آٹھ اعشاریہ سات8.7 کروڑ نوجوان تعلیم اور روزگار سے محروم: 'وکست بھارت' کی تصویر پر بے روزگاری کا بدنما داغ - از قلم : ایڈوکیٹ طاہر حُسین۔
آٹھ اعشاریہ سات8.7 کروڑ نوجوان تعلیم اور روزگار سے محروم: 'وکست بھارت' کی تصویر پر بے روزگاری کا بدنما داغ -
از قلم : ایڈوکیٹ طاہر حُسین۔
ہندوستان کو دنیا کا سب سے جوان ملک کہا جاتا ہے، جہاں کی 65 فیصد سے زائد آبادی 35 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ کاغذات اور حکومتی نعروں میں یہ "ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ" (آبادیاتی فائدہ) نظر آتا ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہ طاقت ایک خاموش معاشی اور سماجی بم میں تبدیل ہو رہی ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے اعداد و شمار اس ڈراؤنے خواب کی تصدیق کرتے ہیں۔
نیشنل سیمپل سروے (NSS) کے 78ویں دور اور نیتی آیوگ کی رپورٹ (Reimagining Skilling for Viksit Bharat @ 2047) کے مطابق، 15 سے 29 سال کی عمر کے 8.7 کروڑ نوجوان NEET زمرے (Not in Education, Employment, or Training) میں آتے ہیں۔ یعنی ملک کے کروڑوں نوجوان نہ تو اسکول یا کالج میں پڑھ رہے ہیں، نہ کسی ملازمت سے منسلک ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی پیشہ ورانہ تربیت حاصل کر رہے ہیں۔
ملک کے اہم ادارہ 'سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی' (CMIE) کے ڈیٹا پر نظر ڈالیں تو بے روزگاری کا یہ گراف مزید تشویشناک نظر آتا ہے:
نیتی آیوگ کے مطابق صرف 8.5 فیصد اعلیٰ تعلیم یافتہ (Graduates) نوجوانوں کو ان کی ڈگری کے مطابق کام مل پاتا ہے۔ یعنی 91 فیصد سے زائد گریجویٹس یا تو بے روزگار ہیں یا اپنی قابلیت سے کہیں کم تر اور غیر محفوظ کام کرنے پر مجبور ہیں۔
'سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی' (CMIE) کی رپورٹوں کے مطابق، ملک میں 20 سے 24 سال کی عمر کے گریجویٹ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 40 فیصد سے زائد تک پہنچ چکی ہے۔
ا NEET زمرے میں شامل 8.7 کروڑ افراد میں سے نصف سے زیادہ خواتین ہیں، جو سماجی رکاوٹوں، محفوظ روزگار کی کمی اور ہنر مندی تک رسائی نہ ہونے کے باعث افرادی قوت سے باہر ہو چکی ہیں۔
یہ صورتحال کسی اچانک پیدا ہونے والے بحران کا نتیجہ نہیں، بلکہ حکومت کی معاشی پالیسیوں اور ناقص تعلیمی نظام کا زوال ہے۔
ہمارے ملک کا ڈگری دینے والا نظام انڈسٹری کی موجودہ ضروریات سے مکمل طور پر کٹا ہوا ہے۔ کالجوں سے نکلنے والے لاکھوں طلباء کے پاس نظریاتی معلومات تو ہیں لیکن عملی مہارت (Practical Skills) صفر کے برابر ہے۔ پرائیویٹائزیشن کی وجہ سے تعلیم اس قدر مہنگی ہو چکی ہے کہ غریب اور درمیانے طبقے کے طلباء کالج کی ڈگری کے ساتھ اضافی اسکل ٹریننگ کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔
'اسکل انڈیا' (Skill India) اور 'میک ان انڈیا' جیسے نعرے میڈیا کی سرخیوں تک محدود رہے۔ جو کورسز کروائے جا رہے ہیں وہ یا تو پرانے ہیں یا ان کی تکمیل کے بعد مارکیٹ میں نوکریاں دستیاب نہیں ہیں۔
بے روزگاری کا یہ بحران اب سیدھا عام لوگوں کی جیب پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کی حالیہ رپورٹس اور اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ملک میں عام شہریوں کی قوتِ خرید (Purchasing Power) میں نمایاں کمی آئی ہے۔
آر بی آئی کے مطابق، ہندوستانی گھرانوں کی خالص مالی بچت (Net Household Financial Savings) دہائیوں کی سب سے نچلی سطح پر آ گئی ہے۔
ایک طرف روزمرہ کی اشیاء کی قیمتیں اور مہنگائی تیزی سے بڑھ رہی ہے، تو دوسری طرف آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہو رہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عوام صرف بنیادی ضروریاتِ زندگی (خوراک اور علاج) تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔
جب 8.7 کروڑ نوجوانوں کے پاس روزگار نہیں ہوگا اور عام شہریوں کی قوتِ خرید گھٹ جائے گی، تو بازار میں اشیاء کی مانگ (Demand) خود بخود کم ہو جاتی ہے، جس سے معاشی نمو کا پورا پہیہ سست پڑ جاتا ہے۔
حکمران طبقہ 2047 تک ہندوستان کو ایک "ترقی یافتہ ملک" (Viksit Bharat) بنانے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کروڑوں بے روزگار اور غیر تربیت یافتہ نوجوانوں کی موجودگی میں یہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے؟
اگر ملک کی 8.7 کروڑ انسانی طاقت یوں ہی بیکار اور مایوس بیٹھی رہی، تو یہ ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ، "ڈیموگرافک ڈیزاسٹر" (آبادیاتی تباہی) میں تبدیل ہو جائے گا۔ جب نوجوانوں کی توانائی کو مثبت سمت، روزگار اور ہنر سے نہیں جوڑا جاتا، تو اس کے نتیجے میں جرم، نفسیاتی تناؤ، منشیات کا استعمال اور سماجی ناہمواری تیزی سے بڑھتی ہے۔
صرف رپورٹس اور تجاویز پیش کر دینے سے حالات نہیں بدلیں گے۔ اگر حکومت واقعی اس بحران سے نمٹنا چاہتی ہے تو درج ذیل بنیادی قدم اٹھانے ہوں گے:
*تعلیم اور اسکلنگ کو سستا کرنا: غریب اور نچلے طبقات کے لیے پیشہ ورانہ اور تکنیکی تربیت کو مفت یا انتہائی سبسیڈی والے نرخوں پر فراہم کیا جائے۔
*صنعتوں اور تعلیم کا ربط: یونیورسٹیوں کے نصاب کو براہ راست انڈسٹری کی ضروریات کے مطابق دوبارہ ترتیب دیا جائے۔
*سرکاری اور نجی ملازمتی مواقع:محض خود روزگاری (Self-employment) کا دلاسہ دینے کے بجائے مینوفیکچرنگ، ہیلتھ کیئر اور آئی ٹی جیسے شعبوں میں حقیقی اور محفوظ روزگار پیدا کیا جائے۔
8.7 کروڑ نوجوانوں کا مستقبل معلق ہونا صرف ایک معاشی اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں، بلکہ ملک کی جمہوریت اور ترقی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ جب تک نوجوانوں کو نوکری اور ہنر نہیں ملتا، ترقی یافتہ بھارت کے تمام دعوے کھوکھلے ثابت ہوں گے۔
Comments
Post a Comment