بارہ سال کے وعدے اور 72 روپے کی شکر - ازقلم : سید فاروق احمد قادری۔


بارہ سال کے وعدے اور 72 روپے کی شکر - 
ازقلم : سید فاروق احمد قادری۔

کچھ مہینے پہلے تک شکر تقریباً 44 روپے کلو تھی۔ آج بازار گیا تو دکاندار نے بتایا کہ 72 روپے کلو ہو گئی ہے۔ سوچنے لگا کہ آخر شکر کے دام اتنی تیزی سے کہاں جا رہے ہیں؟ جس رفتار سے قیمتیں بڑھ رہی ہیں، خدا جانے کل 100 روپے کلو بھی ہو جائے!

یہ منظر دیکھ کر گزشتہ بارہ سال کے سیاسی وعدے ایک ایک کرکے ذہن میں آنے لگے۔ کالا دھن واپس لانے کا وعدہ، بے روزگار نوجوانوں کو روزگار دینے کا وعدہ، مہنگائی پر قابو پانے کا وعدہ، کسانوں کی آمدنی بڑھانے کا وعدہ، غریبوں کے لیے مختلف اسکیمیں، بچوں کو بہتر تعلیم فراہم کرنے کے وعدے اور عام آدمی کی زندگی آسان بنانے کے دعوے—فہرست خاصی طویل ہے۔

بارہ سال ایک معمولی مدت نہیں ہوتی۔ ایک بچہ ان بارہ برسوں میں اسکول کی کئی جماعتیں مکمل کر لیتا ہے، مگر عام آدمی آج بھی بازار میں کھڑے ہو کر یہی حساب لگاتا ہے کہ محدود آمدنی میں گھر کا راشن کیسے چلے، بچوں کی تعلیم کیسے ہو اور بڑھتے ہوئے اخراجات کیسے پورے کیے جائیں۔

حکومتیں ترقی کے اعداد و شمار پیش کرتی ہیں، منصوبوں کا ذکر کرتی ہیں اور اپنی کامیابیاں گنواتی ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ، لیکن عوام کے لیے ترقی کا ایک بڑا پیمانہ بازار بھی ہے۔ جب ایک گھر کا بجٹ ہر ماہ نئے سرے سے بنانا پڑے اور روزمرہ کی اشیاء کی قیمتیں مسلسل جیب پر بوجھ بڑھائیں تو عام آدمی کے ذہن میں سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ وعدوں اور زمینی زندگی کے درمیان یہ فاصلہ کب کم ہوگا؟

اور پھر شکر کے 44 سے 72 روپے ہونے پر دل میں ایک شرارتی سا خیال آیا:

“کہیں چائے کی دکان کھولنے والا کل وزیراعظم نہ بن جائے، اسی لیے شکر کے دام بڑھائے جا رہے ہیں!”

یہ جملہ محض سیاسی طنز ہے، مگر اس طنز کے پیچھے ایک سنجیدہ سوال بھی ہے: وعدے بہت سن لیے، دعوے بہت سن لیے، اب عوام کو ان وعدوں کا عملی فائدہ اپنی زندگی اور اپنی جیب میں کب محسوس ہوگا؟

عوام کو صرف تقریریں اور وعدے نہیں چاہییں؛ اسے روزگار، مناسب قیمتوں، بہتر تعلیم اور باعزت زندگی کے حقیقی نتائج چاہییں۔ آخرکار حکومت کی کامیابی کا اصل امتحان یہی ہے کہ عام آدمی بازار سے واپس آتے وقت اپنی جیب کو کتنا ہلکا محسوس کرتا ہے اور اپنے مستقبل کو کتنا محفوظ۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔