تقویٰ : قرآن و حدیث کی روشنی میں - ( مفہوم ،فضیلت، اسبابِ حصول) - ازقلم : افضال احمد ملّی، (پوار واڑی مالیگاؤں ضلع ناسک)
تقویٰ : قرآن و حدیث کی روشنی میں -
( مفہوم ،فضیلت، اسبابِ حصول) -
ازقلم : افضال احمد ملّی، (پوار واڑی مالیگاؤں ضلع ناسک)
محترم قارئین.!
انسانی زندگی کا وہ وصف جو تمام نبیوں کی تعلیم کا نچوڑ اور انسان کی کامیابی کا راز ہے وہ ' تقویٰ' ہے،
تقوی عربی زبان کے لفظ 'وقاية' سے ماخوذ ہے. اس کے معنی ہیں ڈرنا، بچانا، پرہیز کرنا،
حضرت علی رضی اللہ عنہ تقویٰ کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
تقوی یہ ہے کہ انسان گناہ نہ کرے، نیکیوں میں جلدی کرے، جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس پر قناعت کرے، اور موت کی تیاری کرے حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا تقویٰ کیا ہے.؟
حضرت ابی بن کعب نے کہا کہ آپ کبھی کانٹوں والی پگڈنڈی پر ننگے پیر چلے ہیں.؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں، ابی بن کعب نے پوچھا پھر آپ نے کیا کیا.؟
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا شمرت واجتهدت یعنی میں نے دامن سمیٹا اور پوری کوشش کی کہ کانٹوں سے بچ کر چلوں -
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا فذلك التقوى یعنی بس یہی تقوی ہے،
دونوں بزرگوں کے مکالمے کا مفہوم یہ ہے کہ :
جس طرح کانٹوں والے راستے پر انسان ہر قدم سوچ سمجھ کر رکھتا ہے کہ کہیں کانٹا نہ چبھ جائے، اسی طرح تقویٰ والا زندگی میں ہر قدم پر یہ دیکھتا ہے کہیں اللہ کی نافرمانی میں قدم نہ پڑ جائے.
تقویٰ کی اہمیت پر قرآنی آیات :
پورے قرآن میں تقریباً 250 جگہوں پر تقویٰ اور متقین کی اہمیت وارد ہوئی ہے
چنانچہ سورہ آل عمران میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته . ( ائے ایمان والوں.! اللہ سے ایسا ڈرو جیسا ڈرنے کا حق ہے،
ایک جگہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا : ان أكرمكم عند الله أتقاكم ( بےشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جس میں تقویٰ کی صفت سب سے زیادہ ہو)
ایک مقام پر کامیابی کو متقین کے ساتھ جوڑ کر بیان کیا گیا ہے، ان للمتقين مفازا ( بےشک تقوی والوں کیلئے کامیابی ہے)
تقویٰ کے فوائد :
اللہ تعالیٰ نے اس عظیم صفت کے مختلف فوائد و ثمرات بیان کیے ہیں، جن میں سے چند حسبِ ذیل ہیں :
1) حصول ہدایت کا ذریعہ :
سورہ بقرہ آیت 2 میں ہے ذلك الكتاب لاريب فيه
( اس کتاب میں کوئی شک نہیں، متقین کیلئے ہدایت ہے)
اس آیت میں دو اہم موضوع کو بیان کیا گیا ہے، ایک تو کتاب یعنی قرآن مجید کا ہر شک و شبہ سے بالاتر ہونا، دوسرے اہلِ تقویٰ کیلئے ہدایت کا ملنا،
2) علمِ فرقان :
یعنی وہ علم جس سے حق و باطل کے درمیان فرق کیا جا سکے، یہ علم تقویٰ کی برکت سے نصیب ہوگا،
چنانچہ قرآن پاک کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا يا أيها الذين آمنوا ان تتقوا الله يجعل لكم فرقانا ( ائے ایمان والوں.! اگر تم اللہ سے ڈرو تو اللہ تمہیں ایک فیصلے کی چیز دے گا)
3) گناہوں کی بخشش کا ذریعہ:
اسی آیت مذکورہ بالا میں آگے فرمایا ويكفر عنكم سيأتكم وہ تم سے تمہاری غلطیوں کو مٹا دے گا، اور سورہ طلاق کی آیت میں ہے ومن یتق اللہ يجعل له من أمره يكفر عنه سيأته ( اور جو اللہ سے ڈرتا رہے گا وہ اس کی خطائیں اس سے دور فرما دے گا،
4) غموں کا ازالہ اور رزق میں برکت :
سورہ طلاق آیت 2 اور 3 میں مذکور ہے، ومن يتق الله يجعل له مخرجا، ويرزقه من حيث لايحتسب ( جو اللہ سے ڈرتا ہے تو وہ اس کیلئے آزمائش سے نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے، اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا)
5) اللہ کی مدد و معیت :
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا *ان الله مع الذين اتقوا ( بےشک اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کے ساتھ ہے)
حصولِ تقویٰ کے اسباب
اپنی ذات کو اس عظیم صفت سے مزین کرنے کیلئے دو لازمی امر ہے،
1) متقین کی صحبت :
اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں ذکر کیا ہے يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وكونوا مع الصادقين ( ائے ایمان والوں.! تقویٰ اختیار کرو اور سچوں کے ساتھ رہو) سچے کون.؟
اس کا پتہ بھی قرآن پاک نے ہی دیا ہے : ( أولئك الذين صدقوا واولئك هم المتقون)
اس کا مفہوم یہ ہے کہ سچے لوگ ہی متقی ہیں، اور ان اہلِ تقویٰ کی صحبت اس صفت کے حصول میں معاون ہے.
2) دعاؤں کا اہتمام :
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول وہ دعائیں جن میں تقویٰ مانگا گیا ہے ان کے پڑھنے کا اہتمام کریں، مثلاً ایک دعا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں کہا : أللهم إني أسألك الهدى والتقى والعفاف والغنى ( ائے اللہ میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاکدامنی مانگتا ہوں اور مخلوق کا محتاج بننے سے حفاظت مانگتا ہوں)
اور ایک دعا یہ بھی منقول ہے رب أعط نفسي تقواها ( ائے میرے رب میرے نفس کو تقویٰ سے مزین فرما)
Comments
Post a Comment