افسانہ - دھوکا - از قلم: رہبر تماپوری۔ مہمان معلم، جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم
افسانہ - دھوکا -
از قلم: رہبر تماپوری۔
مہمان معلم، جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم
جامعہ نگر، تماپور، تعلقہ شوراپور، ضلع یادگیر، ریاستِ کرناٹک
رابطہ: 8431012141
عبدالکریم کی زندگی کے آخری دن تھے۔ کبھی عید آتی تو گھر میں رشتہ داروں کا تانتا بندھ جاتا، خوشی ہوتی تو صحن آباد رہتا اور غم آتا تو لوگ تسلی دینے پہنچ جاتے۔ مگر اب وہ بستر سے لگے ہوئے تھے۔ دروازہ وہی تھا، گھر وہی تھا، لیکن دستکیں دھیرے دھیرے کم ہو گئی تھیں۔
ایک شام زینب بیگم نے دوا کا پیالہ آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا، ’’کس کا انتظار ہے؟‘‘
عبدالکریم نے دروازے کی طرف دیکھا، ’’کسی کا بھی نہیں۔ بس سوچتا ہوں، جب آدمی کے پاس دینے کو کچھ نہ رہے تو کتنے لوگ اسے یاد رکھتے ہیں۔‘‘
زینب بیگم نے دلاسہ دیا، ’’آپ کے بچے تو ہیں نا!‘‘
عبدالکریم مسکرائے، ’’ہاں، خون کے رشتے قریب لا سکتے ہیں، مگر انہیں قائم انصاف ہی رکھتا ہے۔ یاد رکھنا، گھر کو دولت نہیں، انصاف جوڑ کر رکھتا ہے۔‘‘
فیضان ان کے پاؤں دبا رہا تھا۔ بڑی بیٹی کہکشاں اور دونوں چھوٹی بہنیں بھی پاس بیٹھی تھیں۔
عبدالکریم نے سب کو دیکھا اور کہا، ’’میرے بعد اپنی ماں اور چھوٹی بہنوں کا خیال رکھنا۔ یہ گھر اور ہماری عزت تم سب کی امانت ہے۔ دولت کی خاطر کبھی رشتے مت توڑنا۔‘‘
فیضان نے ان کا ہاتھ تھام لیا، ’’ابا! آپ بے فکر رہیں۔‘‘
چند ماہ بعد طبیعت زیادہ بگڑی تو عبدالکریم نے سب کو اپنے پاس بلایا۔ فیضان کا ہاتھ تھام کر بولے، ’’مجھے تم پر پورا بھروسہ ہے۔‘‘
یہ ان کے آخری الفاظ تھے۔
---
والد کی وفات کے چند ہفتے بعد رشید چچا ایک فائل لے کر آئے۔
’’بیٹا! تمہارے والد نے ہم بھائیوں سے کچھ رقم لی تھی۔ بدلے میں انہوں نے ایک تحریر پر دستخط کیے تھے کہ مشترکہ جائیداد میں ان کا حصہ ہمارے پاس رہے گا۔‘‘
فیضان نے کاغذ پڑھا تو اس کا چہرہ زرد پڑ گیا۔
’’چچا! اس میں تو لکھا ہے کہ ابا کا مشترکہ جائیداد میں کوئی دعویٰ نہیں رہے گا!‘‘
کہکشاں بولی، ’’مگر ابا نے کبھی ایسی بات نہیں بتائی!‘‘
رشید چچا نے سرد لہجے میں کہا، ’’کاغذ پر دستخط تو انہی کے ہیں۔‘‘
فیضان کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر خاموش ہو گیا۔ سامنے وہی چچا تھا جسے اس نے بچپن سے باپ کے ساتھ دیکھا تھا۔ وہ جائیداد کی خاطر برسوں پرانے رشتے کو رسوا نہیں کرنا چاہتا تھا۔
رشید چچا نے اس کی خاموشی کو رضامندی سمجھ لیا۔
’’آخر خاندان ایک دوسرے کے کام ہی آتا ہے۔‘‘
وہ چلے گئے۔
زینب بیگم نے پوچھا، ’’بیٹا! خاموش کیوں رہے؟‘‘
فیضان نے کہا، ’’امی! رشتہ بچانا چاہتا تھا۔ بات بڑھی تو خاندان بکھر جاتا۔‘‘
زینب بیگم نے آہ بھری، ’’بیٹا! کبھی کبھی خاموشی بھی رضامندی بن جاتی ہے۔‘‘
وقت گزرا۔ خاندان میں بات پھیل گئی کہ عبدالکریم کے بچوں نے اپنا حق چھوڑ دیا ہے۔ فیضان اور کہکشاں نے صبر کیا۔ وہ جانتے تھے کہ رشتے بچانا ضروری ہیں، مگر یہ بھی محسوس کرتے تھے کہ خاموشی کو حق سے دست برداری سمجھ لینا انصاف نہیں۔
اب فیضان کے کندھوں پر گھر کی ذمہ داری تھی۔ تعلیم مکمل کرنے اور بہتر ملازمت کا خواب ابھی ادھورا تھا، مگر دو چھوٹی بہنوں کی تعلیم، گھر کے اخراجات اور ان کی شادیوں کے لیے رقم جمع کرنا ضروری تھا۔
وہ دن میں کام کرتا اور رات کو پڑھتا۔ کہکشاں نے سلائی اور ٹیوشن شروع کر دی۔
’’فیضان! بوجھ اکیلے مت اٹھاؤ،‘‘ وہ کہتی۔
’’آپا! ابا نے ہم پر بھروسہ کیا تھا،‘‘ وہ مسکرا کر جواب دیتا۔
وقت کے ساتھ دونوں بہنوں کے رشتے آئے۔ ایک جگہ غیر ضروری مطالبات سامنے آئے تو فیضان نے صاف انکار کر دیا۔
’’رشتہ اگر قیمت مانگے تو وہ رشتہ نہیں، سودا ہے۔‘‘
دوسرا رشتہ سادگی سے طے ہوا۔ فیضان نے اپنی خواہشیں قربان کرکے دونوں بہنوں کو عزت سے رخصت کیا۔
مگر مسلسل جدوجہد، مالی تنگی اور اپنوں کی بے وفائی نے زینب بیگم کی صحت گرا دی۔ ایک رات طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ دوا کے لیے بھی پیسے کم پڑ گئے۔
فیضان ماں کے بستر کے پاس بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے باپ کا چہرہ، چچا کا فریب، بہنوں کی ذمہ داریاں اور اپنی ادھوری خواہشیں گھومنے لگیں۔ اس کا ضبط ٹوٹ گیا۔
اس نے ماں کے زرد چہرے کو دیکھا، آنسو پونچھے اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا دیے۔
’’یا اللہ! ہم نے کسی کا حق نہیں مارا۔ رشتے بچانے کے لیے خاموش رہے، اپنی خواہشیں قربان کیں، پھر بھی آزمائشیں ختم نہیں ہوتیں؟‘‘
اس کی آواز رندھ گئی۔ پھر اس نے آنسوؤں میں ڈوبی آواز میں کہا:
’’ہم بھی دیکھیں گے تماشا تیری لیلائی کا!‘‘
یہ کسی انسان کو للکارنا نہیں تھا؛ یہ ایک زخمی دل کا اپنے رب سے شکوہ تھا، جس کے اندر شکوے کے باوجود یقین باقی تھا۔
اسی رات زینب بیگم دنیا سے رخصت ہو گئیں۔
تدفین کے بعد گھر خاموش تھا۔ فیضان نے والد کی پرانی ڈائری نکالی۔ کہکشاں پاس آ بیٹھی۔
’’فیضان! کیا اب بھی سمجھتے ہو کہ ابا کا سچ اور ہمارا صبر ضائع ہو گیا؟‘‘
فیضان نے ڈائری کو دیکھا، پھر بولا، ’’نہیں، آپا! اب سمجھ آیا ہے۔ حق کی راہ آسان نہیں ہوتی۔ جو شخص انصاف کے ساتھ کھڑا رہتا ہے، اسے دنیا کے دھوکے سہنے پڑتے ہیں۔ کبھی رشتے دھوکا دیتے ہیں، کبھی اعتماد اور کبھی حالات۔ مگر دھوکا کھا لینا شکست نہیں؛ حق چھوڑ دینا شکست ہے۔‘‘
اس نے ڈائری سینے سے لگا لی۔
’’ابا ٹھیک کہتے تھے؛ گھر کو دولت نہیں، انصاف جوڑ کر رکھتا ہے۔ دنیا کے بدلتے رشتے زندگی کو تماشا بنا سکتے ہیں، مگر اللہ کا انصاف کبھی دھوکا نہیں دیتا۔‘‘
باہر نیم کے درخت سے ایک زرد پتا ٹوٹ کر زمین پر گرا۔
فیضان نے آنکھیں بند کر لیں۔
اسے محسوس ہوا، زندگی نے اسے دھوکا نہیں دیا تھا؛ زندگی نے اسے دھوکے کو پہچاننا سکھایا تھا۔
Comments
Post a Comment