اگر میں عورت ہوتا!!!!! - از قلم: ظفر ھاشمی ندوی، (سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)


اگر میں عورت ہوتا!!!!!  - 
از قلم: ظفر ھاشمی ندوی، 
(سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)

اللہ کا شکر ہے اس نے مجھے مرد بنایا- لیکن بڑے ہوکر اور اسلام کی بھر پور اسٹڈی کرنے کے بعد میرا جی چاھتا ہے کہ کاش میں عورت ہوتا- وہ کیوں ؟ اس لئے کہ اسلام میں عورت کا جنت میں جانا زیادہ آسان ہے - خیر اس کی اصلی دلیل تو میں مضمون کے آخر میں دوں گا- لیکن عورت کے لئے اسلام میں خود دنیا کی زندگی میں بے حد فائدے ہیں -
سب سے پہلی بات عورت کے چار روپ ہیں بیٹی، بہن بیوی اور اخیر میں ماں - اسلام میں ان چاروں صورتوں میں لڑکی کے پیدا ہونے سے لیکر اس کی زندگی کے آخری لمحہ تک اس کی اپنی زندگی کا ہر خرچہ اس پر بالکل نہیں ہے اور وہ سب کا سب باپ بھائی شوھر اور اخیر میں بیٹوں پر ہے- یہاں تک کہ اگر وہ کماتی ہے یا دولت مند ہے تب بھی خود اس کے ماں باپ کے اخرجات اس پر فرض نہیں ہیں - یہ لگ بات ہے کہ بے شمار بے غیرت اور عاق صفت بھائیوں کی وجہ سے اکثر بیٹیوں نے اپنے ماں باپ کو سنبھالا ہے- اسی طرح شادی کے بعد اس کا ہر خرچ صرف شوھر کو پورا کرنا ہے- یہ الگ بات ہے کہ موجودہ زمانے میں بے غیرت شوھر بیوی کی کمائی پر زندہ رہتا ہے بلکہ شادی کے لئے بھی جاب اور ملازمت کرنے والی بیوی ڈھونڈتا ہے - صحیح معاشرہ میں بیٹا بوڑھے ماں باپ کا سہارہ ہوتا ہے - یہ الگ بات ہے کہ آجکل کی بے شرم اولاد جب کمانے لگتی ہے تو ماں باپ کو سب سے پہلے بھول جاتی ہے - کسی بے شرم بیٹے نے کہا ہے کہ ماں باپ کی زندگی میں میں نے اپنا ہر شوق ذوق اور فیشن والی زندگی گزاری اب تو اپنی تنخواہ میں گھر کے ضروری اخرجات بھی پورے نہیں ہو رہے ہیں-
کہیے اگر اللہ نے ہمیں لڑکی بنا دیا ہوتا تو ہم بھی بے فکری کی زندگی گذارتے - مگر بجائے خود یہ نامردی کسی مرد کو زیب نہیں دیتی- اصل وجہ تو میں نے اس تمنا کی شروع ہی میں بیان کردی-
اب دینی اعتبار سے دیکھتے ہیں - بالغ ہونے کے بعد ہر لڑکے کو ہر دن پانچ وقت کی نماز مسجد میں پڑھنی ہے مگر عورت کو گھر میں پڑھنی ہے- اس کے علاوہ بالغ لڑکے کی ہر نماز نہ پڑھنے کی پوچھ ہوگی اور جان بوجھ کر نہ پڑھنے کی سزا ضرور ملے گی جبکہ بالغ لڑکی کو ہر مہینہ اس کے مخصوص دنوں میں اتنے دن کی نماز معاف ہے اور قضاء بھی نہیں پڑھنی ہے- یہی چھوٹ بچہ کی پیدائش کے بعد تقریبا چالیس دنوں کی نمازیں معاف ہیں- رمضان میں بھی مخصوص دنوں کے روزے نہیں رکھناہے البتہ بعد میں قضاء روزے رکھنے ہیں کیونکہ وہ تعداد میں کم ہوتے ہیں اور سال میں صرف ایک دفعہ روزے رکھے جاتے ہیں جبکہ نماز ہر دن پانچ دفعہ پڑھنا فرض ہے- پھر رمضان میں اگر کسی عورت کا دودھ پیتا بچہ ہے اور روزہ رکھنے پر بچہ کی خوراک پر اثر پڑتا ہے تب بھی ایسی عورت پر روزہ اس حالت میں فرض نہیں ہے اور بعد میں قضا روزے رکھ سکتی ہے - زکوة بھی بنیادی طور پر فرض نہیں ہے سوائے اس بات کہ اگر اس کے پاس سونا چاندی یا دولت نصاب بھر کی ہو تب فرض ہے- اسی طرح حج بھی عام طور پر فرض نہیں ہے -
مسلم عورت پر جہاد فرض نہیں ہے- ہر طرح کا سخت کام یا وزنی کام عورت کو نہیں کرنا ہے - یہ آپ مرد کی ذمہ داری ہے-
عورت کے لئے جنت میں جانا سب سے زیادہ آسان ہے- نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اگر کوئی عورت پانچ وقت کی پابندی سے نماز پڑھے رمضان کے روزے رکھے اپنی شرم گاہ کی شوہر کے علاوہ حفاظت کرے- ہر نیک کام میں شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری کرے تو قیامت میں اس سے کہا جائے گا کہ جنت کے دروازوں میں سے جس دروازہ سے چاہے جنت میں چلی جائے- صرف اس حدیث کی وجہ سے یہ جی چاہتا ہے کہ کاش میں عورت ہوتا تو جنت میں جانا کتنا آسان ہوتا- 
یہاں یہ حدیث بھی یاد رہے کہ ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ بھی فرمایا ہے: کسی کام میں اگر خالق کی نافرمانی ہوتی ہے تو کسی بھی مخلوق کی اطاعت نہیں کی جائے گی-
پھر مرد ہونے کا اسلام میں کیا مقام اور فائدہ ہے ؟ ان شاء اللہ اگلی قسط میں یہ بیان کریں گے-

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔