خواجہ ابوالفیضؒ کے 569ویں عرس کے موقع پر ڈاکٹر محمد علی کو خصوصی ایوارڈ.
بیدر 21 اگست (نامہ نگارمحمد عبدالصمد) حضرت سیدنا خواجہ ابوالفیضؒ بیدر کا 569واں سالانہ عرس شریف نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ تفصیلات کے بموجب حسبِ عمل روایت قدیم خانقاہِ حضرت ممدوح میں حضرت سید شاہ اسداللہ محمد محمد الحسینی المعروف سید ثاقب حسینی صاحب سجادہ نشین و متولی کی نگرانی میں محفلِ سماع منعقد ہوئی۔ بعد ازاں نمازِ عصر کی ادائیگی کے بعد جلوسِ صندل برآمد ہوا۔ بعد نمازِ مغرب حضرت سید شاہ اسداللہ محمد محمد الحسینی صاحب نے جمیع حاضر علمائے دین، مشائخین و معتقدین کی موجودگی میں صندل مالی کی خصوصی خدمات انجام دئے، جبکہ گلہائے عقیدت پیش کرنے، فاتحہ، سلام و نیاز اور تبرکات کی تقسیم کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ اس موقع پر درگاہ شریف میں منعقدہ خصوصی ایوارڈ تقریب میں جنوبی ہند کے معروف فلمی اداکار، حکومتِ آندھرا پردیش کے مشیر برائے الیکٹرانک میڈیا اور محمد باشا چیریٹیبل ٹرسٹ کے چیئرمین ڈاکٹر محمد علی کو ان کی فلمی، سماجی، فلاحی خدمات کے اعتراف میں خصوصی ایوارڈ اور سپاس نامہ پیش کیا گیا۔ تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر درگاہ کے جانشین سجادہ نشین حضرت مولانا سید شاہ معین الدین حسینی چشتی، کامل جامعہ نظامیہ نے ڈاکٹر محمد علی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ عرس شریف کے موقع پر ان کی آمد سے تقریب کی رونق میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے ایس پی بیدر پردیپ گنٹی، حضرت خواجہ سید شاہ عارف اللہ محمد محمد الحسینی چشتی، حضرت سید شاہ زین العابدین حسینی اور دیگر معزز مہمانوں کا بھی استقبال کیا۔ خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا سید شاہ معین الدین حسینی نے حضرت خواجہ ابوالفیضؒ کی حیات و خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آپ کی ولادت 811 ہجری میں گلبرگہ میں ہوئی اور آپ کا اصل نام سید من اللہ حسینی تھا، جبکہ ابوالفیض آپ کی کنیت اور دیگر القاب بیان کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت خواجہ ابوالفیضؒ صرف گنبد، چادر یا پھول کا نام نہیں بلکہ ایک عظیم مفسر، محدث اور فقیہ کی حیثیت سے علمی و روحانی دنیا میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت خواجہ ابوالفیضؒ نے کم عمری میں قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی، نو برس کی عمر میں حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کی اور بعد ازاں عربی و فارسی ادب، صرف و نحو، منطق، فلسفہ اور علومِ شریعت میں کمال حاصل کیا۔ انہوں نے حاضرین پر زور دیا کہ اولیائے کرام سے محبت کو صرف زبانی عقیدت تک محدود نہ رکھیں بلکہ ان کی تعلیمات کو عملی زندگی کا حصہ بنائیں، خود بھی دینی و عصری علوم حاصل کریں اور اپنی اولاد کو بھی تعلیم سے آراستہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت خواجہ ابوالفیضؒ کی تعلیمات میں سچی زبان اور پاکیزہ کردار کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ زبان کو ذکرِ الٰہی اور تلاوتِ قرآن سے آباد رکھنے اور دل میں محبتِ مصطفیٰ ﷺ و اہلِ بیت کی شمع روشن رکھنے سے انسان گناہوں سے بچ کر نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے۔ انہوں نے غیبت سے اجتناب اور حسنِ اخلاق اختیار کرنے کی تلقین کی۔ ایس پی بیدر پردیپ گنٹی نے اپنے خطاب میں ڈاکٹر محمد علی کا دلچسپ انداز میں خیرمقدم کرتے ہوئے بیدر سے ان کے پرانے فلمی تعلق کا ایک واقعہ سنایا، جس پر حاضرین محظوظ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر محمد علی بیدر سے محبت رکھتے ہیں اور ان کی آمد اہلِ بیدر کے لیے باعثِ مسرت ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر محمد علی کو ایوارڈ ملنے پر مبارکباد بھی پیش کی۔ محمد رؤف الدین کچری والے، سابق ریاستی صدر حج کمیٹی نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر الحاج سید حسام الدین عزیر قادری، صدر قاضی بیدر، اور محمد غوث کاپورٹر، مجلسِ بلدیہ بیدر اسٹیج پر موجود تھے، جبکہ جناب سیدشاہ متین الدین حسینی، عمِ سجادہ نشین نے تمام تقریبات کی سرپرستی فرمائی۔ ڈاکٹر محمد علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ فلمی دنیا میں انہیں مختلف ایوارڈز حاصل ہوئے ہیں، تاہم خواجہ ابوالفیضؒ کی بارگاہ سے ملنے والا یہ اعزاز ان کے لیے خصوصی خوشی اور سعادت کا باعث ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے فلمی دنیا میں تقریباً نصف صدی کا سفر مکمل کیا ہے اور مختلف زبانوں کی فلموں میں اداکاری کی ہے۔ انہوں نے اپنے والدین کی تربیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ والدین نے ہمیشہ یہی تعلیم دی کہ انسان دنیا سے کچھ لے کر نہیں جاتا، آخرکار چند گز زمین اور ایک کفن ہی نصیب ہوتا ہے، اس لیے زندگی میں انسانیت کی خدمت کو اپنا مقصد بنانا چاہیے۔ انہوں نے اپنی والدہ کی جانب سے غریبوں کو کھانا کھلانے اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے کے واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خدمتِ خلق کا جذبہ اپنے والدین سے ملا۔ ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ فلمی دنیا ایک بڑے دریا کی مانند ہے اور وہ اس میں خود کو ایک چھوٹی سی مچھلی سمجھتے ہیں۔ تقریباً 48 سالہ فلمی سفر کو انہوں نے والدین کی دعاؤں، عوام کی محبت اور اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے بیدر کے عوام کی محبت اور مہمان نوازی کو سراہتے ہوئے منتظمین اور تمام شرکائے تقریب کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر مولانا مفتی سید سراج الدین نظامی نے ڈاکٹر محمد علی کی سماجی و فلاحی خدمات پر مشتمل سپاس نامہ بھی پڑھ کر سنایا، جس میں انہیں انسانیت کی خدمت، محروم و مستحق افراد کی مدد، یتیم بچوں کی کفالت، صحت کے شعبہ میں تعاون اور دیگر فلاحی سرگرمیوں پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ سپاس نامہ میں ان کی فلمی خدمات کا بھی ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ انہوں نے مختلف زبانوں کی متعدد فلموں میں اداکاری کے ذریعے جنوبی ہند کی فلمی دنیا میں نمایاں شناخت بنائی۔ تقریب کے اختتام پر حضرت سید شاہ معین الدین حسینی اور دیگر منتظمین نے ڈاکٹر محمد علی سمیت تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور حضرت خواجہ ابوالفیضؒ کی بارگاہ سے وابستہ علمی، روحانی، سماجی اور فلاحی خدمات کے تسلسل کے لیے دعا کی۔ رات دیر گئے محفلِ سماع منعقد ہوئی۔ سید شاہ احمداللہ حسینی طارق حسینی، سید شاہ فریدالدین حسینی فضیل چشتی اور سید شاہ فرحان چشتی سمیت دیگر منتظمین نے تقریب کے انتظامات میں اہم کردار ادا کیا۔ اس موقع پر سید شاہ فریدالدین حسینی نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں سلام کا نذرانہ پیش کیا۔خبر لکھے جانے تک 7 ربیع الاول کو بعد نمازِ مغرب جشنِ چراغاں اور مسجدِ درگاہ حضرت ممدوح میں خطاب کی تیاریاں جاری تھیں۔
Comments
Post a Comment