کیا شیرساگر خاندان ایک بار پھر بیڑ نگر پریشد میں اقتدار حاصل کرے گا؟ - سیاسی تجزیہ - ازقلم: سید فاروق احمد قادری۔


کیا شیرساگر خاندان ایک بار پھر بیڑ نگر پریشد میں اقتدار حاصل کرے گا؟ - 
سیاسی تجزیہ - 
ازقلم: سید فاروق احمد قادری۔

بیڑ کی سیاست ہمیشہ سے مہاراشٹر کی سیاست کا ایک اہم مرکز رہی ہے۔ یہاں سیاسی حالات تیزی سے بدلتے رہتے ہیں اور ہر انتخاب کے بعد نئی صف بندیاں وجود میں آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی بیڑ نگر پریشد کی سیاست کا ذکر ہوتا ہے تو شیرساگر خاندان کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے، کیونکہ اس خاندان نے کئی دہائیوں تک بلدیاتی سیاست میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھا۔
شیرساگر خاندان کی سیاست صرف نگر پریشد تک محدود نہیں رہی بلکہ ریاستی سطح پر بھی اس خاندان نے اپنی الگ شناخت قائم کی۔ ڈاکٹر بھوشن شیرساگر مسلسل 36 برس تک بیڑ نگر پریشد کے صدر (ادھیکش) رہے، جو اپنے آپ میں ایک غیر معمولی سیاسی ریکارڈ ہے۔ ان کے بھائی جئے دت شیرساگر رکنِ اسمبلی رہنے کے ساتھ ریاستی حکومت میں وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ خاندان کی دیگر شخصیات نے بھی عوامی نمائندگی کی، جس کے باعث آج بھی بیڑ کی سیاست میں اس خاندان کی ایک الگ پہچان موجود ہے۔
گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں بیڑ نگر پریشد کا مقابلہ بنیادی طور پر تین سیاسی قوتوں کے درمیان رہا۔ ایک طرف این سی پی (اجیت پوار گروپ)، دوسری طرف این سی پی (شرد پوار گروپ) اور تیسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی میدان میں تھی۔ انتخابی نتائج میں وجئے سنگھ پنڈت کی قیادت والے این سی پی (اجیت پوار گروپ) نے 22 نشستیں حاصل کیں، جبکہ سندیپ شیرساگر کی قیادت والے این سی پی (شرد پوار گروپ) کو 15 نشستیں ملیں۔ دوسری جانب ڈاکٹر یوگیش شیرساگر بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ ہیں۔ اس طرح ایک ہی خاندان کے افراد مختلف سیاسی جماعتوں میں اپنی اپنی سیاسی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
نگر پریشد کی تشکیل کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا، لیکن بجٹ، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی معاملات پر اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ یہی اختلافات آج بیڑ کی سیاست میں نئی بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں اور مستقبل کی سیاست کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں۔
حال ہی میں ایک عوامی پروگرام میں ڈاکٹر یوگیش شیرساگر اور سندیپ شیرساگر، جو آپس میں چچیرے بھائی ہیں، ایک ہی اسٹیج پر نظر آئے اور خوشگوار ماحول میں ایک دوسرے سے گفتگو بھی کرتے دکھائی دیے۔ اگرچہ اس موقع پر کسی سیاسی اتحاد کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا، لیکن ان کی مشترکہ موجودگی نے عوام اور سیاسی حلقوں میں نئی چہ مگوئیوں کو ضرور جنم دیا ہے۔
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ سیاست میں مستقل دوست یا مستقل دشمن نہیں ہوتے۔ وقت، حالات اور عوامی مفاد کے مطابق سیاسی اتحاد بنتے اور بدلتے رہتے ہیں۔ اسی لیے بیڑ میں یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ اگر مستقبل میں شیرساگر خاندان کے دونوں چچیرے بھائی سیاسی طور پر ایک ساتھ آتے ہیں تو کیا بیڑ نگر پریشد کی سیاست میں ایک نئی سیاسی صف بندی وجود میں آئے گی؟
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شیرساگر خاندان تقریباً 36 برس تک بیڑ نگر پریشد کی سیاست کا محور رہا۔ اس طویل عرصے میں اختلافات بھی ہوئے، مخالفت بھی ہوئی، لیکن اس کے باوجود اس خاندان نے اپنی عوامی بنیاد اور سیاسی شناخت برقرار رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں ایک بار پھر اس خاندان کا نام عوام اور سیاسی حلقوں میں موضوعِ گفتگو بن گیا ہے۔
یہ مضمون کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کی حمایت یا مخالفت کے لیے نہیں، بلکہ بیڑ کی موجودہ سیاسی صورتحال کا ایک غیر جانب دار تجزیہ ہے۔ سیاست میں حالات ہر وقت بدلتے رہتے ہیں۔ آج کے مخالف کل ایک ہی صف میں بھی نظر آ سکتے ہیں اور آج کے ساتھی الگ راستے بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ اسی لیے عوام اور سیاسی مبصرین کی نظریں اس وقت شیرساگر خاندان کے دونوں چچیرے بھائیوں پر مرکوز ہیں۔
حال ہی میں ایک عوامی پروگرام میں دونوں کی مشترکہ موجودگی نے بیڑ کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ کسی سیاسی اتحاد کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں ہوا، لیکن عوام میں یہ قیاس آرائیاں ضرور گردش کر رہی ہیں کہ آنے والے دنوں میں بیڑ کی سیاست ایک نیا رخ اختیار کر سکتی ہے۔ اگر دونوں بھائی مستقبل میں ایک سیاسی پلیٹ فارم پر آتے ہیں تو اس کے اثرات صرف نگر پریشد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ضلع کی مجموعی سیاست پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
اب یہ صرف وقت ہی بتائے گا کہ موجودہ سیاسی رسہ کشی کس سمت جاتی ہے، لیکن ایک بات طے ہے کہ بیڑ نگر پریشد کی آئندہ سیاست پر پورے ضلع کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ سیاست امکانات کا کھیل ہے، اور عوام انہی امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ مستقبل کیا رخ اختیار کرے گا، اس کا فیصلہ آنے والا وقت اور عوام کا اعتماد ہی کرے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔