ہماری دعائیں بے سود اور بے فائدہ ہیں۔۔ ازقلم : پروفیسر مختارفرید، بھیونڈی مہاراشٹرا۔
ہماری دعائیں بے سود اور بے فائدہ ہیں۔
ازقلم : پروفیسر مختارفرید، بھیونڈی مہاراشٹرا۔
رب العالمین ہماری التجاء سنتا ہی نہیں۔ مجھے یاد آرہی ہے، سورۃ ص کی آیت نمبر 3 ۔ جو الله کا جواب ہے ۔
ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی نسلوں کو ہلاک کر دیا؟
ان سب نے (رحم کے لیے) فریاد کی، مگر بچ نکلنے کا وقت گزر چکا تھا۔ (3)
وقت گزرچکا تھا ۔ یہ کلام الله کا ہے۔ رحم کی اپیل اب نہیں سنی جائے گی، کیا اللہ الرحمٰن و الرحیم نہیں ہے ۔ بے شک وہ غفور و رحیم ہے مگر جب سرکشی حد سے بڑھ جائے تو ہم کو جو احکامات دئے گئے تھے ان کی دھجیاں اڑا دی گئی اور احکامات نظر انداز کر دئے گئے ۔ اب تو حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ احکامات کیا ہیں ان کا پتہ نہیں، قرآن کوبڑی حفاظت سے، طاق میں رکھ دیا گیا ہے ۔
ہم نے بچپن سے مسلمان بنے رہنے کے لئے پانچ باتیں حفظ کر لی تھی، کلمہ شہادت، اللہ کو ایک ماننا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی ماننا نماز، روزہ، حج، و زکات، ہاں حسب استعداد قرآن پڑھنا بغیر سمجھے۔ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی جو کتاب ہے وہ بے قرآن اور ہم کوئی ایسی کتاب نہیں پڑھتے جو ہمیں سمجھ میں نہ آئے۔ یہ ظلم کس کے ساتھ ہورہا ہے ۔ یہ ظلم اپنے ہی ذات پر ہے۔ اور ہمارا شکوہ الله سے ہے کہ وہ سنتا نہیں۔
اللہ کی سب سے نمایاں صفت رحمت ہے۔ وہ بار بار انسان کو توبہ رجوع اور اصلاح کا موقع دیتا ہے ۔ قرآن میں الله نے اپنے بندوں کو مایوس ہونے سے منع فرمایا اور اپنی رحمت کا اعلان کیا ہے۔ لیکن قرآن یہ حقیقت بھی واضع کرتا ہے ہے کہ رحمت سے فائدہ اٹھانے کا ایک وقت ہوتا ہے ۔ جب انسان جان بوجھ کر حق کا انکار کرتا رہے تکبر پر اڑا رہے اور اصلاح کے تمام مواقع ضائع کردے، تو پھر ایسا مرحلہ آتا ہے جب فیصلہ نافذ ہو جاتا ہے ۔سورۃ البقرہ میں جب الله نے فرشتوں کو جب آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا توابلیس نے نہ صرف انکار کیا بلکہ انسانوں کو گمراہ کرنے کا عہد بھی کرلیا ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت تک مہلت دی، یہ مہلت توبہ کے لئے تھی سرکشی کے لئے نہیں۔ جب ابلیس نے اپنے باغیانہ رویے پر اصرار کیا تو الله کا فیصلہ صادر ہوا کہ وہ اور اس کے پیروکار جہنم کا ایندھن ہوں گے ۔
یہ واقعہ ہمیں ایک اہم سبق دیتا ہے کہ الله کی رحمت بے حد وسیع ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان ہمیشہ کے لئے مہلت ہی میں رہے گا ۔ زندگی کی مہلت، باربار ملنے والی تنبیہات انبیاء کی دعوت اور قرآن کی ہدایات ۔ یہ سب اللہ کی رحمت کے مظاہر ہیں ۔
اگر انسان ان سب کو مسلسل رد کرتا رہے تو ایک وقت ایسا آتا ہے جب فیصلہ نافذ ہو جاتا ہے اور واپسی کا موقع باقی نہیں رہتا ۔ لہذا عقل مند وہ ہے جو فیصلہ انے سے پہلے الله سے رجوع کرے اپنیی غلطیوں ہر نادم ہو،تکبر چھوڑ دے اور اس کی رحمت کا طالب بنے ۔ یہی سورۃ ص کا پیغام ہے کہ رحمت کے دروازے کھلے ہیں مگر ہمیشہ کھلے نہیں رہتے اسلئے ایمان، توبہ اور اصلاح میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے
فرعون کو اللہ تعالیٰ نے بار بار ازمایا، اور فرعون ہر مرتبہ یہی کہتا رہا آئے موسیٰ اگر ہم ان آفتوں سے نجات پائیں گے تو ہم ایمان لائیں گے ۔ متغیر مہلت کو اپنے تکبر سے ضائع کیا۔ آخر جب سمندر میں ڈوبنے لگا تو، کہہ اٹھا، کہ میں ایمان لایا موسیٰ اور ہارون کے خدا پر تب اللہ نے جواب دیا اب اس وقت جب تو موت کے منہ میں پہنچ چکا ہے، جواب میں یہی چیز پوشیدہ ہے کہ رحمت کی پکار اور قبولیت کا وقت گزر چکا ہے ۔
مسلمانوں جاگو کہیں ہم بھی اسی چکر میں پھنس کر رہ نہ جائیں کہ اللہ ہماری سن لے گا، ہم امت مسلمہ ہیں ہمارے سفارش کے لئے ہمارے بڑے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود کوشش کریں گے، جب حضور امت کی شکایت کرتے ہوئے کہیں گے،
یہ مضمون سورۂ الفرقان کی آیت 30 کی تشریح پر مشتمل ہے۔
"اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا" — سورۂ الفرقان آیت نمبر ۳۰ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا
"اور رسول کہیں گے: اے میرے رب! بے شک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔"
یہ آیت قیامت کے دن کا ایک نہایت دردناک منظر پیش کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی قوم کی شکایت کریں گے کہ انہوں نے قرآن کو "مہجور" بنا دیا تھا۔ "مہجور" کا کیا مطلب ہے؟
عربی لفظ "مَهْجُورًا"، "ہجر" سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے: چھوڑ دینا، کنارہ کش ہو جانا، نظر انداز کر دینا۔
قرآن کو چھوڑ دینے کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں:
1. قرآن کو نہ پڑھنا اور اس سے تعلق ختم کر دینا۔
2. قرآن کو سمجھنے کی کوشش نہ کرنا۔
3. قرآن کی ہدایات پر عمل نہ کرنا۔
4. زندگی کے فیصلوں میں قرآن کو معیار نہ بنانا۔
5. قرآن کے پیغام کو دوسروں تک نہ پہنچانا۔
صرف قرآن کی تلاوت کر لینا کافی نہیں، اگر اس کے احکام، اخلاق اور تعلیمات ہماری زندگی میں نظر نہ آئیں تو یہ بھی ایک طرح کا "ہجرِ قرآن" ہے۔
قرآن خود کہتا ہے:
«أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ
(محمد 47:24)» "کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟"
اور فرمایا: «كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ (ص 38:29)»
"یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے آپ پر نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور و فکر کریں۔"
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا مقصد صرف تلاوت نہیں بلکہ سمجھنا، تدبر کرنا اور اس کے مطابق زندگی گزارنا ہے۔
یہ آیت ہر مسلمان کو اپنے آپ سے سوال کرنے کی دعوت دیتی ہے:
- کیا میرا روزانہ قرآن سے تعلق ہے؟
- کیا میں اس کے معنی اور پیغام کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں؟
- کیا میرے فیصلے قرآن کی تعلیمات کے مطابق ہوتے ہیں؟
- کیا میں قرآن کو اپنی زندگی کی رہنمائی کا سرچشمہ بناتا ہوں؟
اگر ان سوالوں کا جواب نفی میں ہے تو ہمیں فوراً اپنے تعلقِ قرآن کی اصلاح کرنی چاہیے، تاکہ قیامت کے دن ہم ان لوگوں میں شامل نہ ہوں جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کو یہ شکایت کرنی پڑے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کو صرف پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ زندگی کی ہدایت کے لیے نازل فرمایا ہے۔ جو قوم قرآن کو اپنی فکر، اخلاق، عبادات، معاملات اور معاشرت کی بنیاد بناتی ہے، وہی دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتی ہے۔ اور جو اسے محض رسم، برکت یا تلاوت تک محدود کر دیتی ہے، وہ اس عظیم نعمت کے حقیقی مقصد سے محروم رہ جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو پڑھنے، سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اس کا پیغام دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
لیکن یہ مہلت دائمی نہیں تھی۔ ان کے لیے صرف ایک ہی زبردست آواز (صیحہ) کافی ہوگی، جو اللہ کے عذاب یا قیامت کے آغاز کا اعلان کرے گی۔ جب وہ وقت آ جائے گا تو نہ اس میں کوئی تاخیر ہوگی، نہ مہلت ملے گی اور نہ ہی اس سے بچنے کا کوئی راستہ ہوگا۔ اس آیت آیت نمبر 15میں انسان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اللہ کی دی ہوئی مہلت کو توبہ اور اصلاح کا موقع سمجھے، کیونکہ عذاب یا قیامت اچانک آ سکتی ہے۔
یہ کفارِ مکہ کے استہزاء اور تکبر کا اظہار ہے۔ جب انہیں قیامت، حساب اور سزا سے ڈرایا گیا تو انہوں نے سنجیدگی سے غور کرنے کے بجائے مذاق اڑاتے ہوئے کہا: "اگر واقعی حساب کا دن آنے والا ہے تو ہمارا حصہ یا عذاب ابھی لے آؤ۔" ان کا مقصد حق کو قبول کرنا نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا مذاق اڑانا تھا۔
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ جب انسان ضد، غرور اور تعصب میں مبتلا ہو جائے تو وہ نصیحت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اللہ کی وعیدوں کا بھی مذاق اڑانے لگتا ہے۔ قرآن ایسے رویے سے سختی سے خبردار کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اللہ کی مہلت کو اس کی بے بسی نہ سمجھا جائے، بلکہ یہ قرآن ایسے رویے سے سختی سے خبردار کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اللہ کی مہلت کو اس کی بے بسی نہ سمجھا جائے، بلکہ یہ اس کی رحمت ہے تاکہ لوگ توبہ کر کے حق کی طرف لوٹ آئیں
پروفیسر مختارفرید
بھیونڈی مہاراشٹرا
Comments
Post a Comment