فرمائے۔محفلِ میلاد کی کارروائی کا آغاز قاضی سید معین الدین حمزہ قادری کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ سید ادریس قادری، ڈاکٹر محمد زاہد اور محمد عبید اللہ خان عطاری نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت و محبت کے پھول نچھاور کرتے ہوئے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔