چالیس 40 سالہ تدریسی خدمات کے بعد عبدالستار سر سبکدوش - مولانا آزاد اسکول و مجیدیہ ہائی اسکول ناندورہ کے جملہ اسٹاف کی جانب سے پُروقار الوداعیہ۔


ناندورہ، 31 جولائی (راحیل انجم): مولانا آزاد اسکول و مجیدیہ ہائی اسکول ناندورہ کے سینئر و مخلص استاد عبدالستار سر اپنی 40 سالہ طویل اور قابلِ قدر تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد 31 جولائی بروز جمعہ سبکدوش ہوگئے۔ اس موقع پر ادارے کے جملہ اسٹاف کی جانب سے ان کے اعزاز میں ایک پُروقار اور جذباتی الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
تقریب کی صدارت ادارہ کے صدر ایڈووکیٹ عبدالرفیق سیٹھ صاحب نے کی، جبکہ عبدالستار سر کے دیرینہ ساتھی اور سابق استاد ذکراللہ سر اور سر کے دو سابق طلبہ ایڈووکیٹ متین طالب اور محمد عارفین راحیل بطور مہمانانِ خصوصی شریک ہوئے۔
تقریب کا آغاز نظام الدین سر کی پُرسوز و مسحور کن آواز میں تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں اعجاز سر نے عبدالستار سر کی ابتدائی تعلیم اور ان کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے جذباتی انداز میں اپنے خیالات پیش کیے۔
مولانا آزاد ہائی اسکول کے صدر مدرس کرامت سر نے عبدالستار سر کی طویل تدریسی خدمات کو مؤثر انداز میں سراہتے ہوئے مختلف اشعار کے ذریعے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
سینئر استاد ناصر سر نے عبدالستار سر کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات اور دورانِ ملازمت پیش آنے والے مختلف تجربات بیان کرتے ہوئے ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
ادارے کے سی ای او آصف خان پٹھان سر نے عبدالستار سر کی سبکدوشی کو ادارے کے لیے ایک بڑا خسارہ قرار دیتے ہوئے ان کی طویل خدمات اور ادارے کی تعمیر و ترقی میں ان کے کردار پر جامع انداز میں روشنی ڈالی۔
ماجد سر نے ساتھی اساتذہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب ادارے کی ذمہ داری ہمیں اسی اخلاص، محنت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ نبھانی ہے جس طرح عبدالستار سر نبھاتے رہے ہیں۔
عبدالستار سر کے دیرینہ رفیق اور حال ہی میں سبکدوش ہونے والے ذکراللہ سر نے نم آنکھوں سے اپنے ساتھی کو الوداع کہا۔ انہوں نے عبدالستار سر کے ساتھ اپنے ذاتی تجربات اور پرائمری سے ہائی اسکول تک ادارے کے سفر میں پیش آنے والی مشکلات کا دلنشیں انداز میں ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ادارے کو عبدالستار سر جیسی مخلص اور باصلاحیت شخصیت میسر نہ ہوتی تو شاید ادارہ آج جس مقام پر ہے، وہاں تک پہنچنا ممکن نہ ہوتا۔ اس موقع پر اسکول کی سابق معلمات محترمہ شمس النساء باجی اور محترمہ نسیم باجی کی خدمات کو بھی یاد کیا گیا۔
عبدالستار سر کے سابق طلبہ ایڈووکیٹ متین طالب اور محمد عارفین راحیل نے بھی اپنے استاد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے منفرد اندازِ تدریس، مشفقانہ رویے اور طلبہ کے ساتھ محبت و شفقت کا ذکر کیا اور ان کی آئندہ زندگی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
تقریب کے آخر میں عبدالستار سر نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے ادارے کی مینجمنٹ، انتظامیہ اور تمام رفقائے کار کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ 40 سالہ تدریسی سفر کے دوران انہیں ساتھیوں کی جانب سے ہمیشہ محبت، تعاون، عزت و احترام حاصل رہا، جسے وہ اپنی زندگی کا قیمتی سرمایہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے الوداعی تقریب میں ساتھیوں کی جانب سے کیے گئے عزت و اکرام پر بھی اظہارِ تشکر کیا۔ اس موقع پر رفقائے کار نے بھی عبدالستار سر کی طویل اور بے لوث خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں محبت و احترام کے ساتھ رخصت کیا۔
اپنے خطبۂ صدارت میں ادارے کے صدر ایڈووکیٹ عبدالرفیق سیٹھ صاحب نے کہا کہ عبدالستار سر بظاہر ملازمت سے سبکدوش ہو رہے ہیں، لیکن وہ ہمیشہ ادارے کے ساتھ جڑے رہیں گے اور ان کی رہنمائی و خدمات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
تقریب کی نظامت کے فرائض محسن خان سر نے نہایت عمدگی سے انجام دیے۔ صدرِ تقریب کی اجازت سے تقریب کا اختتام انتہائی جذباتی ماحول میں ہوا، جہاں ساتھی اساتذہ اور شاگردوں نے اپنے محبوب استاد کو نیک تمناؤں اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔
عبدالستار سر کی 40 سالہ تدریسی خدمات محض ایک ملازمت کا اختتام نہیں بلکہ ایک ایسے عہد کا اختتام ہے جس میں بے شمار طلبہ نے ان کی علمی رہنمائی، تربیت اور شفقت سے فیض حاصل کیا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔