اوورتھنکنگ بکھرے ہوئے خیالات کی ذہنی کیفیت ٹینشن اور علاج - از قلم : محمود علی لیکچرر۔
اوورتھنکنگ بکھرے ہوئے خیالات کی ذہنی کیفیت ٹینشن اور علاج -
از قلم : محمود علی لیکچرر۔
8055402819
اوورتھنکنگ سے مراد کسی بات واقعے مسئلے یا اندیشے کے بارے میں ضرورت سے زیادہ اور بار بار سوچتے رہنا ہے۔ اس کیفیت میں فرد کا ذہن ایک ہی خیال کے گرد مسلسل گھومتا رہتا ہے۔ کبھی ایک خیال بار بار ذہن میں آتا ہے اور کبھی اس ایک خیال سے بہت سے دوسرے خیالات پیدا ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں ذہن بکھرنے اور منتشر ہونے لگتا ہے۔
عام سوچ اور اوورتھنکنگ میں فرق ہوتا ہے۔ عام سوچ انسان کو کسی نتیجے، فیصلے یا مسئلے کے حل تک پہنچاتی ہے، جبکہ اوورتھنکنگ میں فرد بار بار سوچنے کے باوجود کسی واضح نتیجے تک نہیں پہنچ پاتا۔ مثال کے طور پر کوئی شخص اپنی کہی ہوئی ایک معمولی بات کے متعلق سوچنا شروع کرتا ہے کہ شاید اس نے غلط بات کہہ دی۔ پھر وہ سوچتا ہے کہ سامنے والے نے اس کے بارے میں کیا خیال کیا ہوگا لوگ اس سے ناراض تو نہیں ہوں گے، مستقبل میں اس کے تعلقات خراب تو نہیں ہو جائیں گے۔ اس طرح ایک چھوٹا سا خیال مختلف اندیشوں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
اوورتھنکنگ میں خیالات کی دو صورتیں نمایاں ہوتی ہیں۔ پہلی صورت یہ ہے کہ ایک ہی خیال بار بار ذہن میں آتا رہتا ہے۔ انسان ماضی کے کسی واقعے اپنی کسی غلطی یا مستقبل کے کسی خوف کو ذہن میں بار بار دہراتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ خیالات تیزی سے ایک موضوع سے دوسرے موضوع کی طرف منتقل ہونے لگتے ہیں۔ اس سے ذہنی یکسوئی متاثر ہوتی ہے اور فرد کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے خیالات بکھر گئے ہیں۔
ضرورت سے زیادہ سوچنے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے مستقبل کا خوف، ناکامی کا اندیشہ، احساسِ کمتری تنہائی بے یقینی ذہنی دباؤ اور اپنے بارے میں دوسروں کی رائے کی ضرورت سے زیادہ فکر۔ بعض افراد ہر کام کو مکمل اور بے عیب بنانا چاہتے ہیں۔ جب حالات ان کی توقع کے مطابق نہیں ہوتے تو وہ بار بار سوچنے لگتے ہیں۔
اوورتھنکنگ کے اثرات صرف ذہن تک محدود نہیں رہتے۔ اس سے بے چینی، چڑچڑاپن، اداسی، تھکن، فیصلہ کرنے میں دشواری اور نیند کی خرابی پیدا ہوسکتی ہے۔ انسان حال میں جینے کے بجائے کبھی ماضی کی غلطیوں میں الجھا رہتا ہے اور کبھی مستقبل کے فرضی خطرات سے پریشان ہوتا ہے۔
اس کیفیت پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ فرد اپنے خیالات کو حقیقت سمجھے بغیر ان کا جائزہ لے۔ ہر خیال کا سچ ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ اپنے خیالات لکھنا، روزانہ کے کاموں کی ترتیب بنانا، جسمانی سرگرمی اختیار کرنا، گہری سانس لینا اور کسی قابلِ اعتماد شخص سے بات کرنا مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ فرد کو خود سے یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ جس بات کے بارے میں وہ سوچ رہا ہے، کیا وہ اس کے اختیار میں ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہو تو عملی قدم اٹھانا چاہیے، اور اگر وہ بات اختیار سے باہر ہو تو اسے قبول کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اوورتھنکنگ دراصل خیالات کی زیادتی، تکرار اور انتشار کی کیفیت ہے۔ اس کا علاج سوچ کو زبردستی روکنا نہیں، بلکہ اسے منظم کرنا اور حقیقت پسندانہ رخ دینا ہے۔ متوازن سوچ انسان کو مسئلے کا حل دیتی ہے، جبکہ اوورتھنکنگ اسے ذہنی الجھن میں مبتلا کر دیتی ہے۔
خیالات کو روکنے کی مشق کیا ہے؟
خیالات کو روکنے کی مشق (Thought Stopping Technique) ایک ذہنی تربیتی طریقہ ہے جس کا مقصد غیر ضروری، منفی یا بار بار آنے والے خیالات کے سلسلے کو شعوری طور پر روکنا اور ذہن کو دوبارہ موجودہ لمحے پر مرکوز کرنا ہوتا ہے۔ اس مشق میں فرد یہ سیکھتا ہے کہ وہ اپنے خیالات کے بہاؤ کو بے قابو ہونے کے بجائے ایک حد تک کنٹرول کر سکتا ہے۔
اس مشق کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جب کوئی غیر ضروری یا پریشان کن خیال ذہن میں بار بار آنے لگے تو اسے فوراً پہچانا جائے اور شعوری طور پر اسے روکا جائے۔ بعض لوگ اس کے لیے ذہن میں یا آہستہ آواز میں “بس” یا “رک جاؤ” جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ کسی مخصوص اشارے یا گہری سانس کے ذریعے اس سلسلے کو توڑتے ہیں۔
خیالات کو روکنے کی مشق
خیالات کو روکنے کی مشق میں پہلا قدم یہ ہے کہ فرد اپنے خیالات پر توجہ دینا سیکھے اور یہ پہچانے کہ کون سا خیال فائدہ مند ہے اور کون سا محض ذہنی الجھن پیدا کر رہا ہے۔ جب کوئی منفی یا غیر ضروری سوچ بار بار آنے لگے تو اسے فوراً نوٹ کیا جاتا ہے اور شعوری طور پر اس کا سلسلہ توڑا جاتا ہے۔
اس کے بعد ذہن کو کسی متبادل اور مثبت سرگرمی کی طرف موڑا جاتا ہے جیسے کسی کام پر توجہ دینا، ماحول کی چیزوں کو غور سے دیکھنا گہری سانس لینا یا کسی تعمیری سوچ میں خود کو مصروف کرنا۔ اس طرح ذہن آہستہ آہستہ غیر ضروری سوچ کے دائرے سے باہر آنا سیکھتا ہے۔
یہ مشق اس وقت زیادہ مؤثر ہوتی ہے جب اسے بار بار اور مستقل مزاجی کے ساتھ کیا جائے۔ وقت کے ساتھ فرد کا ذہن یہ سیکھ لیتا ہے کہ ہر خیال پر فوراً ردعمل دینا ضروری نہیں، بلکہ بعض خیالات کو روکا اور بدلا بھی جا سکتا ہے۔
خیالات کو روکنے کی مشق کا مقصد ذہن کو زبردستی خالی کرنا نہیں ہوتا بلکہ اسے غیر ضروری بوجھ سے آزاد کرنا اور زیادہ متوازن اور پرسکون سوچ کی طرف لے جانا ہوتا ہے۔ اس طریقے سے انسان اپنی توجہ بہتر بنا سکتا ہے، ذہنی دباؤ کم کر سکتا ہے اور حال کے لمحے میں زیادہ بہتر طریقے سے جینے کے قابل ہو جاتا ہے۔
ٹاکسک لوگوں کی عاداتٹ
ٹاکسک لوگوں کی عادات (Toxic People) کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے تاکہ ہم اپنی ذہنی اور جذباتی صحت کو محفوظ رکھ سکیں۔ ایسے افراد کا رویہ اکثر دوسروں کے لیے ذہنی تھکن، دباؤ اور الجھن کا باعث بنتا ہے۔ مختلف مذہبی تعلیمات میں بھی ایسے منفی کرداروں اور رویوں سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔
قرآنِ مجید میں ایسے لوگوں کی طرف اشارہ ملتا ہے جو فخر، حسد، جھوٹ اور دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے افراد کو "منافق" اور "فساد پھیلانے والے" کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جو بظاہر اچھائی کا اظہار کرتے ہیں مگر اندرونی طور پر نقصان دہ نیت رکھتے ہیں۔ قرآن ہمیں ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنے اور عدل و سچائی پر قائم رہنے کی ہدایت دیتا ہے۔
بائبل میں بھی ایسے افراد کا ذکر ملتا ہے جو جھوٹ، غرور اور دوسروں کو گمراہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ وہاں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ درخت کو اس کے پھل سے پہچانا جاتا ہے، یعنی انسان کے اعمال اس کی اصل فطرت کو ظاہر کرتے ہیں۔ بائبل میں صبر، معافی اور ساتھ ہی برائی سے دور رہنے کی بھی تلقین کی گئی ہے۔
بھگوت گیتا میں کرشن جی ارجن کو سمجھاتے ہیں کہ انسان کو "راجسک" اور "تامسک" فطرت رکھنے والے افراد سے بچنا چاہیے، کیونکہ یہ حسد، غصہ، لالچ اور ذہنی انتشار پیدا کرتے ہیں۔ گیتا کے مطابق ایسی فطرت انسان کو روحانی ترقی سے دور لے جاتی ہے اور ذہنی سکون کو متاثر کرتی ہے۔
ٹاکسک لوگوں کی ایک عام عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہر معاملے میں ان کی مرضی چلے، اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ ناراضگی، خاموشی یا جذباتی دباؤ کے ذریعے حالات کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایسے افراد میں ہمدردی کی کمی واضح طور پر دیکھی جاتی ہے۔ وہ دوسروں کے احساسات کو سمجھنے یا ان کی قدر کرنے کے بجائے زیادہ تر اپنی ضروریات اور خواہشات کو ترجیح دیتے ہیں۔
ٹاکسک لوگ اکثر اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے دوسروں پر الزام ڈالنے کے عادی ہوتے ہیں۔ اس رویے کے باعث رشتوں میں بداعتمادی پیدا ہوتی ہے اور تعلقات کمزور ہو جاتے ہیں۔
ایک اور تشویشناک عادت یہ بھی دیکھی گئی ہے کہ بعض افراد اپنے خاندان اور بچوں کی تعریف کرتے ہوئے دوسروں کو نظر انداز یا کم تر دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ رویہ زیادہ تر پڑھے لکھے اور خود کو برتر سمجھنے والے افراد میں پایا جاتا ہے، جو گفتگو کے دوران غیر محسوس طریقے سے دوسروں کی عزتِ نفس کو متاثر کرتا ہے۔
اس کے علاوہ ایک اور سنگین رویہ گیس لائٹنگ (Gaslighting) ہے، جس میں یہ افراد دوسروں کو ان کی یادداشت، سوچ یا حقیقت کے بارے میں شک میں مبتلا کر دیتے ہیں تاکہ وہ ذہنی طور پر ان پر انحصار کرنے لگیں۔
ایسے افراد کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد انسان خود کو ذہنی طور پر تھکا ہوا، بے چین اور کمزور محسوس کرتا ہے۔ ان کا رویہ عموماً منفی، تنقیدی اور حوصلہ شکنی پر مبنی ہوتا ہے۔
ٹاکسک لوگوں کی ان عادات کو پہچان کر ان سے مناسب فاصلہ رکھنا اور اپنی حدود (boundaries) واضح کرنا ذہنی سکون اور صحت مند زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔
ذہنی بیماریوں کا علاج اور قرآن مجید
قرآنِ مجید کو مسلمانوں کے لیے ہدایت، رحمت اور شفا کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ اس میں روحانی، ذہنی اور قلبی سکون کے لیے ایسی تعلیمات موجود ہیں جو انسان کی زندگی کو مثبت سمت میں لے جاتی ہیں۔ ذہنی بیماریوں جیسے بے چینی، ڈپریشن، خوف اور اضطراب میں قرآن کی تلاوت اور اس پر غور و فکر انسان کے دل کو اطمینان عطا کر سکتا ہے۔
زندگی میں ذہنی سکون کے لیے صرف عبادات ہی نہیں بلکہ سماجی تعلقات میں بھی اعتدال ضروری ہے۔ زندگی میں فاصلے پر رہنے کا اصول اپنانا، دوستی میں حد سے زیادہ قربت سے بچنا اور توازن قائم رکھنا انسان کو کئی نفسیاتی الجھنوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ زیادہ دوستی یا بے جا وابستگی بعض اوقات غلط فہمیوں اور دشمنی کا سبب بھی بن سکتی ہے، اس لیے تعلقات میں اعتدال اور مناسب فاصلہ ذہنی سکون کے لیے اہم ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ "خبردار! اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے"۔ یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ذہنی سکون اور اندرونی اطمینان کے لیے اللہ کا ذکر ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ مسلسل تلاوتِ قرآن، دعا اور استغفار انسان کے ذہن کو مثبت سوچ کی طرف لے جاتے ہیں اور منفی خیالات کو کم کرتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات میں روحانی علاج (ruqyah) کا بھی ذکر ملتا ہے، جس میں قرآن کی مخصوص آیات کی تلاوت کے ذریعے دل و دماغ کو سکون پہنچایا جاتا ہے۔ یہ عمل انسان کے ایمان کو مضبوط کرتا ہے اور اسے تنہائی، خوف اور بے چینی سے نجات دلانے میں مدد دیتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ قرآن ہمیں صبر، شکر اور توکل کی تعلیم دیتا ہے، جو ذہنی صحت کے لیے نہایت اہم اصول ہیں۔ جب انسان مشکلات میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اور صبر اختیار کرتا ہے تو اس کے اندر برداشت اور ذہنی مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔
تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ ذہنی بیماریوں کے علاج میں صرف روحانی پہلو پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ جدید طبی اور نفسیاتی علاج سے بھی مدد لی جائے۔ قرآن اور سنت کی تعلیمات انسان کو حوصلہ دیتی ہیں کہ وہ علاج کروائے اور اپنی صحت کا خیال رکھے، کیونکہ شفا دینا بھی اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔
اس طرح قرآن مجید انسان کی روحانی رہنمائی کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون اور جذباتی توازن حاصل کرنے میں بھی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔
Comments
Post a Comment