اردو زبان و ادب کے فروغ کے عزم کے ساتھ بزمِ اردو ادب کا قیام ایک قابلِ تحسین قدم : ایڈوکیٹ جاوید خیردی۔ ایس ایس اے آرٹس اینڈ کامرس کالج سولاپور میں بزمِ اردو ادب کا شاندار افتتاح۔


سولاپور: (اقبال باغبان) ایس ایس اے آرٹس اینڈ کامرس کالج، سولاپور کے شعبۂ اردو کے زیرِ اہتمام بزمِ اردو ادب کی افتتاحی تقریب نہایت شاندار اور پُروقار انداز میں منعقد ہوئی۔ اس بزم کا افتتاح پنیہ شلوک سولاپور یونیورسٹی کے لاء آفیسر، محترم ایڈوکیٹ جاوید خیردی کے دستِ مبارک سے عمل میں آیا۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز بی۔اے سالِ اول کی طالبہ یاسمین فاروق ہنگلگیکر کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ تلاوتِ قرآنِ مجید کی پُرنور فضا نے محفل کو روحانی کیفیت سے ہمکنار کر دیا۔

تقریب کی صدارت شعبۂ اردو کے صدر، پروفیسر ڈاکٹر محمد شفیع چوبدار نے فرمائی۔ انہوں نے شعبۂ اردو کا تعارف پیش کرتے ہوئے شعبے کی علمی و تحقیقی کامیابیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ شعبۂ اردو سے اب تک 13 طلبہ و طالبات پی۔ایچ۔ڈی مکمل کر چکے ہیں۔ 20 طلبہ نے نیٹ، سیٹ اور جے آر ایف میں کامیابی حاصل کی۔ تقریباً 50 طالب علموں نے یونیورسٹی کی میرٹ لِسٹ میں نمایاں مقام حاصل کرتے ہوئے گولڈ میڈل بھی حاصل کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابیاں شعبۂ اردو کے اساتذہ کی علمی کاوشوں، طلبہ کی محنت اور ادارے کے تعاون کا روشن ثبوت ہیں۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی محترم ایڈوکیٹ جاوید خیردی نے بزمِ اردو ادب کا زبانی افتتاح کرتے ہوئے طلبہ و طالبات کی رہنمائی کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اردو ذریعۂ تعلیم سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ بھی زندگی میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے تعلیمی سفر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بھی اسی ادارے سے اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کی اور آج پنیہ شلوک سولاپور یونیورسٹی میں لاء آفیسر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے طلبہ کو کامیابی کا راز بتاتے ہوئے کہا کہ محنت، عزم اور مستقل مزاجی کامیابی کی بنیادی شرائط ہیں۔ اگر طالب علم اپنے مقصد کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کرے تو زبان کبھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ انہوں نے شعبۂ اردو کی تعلیمی و تحقیقی کارکردگی کو سراہتے ہوئے شعبے کے اساتذہ کو مبارکباد پیش کی اور بزمِ اردو ادب کے قیام کو طلبہ کی ادبی صلاحیتوں کو جِلا بخشنے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔

تقریب کے صدارتی خطاب میں کالج کے کارگزار پرنسپل ای۔جا۔ تببولی نے شعبۂ اردو کی علمی و ادبی ترقی پر مسرت کا اظہار کیا اور شعبے کے اساتذہ کو ان کی گراں قدر خدمات پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کی حقیقی پہچان اس کی علمی، ادبی اور تحقیقی سرگرمیوں سے ہوتی ہے، اور شعبۂ اردو اس میدان میں قابلِ قدر خدمات انجام دے رہا ہے۔
پروگرام کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی پروفیسر ڈاکٹر غوث احمد شیخ نے ڈالی۔ انہوں نے بزمِ اردو ادب کے قیام کی ضرورت و اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی ادبی سرگرمیاں طلبہ میں تخلیقی صلاحیتوں، مطالعے کا ذوق، اظہارِ خیال کی قوت اور اردو زبان و ادب سے وابستگی کو فروغ دیتی ہیں۔ آخر میں انہوں نے تمام مہمانانِ گرامی، اساتذہ اور طلبہ و طالبات کا شکریہ ادا کیا۔
یہ تقریب اپنے علمی، ادبی اور فکری رنگ کے باعث نہایت کامیاب رہی اور اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ بزمِ اردو ادب اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت اور طلبہ کی پوشیدہ ادبی صلاحیتوں کو منظرِ عام پر لانے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوگی۔


Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔