پرچم - تحریر: صبا شاداب، ممبئی۔
- پرچم -
تحریر: صبا شاداب، ممبئی۔
آج احمد کی اسکول میں یوم آزادی کی تقریب تھی۔ احمد نے جلدی سے اپنی سفید قمیص پہنی اور اس پر چھوٹے سے ترنگے کا بیچ لگا لیا۔ اپنی الماری سے ایک پرانا سا پرچم نکال لایا۔ یہ وہی پرچم تھا جسے اس نے بڑے چاؤ سے تین سال پہلے خریدا تھا اور ہر سال یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کے موقع پر اس ننھے پرچم کو بڑے احترام سے اپنی اسکول لے جایا کرتا۔ اپنے ساتھیوں کو بھی تاکید کرتا کہ پرچم کا احترام کیا کریں۔
ہوا یوں کہ کچھ سال قبل جب احمد ١٦, اگست کو اسکول کے لیے روانہ ہو رہا تھا، تب سڑک اور فٹ پاتھ پر جا بجا قومی پرچم خستہ حال میں پڑے ہوئے تھے۔ احمد کو بہت دکھ ہوا۔ اس دن کے بعد سے اس نے عہد کیا کہ وہ اپنے پرچم کو سنبھال کر رکھے گا اور ہر سال اسی کو لے کر اسکول جایا کرے گا۔
اب وہ اسکول کے بڑے سے ہال میں داخل ہو گیا تھا ۔جہاں جگہ جگہ ترنگے سے سجاوٹ کی گئی تھی اور یوم آزادی کا جشن منانے کے لیے ہر کوئی پرجوش تھا۔
احمد نے اپنے بستے سے اپنا پرچم نکالا اور اسے اپنے سینے سے لگا کر کہا، " آج تمہارا دن ہے۔ تم بہت خوش ہوں گے ناں!" اچانک "نہیں" کی آواز سے احمد چونکا۔ پرچم کی جانب دیکھ کر اس نے پوچھا "تم بول سکتے ہو؟" پرچم نے جواب دیا, "میں ہمیشہ سے بول سکتا ہوں, لیکن مجھے سننے کے لیے صرف کان نہیں، دل بھی چاہیے۔" احمد خاموش ہو گیا ۔ پرچم نے پھر کہا،
"آج اس تقریب میں مجھ سے محبت کے بڑے بڑے دعوے کیے جائیں گے. آزادی کی اہمیت پر تقریریں ہوں گی۔ آزاد ہندوستان کے نعرے لگائے جائیں گے لیکن کیا تم جانتے ہو کہ آزادی کا اصل مطلب کیا ہے؟" احمد نے فوراً جواب دیا," اپنی مرضی سے جو چاہے کرنا ۔" پرچم کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا, "نہیں احمد ! آزادی کا مطلب اپنی مرضی کرنا نہیں بلکہ صحیح کام کرنے کی آزادی اور غلط کاموں سے خود کو روکنا ہے۔" احمد سوچ میں پڑ گیا. پرچم نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا،
"اگر تمہیں جھوٹ بولنے کی آزادی ہو مگر پھر بھی تم سچ کہو, تویہ آزادی ہے."
اگر تم کسی سے بدلہ لے سکتے ہو لیکن پھر بھی تم اس کو معاف کر دو تو یہ آزادی ہے۔
تم کسی کی کمزوری کا فائدہ اٹھا سکتے ہو پھر بھی اس کا ہاتھ تھام لو تو یہ آزادی ہے ۔
تم یہاں وہاں کوڑا کرکٹ پھینک سکتے ہو لیکن پھر بھی اپنے شہر کو صاف رکھو تو یہ آزادی ہے۔
تم اپنے ملک کے لیے کچھ خواب دیکھو اور پھر اس کے لیے جی توڑ محنت کرو تو یہی اصل آزادی ہے۔"
احمد کی آنکھیں چمکنے لگیں . تقریب کے آغاز کا اعلان ہوا۔ پرچم کشائی کے وقت احمد نے اپنے ننھے پرچم کو بوسہ دیا۔ اسے لگا جیسے اس کا پرچم مسکرا رہا ہو۔ کچھ دیر بعد قومی پرچم ہوا میں لہرا رہا تھا لیکن احمد نے محسوس کیا کہ پرچم صرف اوپر ہی نہیں ، اس کے اندر بھی لہرا رہا تھا۔
Comments
Post a Comment